BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 March, 2005, 10:10 GMT 15:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سفر ہے شرط، مسافر نواز بہتیرے

News image
راستے میں ضلع کرک پڑتا ہے۔ کہتے ہیں کہ صوبہ سرحد میں خواندگی کی شرح یہاں سب سے زیادہ ہے۔
سفر پاؤں پر ہو، پہیوں پر یا ہوا کے دوش پر بہرحال تھکا دیتا ہے۔ میں نے تو خیر اپنا ویک اینڈ کراچی میں گزار کر کچھ تھکن دور کر لی تھی لیکن جاوید سومرو اور عائشہ تنظیم نے لندن سے اسلام آباد کا لمبا سفر ختم کیا ہی تھا کہ انہیں دوسرا سفر درپیش تھا۔

لیکن بی بی سی اردو سننے والوں کو سننے کے تصور نے سب کو ایک نئی توانائی دی اور پیر کی صبح ہم اپنے تکنیکی ماہر کامل کے ہمراہ ڈی آئی خان کے لیے روانہ ہوگئے۔ بارش نے بھی پشاور تک ہمارا ساتھ دیا۔ لیکن نمک منڈی میں کڑاہی گوشت اور تِکّوں سے لنچ کے ارادوں پر پانی روایتی ٹریفک جام نے پھیرا جس میں پھنسنے کی وجہ سے ہمارا ایک گھنٹہ ضائع ہوگیا۔

ہمارا پہلا پڑاؤ پشاور پریس کلب تھا جہاں سے رحیم اللہ یوسفزئی اور ہارون رشید بھی ہمارے قافلے میں شامل ہوگئے۔ پریس کلب کے صدر محمد ریاض کی میزبانی نے ہمیں سفر کے اگلے مرحلے کے لیے چاق و چوبند ہونے میں مدد دی۔

پشاور اور کوہاٹ کے راستے میں درہ آدم خیل پڑتا ہے جو برسوں سے ہر طرح کے چھوٹے ہتھیار بنانے اور ان کی فروخت کے لیے مشہور ہے۔ ہمارے کچھ قلم اور کپمیوٹر آشنا ساتھیوں کے لیے تو کلاشنکوف کو چھو لینا بھی ایک انوکھا تجربہ تھا۔ عائشہ تنظیم نے تو بھاؤ تاؤ بھی شروع کر دیا۔ مگر میرے اصرار کے باوجود انہوں نے گولی چلانے کی ہمت نہیں کی۔ البتہ جب دکاندار نے پستول سے دو فائر کیے تو ہمیں لگا کہ ہمارے کانوں کے پردوں کے ساتھ ہمارے مائیکروفون کا پردہ بھی پھٹ چکا ہوگا۔

درے سے کوہاٹ پہنچے تو سڑک کے کنارے سفیدے کے درختوں کے نیچے ٹوکروں میں رکھے امرود دیکھ کر دل للچا گیا۔ کوہاٹ کے امرود خاصے مشہور ہیں۔ ہم نے بھی خریدے۔ اس بہانے دو امرود فروشوں سے بات بھی ہوئی جو بی بی سی اردو سروس سنتے تھے۔ ہمارے ایک ساتھی نے کوہاٹ کے امرودوں کی تعریف ان الفاظ میں کی۔ ’ہیں تو یہ بھی لذیذ مگر لاڑکانہ کے امرود کی بات ہی اور ہے۔‘

راستے میں ضلع کرک پڑتا ہے۔ کہتے ہیں کہ صوبہ سرحد میں خواندگی کی شرح یہاں سب سے زیادہ ہے۔ ڈیرہ اسمعیل خان اور ہمارے درمیان فاصلہ رفتہ رفتہ مٹتا جا رہا تھا۔

راستے میں کہیں کولاچی بھی پڑتا ہے جہاں کے خربوزے اپنے رس اور مٹھاس کے لیے مشہور ہیں۔ البتہ ہم دونوں سے محروم رہنے کے ساتھ اس محاورے کو بھی عملی صورت میں نہ دیکھ پائے کہ ’خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک تو خربوزوں کا موسم نہیں تھا اور دوسرے اندھیرا پھیل چکا تھا۔

ہم بنوں سے گزرے۔ جہاں کا مصالحہ اور نسوار ’مبینہ طور پر‘ بہت اچھی ہوتی ہے۔ مبینہ اس لیے کہا کہ مجھ سمیت ہم میں سے کوئی بھی نسوار کھانے والا نہیں۔ رہی مصالحے کی بات تو ہمیں ڈیرا اسمعیل خان پہچنے کی جلدی تھی اس لیے اس بیان کی بھی ’آزاد ذرائع‘ سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

تمام سفر کافی اچھی سڑک پر طے ہوا تھا البتہ ڈئی آئی خان سے پچیس تیس کلومٹیر پہلے انڈس ہائی وے زیر تعمیر ہونے کے سبب سڑک ناہموار ہوگئی۔ اور یہ سفر لرزے کے عالم میں گزرا۔

اگلے دو روز میں ڈیرہ اسمعیل خان اور ٹانک میں جو پذیرائی ملی اس سے سفر کی تمام کدورت دور ہوگئی۔ کسی نے راستے میں روک کر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کوئی ہمارے ہوٹل پہنچا۔ کئی لوگ دریائے سندھ عبور کر کے بھکر شہر سے بی بی سی کی ٹیم سے ملنے آئے۔ بی بی سی پر لوگوں کے اظہار اعتماد نے احساسِ ذمہ داری میں اور شدت پیدا کر دی۔

اسلام آبادیہ اسلام آباد ہے۔۔۔
سنگت ڈائری: جانا اسلام آباد تھا، پہنچے لاہور
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد