’بیچ میں ہے اِک دریا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
(یہ کہانی پہلی مرتبہ چار دسمبر دو ہزار تین میں چھپی تھی جب کشمیر کے دونوں اطراف بس سروس کا آغاز نہیں ہوا تھا اور کشمیریوں کے ایک دوسرے سے مل سکنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔) وادیِ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بھارت اور پاکستان کی فوج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ تو تھم گیا ہے اور اب برسوں سے بچھڑے ہوئے منقسم کشمیری، وادیِ نیلم میں دریا کے دونوں کناروں پر ایک دوسرے کو دیکھنے اور بات کرنے کے لئے روزانہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ دریا جس کے کناروں پر درجنوں منقسم کشمیری جمع ہوتے ہیں مظفر آباد کے شمال مشرق میں وادیِ نیلم میں کیرن کے مقام پر واقع ہے۔ دریا کے دونوں جانب پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے ہیں۔ اس دریا کی چوڑائی پچیس سے تیس میٹر ہے۔ اور یہی فاصلہ کشمیری خاندانوں کے درمیان حائل ہے۔ یہ بچھڑے ہوئے خاندان مل نہیں سکتے۔ البتہ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں اور ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں۔
فاصلے اور دریا کے شور کے باعث ان کو بلند آواز میں بات کرنا پڑتی ہے۔ چالیس سالہ خاتون گلدستہ دریا کے ایک جانب پتھروں پر بیٹھی دریا کے دوسرے کنارے کھڑے بھائیوں، بہنوں اور خاندان کے دوسرے لوگوں کو دیکھتی ہے اور زور زور سے بولتی ہے تاکہ اس کی آواز ان تک پہنچ سکے۔ گلدستہ انیس سو نوًے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے اپنے شوہراور تین بچوں کے ہمراہ مبینہ طور پر بھارتی افواج کی زیادتیوں کے باعث پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آگئی لیکن اس کے خاندان کے بیشتر لوگ کنٹرول لائن کی دوسری جانب رہ گئے۔ ان میں اس کا ایک بیٹا بھی تھا جو اس وقت صرف تین سال کا تھا۔اب یہ بچہ جوان ہو چکا ہے اور وہ دریا کے دوسری جانب اپنی بہنوں اوراپنی ماں کو کھڑا دیکھ سکتا ہے، مگر ان تک پہنچ نہیں سکتا۔ حکام کے مطابق انیس نوًے سے، جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک کا آغاز ہوا، اب تک لگ بھگ بیس ہزار افراد پاکستان کے زیرانتطام کشمیر میں آکر آباد ہو گئے۔
گلدستہ کہتی ہیں ’میں اپنے پیاروں کو گلے لگانا چاہتی ہوں لیکن بیچ میں دریا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کچھ بھی کریں ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں، ہم چودہ برس سے بچھڑے ہوئے اپنے عزیز و اقارب سے ملنا چاہتے ہیں۔ہم یہاں ٹھنڈے پھتروں پر بیٹھ کر ان کو دیکھ سکتے ہیں لیکن مل نہیں سکتے۔‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں بھی ایک دریا امڈ آتا ہے۔ اس دریا کے قریب ایسے مناظر بھی دیکھنے میں آئے کہ دریا کے دونوں کناروں پر کھڑے منقسم خاندانوں کے افراد ایک دوسرے کو تحائف پھینک رہے تھے۔ ٹافیاں، بسکٹ، ناریل، کپڑے حتّٰی کے پکا ہوا کھانا بھی۔ اس کے علاوہ وہ پتھروں میں باندھ کر خطوط بھی پھینک رہے تھے۔ کچھ تحفے دریا کی نذر ہو رہے تھے اور کچھ ان کے پیاروں تک پہنچ رہے تھے۔ سترہ سالہ نصرت اظہار کو ماموں اور خالہ کی طرف سے پھینکے ہوئے تحائف میں کپڑے ملے۔ نصرت کے لئے یہ تحفے بڑے قیمتی ہیں۔ ان کی خالہ نے ان کو سوٹ جبکہ ماموں نے چارد پھینکی۔ نصرت کا کہنا ہے کہ ’یہ کپڑے دریا میں گر کر گیلے ہو گئے لیکن جب ماموں نے کہا کہ یہ چادر سر پر اوڑھ کر مجھے دکھاؤ تو میرے بھائی نے میرے سر پر وہ چادر اوڑھا دی۔ پھر ماموں مجھے دیکھ کر رونے لگے۔‘
کچھ ایسے افراد بھی تھے جو اپنوں کو دیکھنے کی حسرت دل میں لئے واپس چلےآئے۔ انہی میں دلدار خان نامی ایک شخص ہیں جو دو روز سے دریا کے کنارے اپنوں سے ملنے آتے ہیں لیکن وہ ان کو دریا کی دوسری جانب نہ پا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ دلدار کا تقریباً پورا خاندان کنٹرول لائن کی دوسری جانب ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ انیس سو نوًے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آئے تھے اور اس وقت دسویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ وہ پچھلے چودہ سال سے اپنوں سے ملنے اور ان کو ایک نظر دیکھنے کے لئے بے قرار ہیں۔ برصغیر کی تقسیم سے اب تک ہزاروں کشمیری خاندان بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آ کر آباد ہوئے۔ کیا ان منقسم خاندانوں کی اپنے پیاروں سے ملنے کی کوئی صورت پیدا ہوگی؟ کیا آنسو کے قطرے یہ دریا عبور کر سکیں گے؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||