نئی سیریز: ’بات تو کرنی پڑے گی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بات تو کرنی پڑے گی‘۔ سیریز کا یہ نام عالیہ نے پروپوز کیا تھا اور ہم سب کا خیال تھا کہ ایک انتہائی حساس مگر ضروری موضوع پر بات کرنے کے لیے اس سے بہتر ٹائیٹل نہیں ہوسکتا۔
ظاہر ہے جہاں لوگ ہوں وہاں سیکشوئیلٹی بھی ہوتی ہے اور اس سے جڑی کہانیاں بھی۔ پاکستان کی الماری میں بند جنسی جذبات اور خواہشات کیا ہیں، یہی جاننے کے لیے میں اس سال ایک اپریل کی صبح جب لاہور ائیرپورٹ پر اترا تو گرمی شروع ہوچکی تھی اور میرے پاس سوائے خوف و خدشات کے اور کچھ نہیں تھا۔ لیکن مجھے لینے کے لیے آنے والے ’رینٹ اے کار‘ کے ڈرائیور امجد سے لیکر اگلے ایک مہینے تک جس سے بھی بات کی اس کے پاس اس موضوع پر کہنے کو کچھ نہ کچھ ضرور تھا۔ جہاں لوگوں کے اس ردًِعمل نے میری ہمت بڑھائی وہاں مجھے پہلی حیرت تب ہوئی جب میں نے ایک مشہور سیکسولوجسٹ سے رابطہ کرنا چاہا۔ ملک کے مقبول اردو اخبار میں روز ان کا اشتہار چھپتا ہے۔ وہ ہفتے کے سات دن اپنا وقت لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں تقسیم کرتے ہیں اور ان کی ڈگریز میں یوکے کی سپیشلائزیشن بھی شامل تھی۔ جب میں نے فون پر اپنا تعارف کروایا تو انہوں نے کہا: ’ مگر ہم تو اس پر بات نہیں کرسکتے، یہ تو ہماری اسلامی معاشرتی اقدار کے عین برعکس ہے۔‘ پاکستان میں دو رویئے مجھے واضح طور پر دکھائی دیئے۔ نجی محفلوں میں لوگ اپنے اور دوسروں کے ایڈوینچرز پر بات چیت کرنے کو تیار ہیں لیکن اپنی جنسی زندگی کے بارے میں ایک فرینک حقیقتِ حال بتانے پر کوئی تیار نہیں۔
پاکستان میں ’مسالے‘ کی کمی کبھی نہیں محسوس ہوتی لیکن سیدھی سادھی عام زندگی کی کہانیاں ڈھونڈنا سب سے مشکل کام ہے۔ ہم جنس پرستی ہو، اجتماعی جنسی زیادتی ہو، ’پیشہ یا دھندا‘ ہو یا عورتوں کی آزادی، اس سب پر کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے مگر ایک عام مرد/عورت/لڑکا/لڑکی کے لیے جنسی اظہار کیا ہے اور وہ اسے اپنی روزمرہ زندگی میں ایک بنیادی ضرورت کے طور پر کیسے حاصل کرتا/کرتی ہے، یہ ڈھونڈنا خاصا مشکل کام ہے۔ اول تو اس پر بات کرنے کو کوئی تیار نہیں اور اگر کسی کو آپ پر بھروسہ ہے تو پھر اس موضوع پر بات چیت بھی ایک ظاہری سطح سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر چند لوگوں سے مجھے جو کہانیاں ملیں، انہیں کو غنیمت جانتا ہوں اور آنے والے دنوں میں یہاں پیش کرتا رہوں گا۔ اس سیریز میں میں نے سات مختصرفلمز کمیشن کیں جن میں سے ایک انڈیا اور چھ پاکستان میں بنیں۔ آنے والے دنوں میں آپ یہ فلمیں ہماری ویب سائیٹ پر دیکھ سکیں گے۔ پھر بہت سے لوگوں کی کہانیاں سنیں اور لکھیں، کچھ ایکسپرٹس سے مضامین لکھوائے، کچھ کے انٹرویوز کیے۔ کچھ فوٹو فیچرز کیے اور ایک آدھ سلائیڈ شو کے لیے بھی مواد اکٹھا کیا۔ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے ایک ایسی لکھاری بھی مل گئیں جو بہت بہادری سے عورتوں کی جنسی زندگی کے متعلق حقائق سے پردہ اٹھاتی رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں آپ ان کے مضامین بھی باقاعدگی سے پڑھ سکیں گے۔
غریب لوگوں کی جنسی زندگی کا کیا حال ہے؟ وہ کہاں جاتے ہیں؟ ان کی کیا خواہشات ہوتی ہیں؟ ان کے مسائل کیا ہوتے ہیں۔ اس کے لیے میں نے لاہور کے آر اے بازار میں فٹ پاتھ پر بیٹھنے والے تین حکماء سے رجوع کیا جو جنسی طاقت اور علاج کی دوائیاں بیچتے ہیں۔ ان کا کیا موقف ہے، یہ آپ اس فوٹو فیچر میں دیکھ سکیں گے جو ان پر تیار کیا گیا ہے۔ تاہم اس تمام سیریز کا بنیادی مقصد سیکشوئیلٹی کو زندگی کے ایک جزو کے طور پر دیکھنا ہے۔ اس بحث میں اہم ترین حصہ آپ کا ہے کہ اسی سے ہم جان سکیں گے کہ ہو کیا رہا ہے۔ میری اپنی اس سلسلے میں ہرگز کوئی رائے نہیں ہے۔ کوشش صرف یہی ہے کہ لوگ جو محسوس کرتے ہیں، بلاجھجھک دوسروں سے شیئر کریں۔ آپ ان سے اختلاف کرسکتےہیں، چیلنج کرسکتے ہیں، مکمل رد بھی کرسکتے ہیں لیکن یہ طے ہے کہ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ بات تو کرنی پڑے گی۔ (سیکشوئیلٹی پر یہ سیریز آئندہ سات ہفتوں تک جاری رہے گی اور تیسرے ہفتے سے منظرنامے کے صورت میں پیش کی جائے گی۔ اگر آپ اس موضوع پر ان میں سے کوئی مضمون یا کہانی ڈھونڈنا چاہیں تو ہماری سائٹ کے سرچ انجن میں انگریزی لفظ ’sex‘ یا اردو میں ’جنسیت‘ ٹائپ کرکے تلاش کرسکتے ہیں۔) | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||