BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 July, 2007, 13:41 GMT 18:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہم ’ریڈ الرٹ‘ پر ہیں‘
’بہت شدید لڑائی ہو رہی ہے‘

ڈاکٹر خان اسلام آباد کے فیڈرل گورنمنٹ سروسز ہسپتال میں کام کرتےہیں جو لال مسجد سے صرف 850 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ پچھلے منگل کو ہسپتال میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر خان نے ہمیں پچھلے منگل سے آج تک کی صورت حال کے بارے میں بتایا۔


’بہت شدید لڑائی ہو رہی ہے‘

’ہم ساری دنیا سے بےخبر آپریشن تھیٹر میں تھے، جب ہمیں ہسپتال خالی کرنے کے احکامات ملے۔ صرف بیس منٹ میں سات سو بیڈ خالی کر دئیے گئے۔ ہم نے صرف چند ایسے مریضوں کو ہسپتال میں رہنے دیا، جن کی حالت بہت خراب تھی۔ تب سے ہم ’ریڈ الرٹ‘ پر ہیں اور زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں۔

پہلے دن سے ہی زخمیوں کو ادھر لایا جا رہا ہے۔ ہمارے ہسپتال میں پہلی موت ایک رینجر کی ہوئی، جس کو گولی لگی تھی۔ زیادہ تر لڑکیوں کو گھٹن اور آنسو گیس کی شکایت تھی۔ پہلے دن کوئی ڈیڑھ سے دو سو تک متاثرین ہسپتال لائے گئے۔

اب تک صرف اس ہسپتال میں چھبیس ایسے افراد لائے گئے ہیں جنہیں گولیاں لگی ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ ایسے افراد کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

کل میں رات کی ڈیوٹی پر تھا۔ قریب چار بج کے بیس منٹ پر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس سے میں جاگ گیا۔ تب سے مشین گن اور بھاری اسلحے کی آوازیں مسلسل سنائی دے رہی ہیں۔ صاف پتہ چلتا ہے کہ بہت شدید لڑائی ہو رہی ہے۔

اب تک یہاں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کسی زخمی کو نہیں لایا گیا ہے۔ انہیں چار خصوصی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے قریبی سپورٹس سٹیڈیم سے تیس کلومیٹر دور واقع خصوصی ملٹری ہسپتال لے جایا جا رہا ہے۔ اس ہسپتال تک کسی کو رسائی نہیں، اس لیے یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ہم نے سنا ہے کہ مسجد کے علاقے میں موجود صحافیوں پر گولی چلانے کے احکامات ہیں۔ ہسپتال کے باہر کئی دن سے کئی صحافی کھڑے ہیں۔ آج صبح میں نے کچھ سکیورٹی والوں کو صحافیوں پر تشدد کرتے دیکھا۔

عجیب بات یہ ہے کہ ہمارا ہسپتال صبح نو بجے سیل کر دیا گیا اور اب ملٹری ایمیولنسس کو بتا رہی ہے کہ انہیں کون سے ہسپتال جانا چاہیے۔ شاید ہمارے ہسپتال کے لیے کوئی خاص منصوبہ ہو۔‘


ڈاکٹر امجد محمود، ڈپٹی ڈائریکٹر، پمز ہسپتال

ہمارے پاس کل انیس مریض لائے گئے جن کی اکثریت مختلف چیزوں کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہوئی تھی۔ تمام زخمی مرد تھے۔

اس کے علاوہ ہمارے پاس چار زخمی فوجی بھی لائے گئے تھے جنہیں بعد میں راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔

جہاں تک سہولیات کا تعلق ہے تو ہم ہر لحظ سے تیار ہیں۔ چونکہ یہ ایک ٹِیچنگ ہسپتال ہے اس لیے ہمارے پاس ہر قسم کے ماہرین موجود ہیں جو آنے والے زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
’محصور‘ بچوں کے رشتہ دار’گولی کی آواز دل پر‘
مسجد میں’محصور‘ بچوں کے رشتہ داروں کے تاثرات
لال مسجدلال مسجد آپریشن
آخر حکومت کیا بات چھپانا چاہتی ہے؟
آپ کی رپورٹکیا آپ وہاں ہیں؟
لال مسجد کی تازہ ترین صورت حال ہمیں لکھیے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد