BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 12 December, 2005, 14:53 GMT 19:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رشوت کی خفیہ ریکارڈنگ
بی جے پی رہنما معطل
بی جے ارکان کے علاوہ حکمراں جماعت کانگریس، آر جے ڈي اور بی ایس پی کے اراکین کو بھی رشوت لیتے ہوئے رکارڈ کیا گیا ہے۔
بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے اپنے چار ارکان پارلیمان کو رشوت لینے کے الزام کے بعد معطل کردیا ہے۔

پارٹی کے صدر ایل کے اڈوانی نے یہ فیصلہ ایک نجی ٹی وی چینل کی ایک خفیہ ریکارڈنگ کی بنیاد پر کیا جس میں ان ارکان پارلیمان کو دونوں ایوانوں میں حکومت سے مخصوص سوالات کرنے کے عوض میں رشوت لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اس فیصلے پر آپ کا کیا رد عمل ہے؟ کیا برصغیر میں سیاسی بد عنوانی معمول بنتی جا رہی ہے؟ کیا خفیہ ریکارڈنگ کے ذریعے بدعنوانی کو سامنے لانا صحیح ہے؟ کیا اس طرح کا سلسلہ پاکستان میں بھی شروع ہونا چاہیے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

شاہ مراد تالپور، کراچی، پاکستان:
یہ ایک اچھی ترقی ہے اگر یہ پاکستان میں ہو جائے تو پتا چلے گا کہ ہمارے سیاستدان کتنے پانی میں ہیں۔ ہمارے ہاں تو دال میں کالا نہیں بلکہ کالے میں دال ہے۔

انجم ملک، جرمنی:
پاکستان میں بدعنوانی سرِ عام ہوتی ہے مگر کوئی اس کو نہیں روکتا کیونکہ ہماری عدلیہ کمزور اور مفلوج ہے۔ 1947 کے بعد سے اب تک کسی شخص نے بھی آج تک جمہوریت اور آزادی کا مزہ نہیں چکھا۔ ہمارے ہاں کرپشن اور بد عنوانی کی روک تھام کرنے والے تمام ادارے ہی کرپٹ اور بدعنوان ہیں۔

ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان:
پاکستان ہو یا انڈیا، کرپشن ہر تیسری دنیا کے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس میں ہمارے سیاستدانوں کا نہیں سسٹم کا قصور ہے۔

مظفر نظر شھزاد، جھنگ، پاکستان:
کرپشن کرنے والے سیاستدانوں کے راز کھولنا بہت اچھا قدم ہے۔ کرپش انڈیا اور پاکستان کے معاشرتی زوال کی جڑ ہے۔ کرپش ختم کرنے کی لیے میڈیا کے ان بےدریغ اقدامات کی تائید کرنی چاہیے۔

عاصف ججہ، ٹراونٹو، کینیڈا:
یہ انڈیا میں نئی بات ہے، دونوں ملکوں کے افسران کرپٹ ہیں۔ پاکستان آرمی امریکیوں سے پیسہ لیتی ہے، کیا فرق پڑتا ہے اگر انڈین پارلیمنٹیرین رشوت لیتے ہیں۔

پریس فریڈم
 ایک بات تو ہے کہ ہمارے مقابلے میں انڈیا اپنے پریس فریڈم پر زیادہ یقین رکھتا ہے۔
سیما صدیقی، کراچی، پاکستان
سیما صدیقی، کراچی، پاکستان:
ایک بات تو ہے کہ ہمارے مقابلے میں انڈیا اپنے پریس فریڈم پر زیادہ یقین رکھتا ہے۔ کیا ہمارے سیاستدان کچھ نہیں کرتے؟ بھائی وہ تو تھالی کے بینگن ہیں۔ جب اپنا ہی دامن تار تار ہو تو کسی اور پر انگلیاں کیوں اٹھائیں۔

