لارڈ آف دی رِنگز اور آسکر ایوارڈز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لارڈ آف دی رِنگز ہالی ووڈ میں فلمی دنیا کی مقبول ترین تقریب آسکر اعزازات پر حاوی رہی۔ لارڈ آف دی رنگز نے گیارہ ایوراڈز حاصل کیے۔ ماضی میں صرف بین ہر اور ٹائٹانِک کو گیارہ ایوارڈز ملے ہیں۔ بعض شائقین کا کہنا ہے کہ کچھ اچھی فلمیں جیسے ماسٹر اینڈ کمانڈر، لاسٹ اِن ٹرانسلیشن، مِسٹک ریور اور کولڈ ماؤنٹین کو لارڈ آف دی رِنگز کی وجہ سے نقصان ہوا۔ کیا آپ نے یہ فلمیں دیکھی ہیں؟ کیا آپ نے آسکر اعزازات کی تقریب دیکھی؟ اس تقریب میں ملنے والے اعزازات کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا لارڈ آف دی رِنگز گیارہ اعزازات کی مستحق تھی؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ نوید باوجہ، لاہور: آسکر کی تقریب فیبولس تھی۔ لیکن لارڈ آف دی رِنگز اتنی بھی اچھی فلم نہیں تھی کہ اسے گیارہ ایوارڈ دیے جاتے۔ ابوزین، ٹورانٹو: اس سال کے آسکر ایوارڈ کی تقریب میں مرکزی میزبان نے بہت ہی زیادہ اوورایکٹِنگ کی جس کی وجہ سے سارا مزہ کرکرا ہوگیا۔ میرے خیال میں لارڈ آف دی رِنگز اعزازات کی مستحق تھی۔ لیکن بعض ایوارڈ بالکل غلط دیے گئے ہیں۔ جیسے کہ رینی کو بیسٹ سپورٹِنگ ایکٹریس کا ایوارڈ میرے خیال میں بالکل غلط تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آسکر ایوارڈ میں بھی گھپلا ہوتا ہے۔ محمد عبیر خان، چترال، سرحد: یہ آسکر ایوارڈ کس چِڑیا کا نام ہے؟ لِنڈا اے، برِسبین آسٹریلیا: لارڈ آف دی رِنگز اعزازات کی مستحق تھی۔ لیکن پائریٹس آف دی کیریبین میں جانی ڈیپ نے کتنی اچھی ایکٹِنگ کی؟ محمد یوسف اقبال، دوبئی: اگر اس تقریب میں جنوبی ایشیا کی بھی کوئی فلم ہوتی تو پھر مزہ آتا۔ بہرحال، تقریب اچھی تھی، سب لوگ بہت خوبصورت لگ رہے تھے۔ مجھے لارڈ آف دی رِنگز کے تیسرے حصے کی بہ نسبت پہلے دو حصے زیادہ پسند آئے۔ صلاح الدین لنگا، جرمنی: اب سلطان راہی اور سید نور تو آسکر ایوارڈ لینے سے رہے۔ لارڈ آف دی رِنگز دنیا کی چند بہترین فلموں میں سے ہے۔ سعید احمد، پاکستان: یہ اچھی تقریب تھی۔ لارڈ آف دی رِنگز ایوارڈ کی مستحق تھی۔ فلم کے ڈائرکٹر کو مبارکباد۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں بھی اس طرح کی اچھی فلمیں دیکھنے کو ملیں گی۔ جننا آغا، کراچی: میرے خیال میں لارڈ آف دی رِنگز کو گیارہ سے زائد ایوارڈ ملنے چاہئے تھے۔ یہ سب سے اچھی فلم ہے جو میں نے دیکھی ہے۔ شفیق اعوان، لاہور: بہت خوبصورت تقریب رہی۔ فلم اچھی ڈائرکشن کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اپنے ملک کے ڈائرکٹر کو چاہئے کہ وہ ان فلموں کے بنانے کے عمل سے سبق حاصل کریں۔ عمران چٹھہ، پاکستان: میرے خیال میں یہ لوگ صرف انگلِش لوگوں کو ہی ایوارڈ دیتے ہیں، بہت کم ایسا سننے میں آیا ہے کہ کسی پاکستانی یا انڈین فلم کو ایوارڈ ملا ہو۔ نامعلوم: آسکر کی تقریب اچھی تھی۔ اسد عاطف، کوئٹہ: کاش مجھے شادی کرنے کے لئے انجلینا جولی جیسی کوئی لڑکی مل جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||