ذیشان بلاگ: مشن نامکمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ذیشان قمر متحدہ عرب امارات کی ایک نجی کمپنی میں سوفٹ ویئر انجنیئر ہیں۔ وہ اپنی سالانہ چھٹیوں پر جانے کی تیاریوں میں تھے، جب کشمیر اور سرحد کے علاقوں میں زلزلہ آیا۔ اس دوران عدنان کی ڈائری پڑھنے اور ٹیلیفون کے ذریعے ان سے رابطہ کرنے کے بعد انہوں نے اپنی چھٹیوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ متحدہ عرب امارات کی پاکستانی کمیونٹی کی مدد سے کچھ امدادی سامان لے کر پہنچے ہیں۔ اس دوران انہوں نے ہمارے لیے ایک مختصر ڈائری قلم بند کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات سے جتنی امیدوں اور ولولوں کے ساتھ آیا تھا، اس سے کہیں زیادہ فکر اور پریشانیوں اور اگر سچ پوچھیں تو اس سے کہیں زیادہ مایوسی لے کر واپس جا رہا ہوں۔ کتنے ہی خواب صرف خواب ہی رہے اور ان کو تعبیر نہ مل سکی۔ آٹھ روز کا سفر صرف داستانیں سنتے اور زندہ لاشیں دیکھتے گزر گیا۔ کل جب واپسی کا سفر شروع کیا تو ڈرائور عبدالرحمان کی بھی اپنی کہانی تھی۔ چار بھانجے مر گئے اس کے، ایک بہن۔۔۔ایک بھانجا، عبداللہ، رضوان پبلک سکول میں اس وقت تک زندہ رہا جب تک یہ لوگ ملبہ ہٹاتے رہے۔ عبداللہ کے والد اسے آواز دیتے رہے کہ بیٹا ڈرو نہیں، بس ابھی آپ کو نکال لیں گے۔ اور وہ بھی جواب دیتا رہا کہ ابو مجھے یہاں سے نکالیں۔ لیکن ملبے کے ہٹتے ہٹتے وہ بھی ہلاک ہو گیا۔ عبدالرحمان نے بتایا کہ عبداللہ اس کی بہن کے گھر شادی کے پندرہ سال بعد پیدا ہوا تھا۔ اب اس کی ماں اس کے غم میں نیم مردہ سی زندگی گزار رہی ہیں۔ یہ کہہ کر عندالرحمان کی آواز ڈوب گئی۔ میں فوج کے ان جوانوں کی جواں مردی اور حوصلے کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا جو مظفرآباد - نیلم روڈ پر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ مگر ساتھ ہی میں مجموعی حکومتی کارکردگی سے بالکل مطمئن نہیں ہوں۔ کسی کے گھت پانچ ٹرک نکل سہے ہیں اور کہیں فاقے۔۔۔اور جن لوگوں کو مل بھی رہا ہے وہ ذلت ہی عزت نفس کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ رلیف کا مطلب جوس اور دودھ کے ڈبے دینا ہی نہیں بلکہ لوگوں کی تکلیف دور کرنا ہے۔ امدادی کارروائیاں ذاتی مفادات اور سیاسی اثرورسوخ کی نظر ہوتی جا رہی ہیں۔ ریاست اور فرد کا تعلق کاغذی اور رسمی ہے۔ ساری توجہ خبریں بنانے پر لگی ہوئی ہے۔ متاثرہ علاقوں کے ہر گھر کی اپنی کہانی ہے اور ان کہانیوں کی حکومتی رپورٹوں سے موافقت ضروری ہے۔ نیلم کے حالات اب بھی بہت خراب ہیں اور وہاں سٹیل شیٹوں کی بہت ضرورت ہے۔ میرا مشن ابھی بھی نامکمل ہے اور مجھے ڈر ہے کہ آٹھ اکتوبر ’تاریخ‘ نے بن جائے۔۔۔
ہمارے پاس جو رضاکار ہیں ان سب کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں، ہر بندے کوواپس جانا ہے، جیسے اگر میں اتوار کو نکلتا ہوں تو شب تک اسلام آباد پہنچوں گا، چودہ تاریخ میں اپنی فیملی کے ساتھ گزاروں گا اور پندرہ تاریخ کو میری واپس فلائٹ ہے۔ ہمارا امدادی بیس بن گیا ہے لیکن اسے چلانے کے لئے امدادی کارکنوں کی ضرورت ہے۔ رضاکاروں کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم سب تمام وقت یہاں رہ سکیں۔ ہمیں اشد ضرورت ہے ایسے لوگوں کی جوآگے آئیں اور اپنا تھوڑا سا وقت یہاں لگاسکیں۔ تھوڑا سا وقت سے ہمارا مراد ہے چھ دن سے کم نہیں اور آٹھ دن سے زیادہ ہم کسی سے مانگتے نہیں۔ ان حالات میں آٹھ دن کام کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ ہم ایسا میکانِزم بنا رہے ہیں کہ لوگ یہاں آئیں، سیٹل ہوجائیں اور آٹھ دن کام کرنے کے بعد واپس چلے جائیں۔ لہذا ہمیں ابھی فوری طور پر امدادی کارکنوں کی ضرورت ہے۔ ابھی ہماری توجہ نیلم ویلی پر مرکوز ہے، آج کچھ لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا جو نیلم سے آئے تھے، ہم نے جاکر ان کو دیکھا کہ وہ کافی برے حالات میں ہیں، ان میں کچھ آٹھ یا نو فیملیاں تھیں جن کو ہم نے مظفرآباد میں ہی سیٹ اپ لگاکر دیا، ان میں کچھ لوگوں کی کہانیاں دل ہلادینے والی تھیں، ایک بچے کا ذکر کرنا چاہوں گا جس کا نام ہے محمد منیر۔ زلزلے کے ایک ماہ سے چار پانچ روز اوپر ہوچکے ہیں، اس کے والد کی لاش اب تک نہیں ملی جو نیلم اور مظفرآباد کے درمیان کہیں دب گئی۔ یہ بچہ اپنی والدہ اور اپنے بھائی کے ساتھ یہاں آیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کچھ فیملیاں تھیں جن میں تین بیوائیں ہیں، ان میں سے دو کے بچے تھے لیکن وہ بڑے تھے۔ منیر کافی چھوٹا تھا، اس سے جب میں نے پوچھا کہ تعلیم کیا ہے اور آگے کیا کرنا ہے تو کہہ رہا تھا کہ والد نہیں رہے، میرے لئے ممکن نہیں اور گھر میں سب سے بڑا ہوں اور والد صاحب کی لاش بھی نہیں ملی۔ مسئلہ یہ ہے کہ شناختی کارڈ ان کی جیب میں تھا جو نہیں مل سکا، شناختی کارڈ کی بنیاد پر ہی چیزیں یہاں لوگوں کو ملتی ہیں، میں کس طرح ثابت کروں کہ ہم ضرورت مند ہیں، میری اپنی عمر اتنی کم ہے میرا اپنا شناختی کارڈ تو ہے بھی نہیں۔ یہ بچہ دو دن قبل یہاں آیا تھا، اور بھی فیملیاں یہاں آئی ہیں جنہوں نے کھلے آسمان تلے رات گزاری۔ وہاں کے مسائل تو اپنی جگہ، یہاں مظفرآباد میں شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے کتنے مسائل پیدا ہوتے جارہے ہیں۔ جو یہاں رہنے والے تھے ان کو تو پہلے ہی ریلیف مل چکا، کچھ نے سیاسی اثر کا استعمال کرکے کافی امداد لے لی، کچھ کو کچھ نہیں ملا۔ لیکن جن کو اچانک باہر سے اٹھاکر یہاں لایا جاتا ہے وہ یہاں آکر بےیارو مدد گار ہوجاتے ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب نے ایک اچھی بات کہی، اگر بیس لوگ آٹے کی بوریاں لیکر اوپر چلے جائیں یا راستہ کھول دیں تو ایسے لوگوں کو ریلیف جلدی مل جائے گا۔ لیکن یہ ممکن نہیں کیوں کہ یہ راستے ابھی اگر کھل بھی گئے تو بارش ہوتے ہی پھر سے مٹی کے تودے گرنے لگیں گے اور پھر راستے بند ہوجائیں گے، یہاں کا پہاڑ جو ہے وہ ریزہ ریزہ ہوچکا ہے، ہر وقت گرتا رہتا ہے، جو لوگ ان علاقوں میں رہ رہے ہیں ان کے لئے سردی بھی مشکل ہے، اور اگر انہیں یہاں لایا جارہا ہے تو یہاں بھی مشکل ہے، ریلیف دینے والے ادارے بھی یہ سوچنے لگے ہیں کہ دوسرا مرحلہ شروع ہوچکا ہے اور اب وہ تعمیر نو کی جانب توجہ دیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں کو لایا جارہا ہے انہیں یہاں اترتے ہیں ایک طریقے سے ہر کچھ دینے کا انتظام کیا جائے، اگر انہیں یہاں ہیلی پیڈ پر اتارکر چھوڑ دیا جائے تو ان کے لئے تو یہ ایک اور جھٹکا ہوگا۔ ان لوگوں کو ریلیف دینے کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔
کل رات گئے مظفر آباد پہنچنے اور عارضی کیمپ میں تھوڑا آرام کرنے کے بعد صبح سے ہم نے اپنی امدادی کارروائی شروع کر دی۔ صبح کچھ لوگوں کی مرہم پٹی کی اور ان کو ضروری دوائیں دیں۔ زخمیوں میں سے چند نے بتایا کہ کہ ایک خاتون کو ہماری ضرورت ہے۔ اس خاتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے ابھی تک اپنے دوسرے بچے کی لاش نہیں ملی اور وہ چاہتی ہے کہ تین ہفتے کے پڑے ملبے سے کوئی اسکے بچے کی لاش نکال دے۔ ہم دوپہر کو اس خاتون کی بتائی ہوئی جگہ پہنچے۔ اس نے بتایا کہ کہ اس کے دو بیٹے تھے۔ دونوں سی ایم ایچ روڈ مظفرآباد کے ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھتے تھے۔ زلزلے میں سکول کی عمارت کا خاصا بڑا حصہ تباہ ہوگیا۔ جن بچوں کی لاشیں نکالی گئیں ان میں اس کا بڑا بیٹا بھی تھا لیکن اس کے دوسرے چھ سالہ بچے کی لاش کا ابھی تک کچھ پتا نہیں۔ ہماری ٹیم میں شامل ہم پندرہ لوگ اس خاتون کی بتائی ہوئی جگہ سے ڈھائی گھنٹے تک ملبہ ہٹاتے رہے لیکن علی اصغر کا کوئی نام ونشان نہیں تھا۔ اندھیرا پھیلنے لگا تو ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ کام روک دیں اور کل صبح آکر پھر علی اصغر کی تلاش شروع کریں۔ لیکن سچ پوچھیں تو میں بہت پر امید نہیں ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مقامی لوگوں کو اس بارے میں کچھ شک نہیں کہ اس سکول میں ڈیڑھ سے دو سو بچے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سکول کی انتظامیہ کی طرف سے لگائے ہوئے بینر پر لکھا ہے ’اصل حقیقت صاف ظاہر کہ سکول کے بچوں کے والدین کے لیے یہ سانحہ ان کی عمر بھر کے اثاثے کا لٹ جانا ہے جبکہ سکول کو متوقع تفتیش سے بچنا ہے اور اس سے بڑھ کر اپنے سکول کو دوبارہ کھولنا اور چلانا ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کی لاشیں چاہیں جو انہیں یقین دلائیں کہ ان کے بچے ہمیشہ کے لیے ان سے بچھڑ گئے ہیں جبکہ سکول کو غرض اعداد و شمار سے ہے، ناموں سے نہیں۔ شام میں ہم امدادی کارروائیوں کے مقامی کمانڈر کے دفتر بھی گئے۔ وہاں پر بھی اعداد و شمار پر لے دے ہو رہی تھی۔ انچارج اپنے ایک ماتحت کو جھاڑ رہے تھے کہ ابھی تک آج کی پروگریس رپورٹ کیوں نہیں تیار ہوئی۔ ماتحت کا کہنا تھا کہ چونکہ امدادی کارروائیوں میں سول انتظامیہ کے کئی ادارے شامل ہیں اس لیے سب سے رپورٹیں لینے میں دیر ہو جاتی ہے۔ اس پر افسر چیخے ’میں تمہارا انتظار نہیں کر سکتا۔ تمہارے پاس جو بھی اعداد و شمار ہیں مجھے دے دو، اوپر رپورٹ بھجوانا ہے۔‘ میں نے سوچا ایک ہلاکت کی خبر تو میرے پاس بھی ہے اور اس ہلاکت کی گواہ خود اس بچے کی ماں ہے۔ کہیں اسی وجہ سے آج کی رپورٹ میں دیر تو نہیں ہو رہی ہے۔ یہ خیال تو مجھے اس وقت آیا اور چلا بھی گیا جب میں اس دفتر میں کھڑا تھا۔ لیکن ایک خیال ہے جو مجھے ستا رہا ہے۔ مجھے شک ہے کہ دفتری لحاظ سے امدادی کارروائیاں اب اس سطح پر آ گئی ہیں جہاں ان میں ایک باقاعدہ انتظام اور ڈسپلن کا عنصر آ چکا ہے۔ بظاہر تو یہ بات تسلی کی ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ جب بھی کوئی امدادی کارروائی کسی باقاعدہ نظام کا حصہ بنتی ہے تو اس میں جذبہ کم اور اعداد و شمار زیادہ ہو جاتے ہیں۔ پھر مسئلہ یہ نہیں رہتا کہ علی اصغر کی ماں کو اسکی لاش ملی یا نہیں بلکہ اہم بات یہ ہوتی ہے کہ آج کی پروگریس رپورٹ کا کیا ہوا، آج کی فائل میں کیا جائے گا؟
آج عید ہے۔ ٹوٹے ہوئے قدموں کے ساتھ عید کی نماز پڑھنے گیا۔ نئے کپڑے تن بوجھل تھے مگر کیا کرتا کہ گھر والے بنوا چکے تھے۔۔۔گپوچھا کہ اگر ہمارے گھر مرگ ہوگئی ہوتی تو کیا کرتے مگر جواب ندارد۔۔۔ ہمارا مسئلہ یہی دوہرا رویہ ہے۔ خاندانی نظام سے لیکر حکومتی نظام تک۔ اب کے حکومتی بیانات اور آٹھ اکتوبر کے فوراً بعد کے حکومتی بیانات کا فرق دیکھ لیں۔ ہم بارہ اکتوبر کو ایمرجنسی تو نافذ کرسکتے ہیں لیکن تہتر ہزار کے مرنے کے بعد سوائے عالمی برادری کی بے حسی پر رونے پیٹنے کے کچھ نہیں کرسکتے۔ اگر صورتِ حال کو شروع سے اس کے سامنے واضح کیا جاتا تو حالات اتنے ابتر نہ ہوتے۔ برف سر پر ہے، کتنے ہی لوگ بغیر چھت اور گرم کپڑوں کے کھلے آسمان کے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔ تاریخ ایک عظیم سانحے کی طرف بڑھی جارہی ہے اور روکنے والا کوئی نہیں۔
میں عدنان کے پاس پہنچنے کا انتظار کر رہا ہوں۔ میں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے دوستوں سے وعدہ کیا تھا کہ تصاویر ضرور بھیجوں گا لیکن دورانِ سفر میرا کیمرا ’غیبی ہاتھوں‘ کے ہتھے چڑھ چکا۔ لگتا ہے دیس آنے کے تحفے ملنے شروع ہوگئے ہیں۔ انشاء اللہ عید کے بعد مارکیٹ کھلتے ہی خریدوں گا۔ شام کو مرگلہ ٹاورز کا گراؤنڈ زیرو دیکھنے گیا۔ ساتھ والی سڑک پر گھاس بڑھی ہوئی ہونے اور سٹریٹ لائٹس نہ ہونے کی وجہ سے گاڑی فٹ پاتھ پر چڑھا دی۔ شکر ہے کہ میں اور چھوٹا بھائی محفوظ رہے، بس گاڑی کو تھوڑا نقصان پہنچا۔ عید کی تیاریاں عروج پر ہیں، مارکیٹ کے حالات دیکھ کر لگتا نہیں کہ یہاں صرف پچیس روز پہلے اتنی بڑی قیامت گزر گئی ہے۔ نو گیارہ کو پوری دنیا نے نہیں بھلایا، مگر مجھے یقین ہوچلا ہے کہ آٹھ اکتوبر جلد دم توڑنے والا ہے۔
متحدہ عرب امارات سے جب چلا تھا تو نہ جانے کتنے ہی خیالوں کے ساتھ چلا تھا۔۔۔جب صبح اسلام آباد ائیرپورٹ پر جہاز نے لینڈ کیا تو میرے تصور میں نہ جانے کیوں تھا کہ جب ہم ائیرپورٹ سے باہر نکلیں گے تو ہر طرف افراتفری کا عالم ہوگا۔ لوگ زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے کوشاں ہونگے۔ ائیرپورٹ پر ہمیں کئی گھنٹے صرف اس لیے انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ امدادی سامان کو پہلے اتارا جائے گا، ائیرپورٹ پر جگہ جگہ امدادی سامام کے ڈھیر ہونگے اور امدادی کارکن انہیں مطلوبہ جگہوں تک پہنچانے کے لیے سرگرم ہونگے۔ ہر شخص غم زدہ ہوگا، ہر چہرہ اداس ہوگا۔۔۔لیکن ایسا بالکل نہیں ہوا۔ ہر چیز ویسی ہی نارمل تھی جیسی ہو سکتی ہے۔ کہتے ہیں کہ فائلوں اور مردوں کے لیے سرد خانے بہترین جگہ ہوتے ہیں، اور میرے دیس میں تو سرد خانوں کی کوئی کمی نہیں۔ سن سینتالیس سے لے کر اب تک ہم اپنا ہر غم ایسے ہی سرد خانوں کی نظر کرتے آئے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی رکتا دکھائی نہیں دیتا۔ لاچار اور بےبس زخمیوں کی آوازیں حکومتی ایوانوں سے دور بہت دور ہی دم توڑتی جا رہی ہیں اور جو یہاں تک پہنچ پاتی ہیں وہ ’سب کنٹرول میں ہے’ کے شور میں دب سی گئی ہیں۔ کرکٹ اور عید کے ہنگامے میں نہ جانے کتنی ہی اور چیخیں دم توڑنے والی ہیں، کہا نہیں جا سکتا۔ یہ عالم دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں اور قیامت کیا ہوگی۔۔۔کہیں عید کی تیاری اور عید کے کپڑے۔۔۔اور کہیں کفن ہی عید کے کپڑے۔۔۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||