اسحاق ملک، ملتان، پاکستان:
کاش ہمارہ میڈیا بھی آزاد ہوتا۔ مگر ہمارے لیڈر تصویر کے باوجود مُکر جاتے کہ ہم تو قومی مفاد میں یہ سب کچھ کر رہے تھے، تم نے خوامخواہ ہم پر جھوٹا الزام دھر دیا۔ پاکستانی لیڈر ایسی ویسی حرکتیں اس صفائی سے کرتے ہیں کہ امریکی سی آئی اے بھی انہیں بلیک میل نہیں کر سکتی۔

شاہدہ اکرام، یو اے ای:
بلکل، ایسا ہی کوئی سسٹم پاکستان میں بھی ضرور ہونا چاہیے۔ لیکن ایک بات کہوں کہ ہماری عوام و خواص ان باتوں سے بہت آگے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد کھانے اور کھلانے والے اور بھی محتاط ہو جائیں گے۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
ہمیں خوش ہونے کی بجاۓ چلو بھر پانی میں ڈوب کر مرنا چاہیے کہ انڈین حکومت نے کچھ ان کے خلاف کاروائی تو کی ہے۔ ہماری حکومت کا تو یہ حال ہے کہ ہر نیب زدہ کو وزیر بنا دیا ہے اور ان نیب زدگان کو ملکی خزانے کی تجوری کا مالک بنا کر اسلام کا نام بھی بدنام کر دیا ہے۔

احمد علی سید، حیدرآباد، پاکستان:
پھول کی پتّی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر

ہندستان کو ایک اور اورنگزیب کی ضرورت ہے۔

شازیہ ملک، کراچی، پاکستان:
بالکل۔ ایسے سلسلے کی پاکستان میں بہت ضرورت ہے۔ لیکن پاکستان میں ہر شخص کا اپنا اجینڈا ہوتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میڈیا والے اپنا کام کروانے کے لیے لوگوں کو بلیک میل کرنا شروع کر دیں۔

طاہر صدیق، نامعلوم:
اس طرح کا سلسلہ پاکستان میں بھی شروع ہونا چاہیے تاکہ سیاست دانوں کو کچھ تو شرم آئے۔

شاد خان، ہانگ کانگ:
یہ بالکل صحیح ہے۔ جن صحافیوں نے یہ کارنامہ کیا ہے ان کو خراج تحسین۔ یہ اصل جہاد ہے جو ہم پاکستانیوں کو کرنا چاہیے۔

افشان بابر، سندھ، پاکستان:
جناب پاکستان میں خفیہ رکارڈنگ کی بات نہ کریں تو اچھا ہے۔ جب بی بی سی نے زلزلے کے متاثر لوگوں کا درد بھرا حال اور فوج کی لاپرواہی دنیا کو دکھائی تو بی بی سی پر پابندی لگا دی گئی۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ یہاں ایسا ہونا کتنا مشکل ہے۔

محمد بخش، حیدرآباد، سندھ:
خفیہ رکارڈنگ بھی صحافت کا حصہ ہے کیونکہ اس سے بد عنوان لوگوں کا پتہ چلتا ہے۔ رہی بات پاکستان کت تو وہ انڈیا کہاں ہے۔ انڈیا میں تو جمہوریت ہے اور پاکستان۔۔۔

کرن احمد، کینیڈا:
جی ہاں! یہ بے چارے پکڑے گئے کیونکہ انہوں نے خود کھا لیا ہوگا اور اوپر والوں کو نہیں پہنچایا ہوگا۔ اوپر والوں کے ساتھ مل بیٹھ کر کھاتے تو ایسا کہاں ہوتا۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ اتفاق میں طاقت ہے۔

فرحاج علی، ابو ظہبی:
یہ انڈیا کا مسئلہ ہے۔ اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔

محمد اعجاز، برطانیہ:
یہ کسی کو نہیں پتہ کہ پاکستان میں کرپشن کہاں کہاں اور کتنی ہے۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے اندر اتنی اخلاقی جرات بھی نہیں ہے کہ ہم کسی مجرم کو بےنقاب کر دیں۔ اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ کہ اسی ملک میں ڈاکٹر قدیر خان سے معافی منگوائی جاتی ہے۔۔۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد