پہلی فلم: ’مردانگی تیرے کئی روپ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میں نے اس فلم میں پاکستانی معاشرے میں مردانگی کے بارے میں موجود دوہرے رویئے کی نشان دہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر آپ مرد ہیں، اور عموماً سب کا خیال ہے کہ مرد ایک آزاد اور خودمختار وجود رکھتا ہے جسے اپنی مردانگی کا اظہار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں، تو ہمیں اس نقطہِ نظر کو پھر سے پرکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی معاشرے میں مردانگی کا تصور پیچیدہ ہے اور اس کی کئی پرتیں ہیں جہاں ایک طرف مرد آزاد ہیں، اپنی جنسی طلب کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور عورت کی سیکشوئیلیٹی کے بارے میں کھل کر رائے بھی دیتے ہیں تو دوسری طرف خود اپنی سیکشوئیلیٹی کے مسائل پر کھل کر بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔‘ فلم: مردانگی تیرے کئی روپ فریدہ بتول بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں انہوں نے سال دوہزار تین میں یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز سے ماسٹرز بائے ریسرچ کیا ہے۔ پاکستانی ہم عصر معاشرے کا پاپ کلچر ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔ وہ ’فگر: پاپولر اینڈ پولیٹکل‘ نامی ایک کتاب کی خالق بھی ہیں۔ (سیکشوئیلٹی پر یہ سیریز آئندہ سات ہفتوں تک جاری رہے گی اور تیسرے ہفتے سے منظرنامے کے صورت میں پیش کی جائے گی۔ اگر آپ اس موضوع پر ان میں سے کوئی مضمون یا کہانی ڈھونڈنا چاہیں تو ہماری سائٹ کے سرچ انجن میں انگریزی لفظ ’sex‘ یا اردو میں ’جنسیت‘ ٹائپ کرکے تلاش کرسکتے ہیں۔) |
اسی بارے میں بات تو کرنی پڑے گی23 October, 2006 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||