یوم سوگ یا عہدِ سوگ؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, قندیل شام
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
’وہیک اے مول‘ ایک مقبول گیم ہے جس میں ایک بورڈ پر بڑے بڑے چوہے سوراخوں سے اچانک نمودار ہوتے ہیں اور کھلاڑی انہیں سر پر ہتھوڑے مار کر واپس بلوں میں گھسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی ایک چوہے کے سر پر وار ہوتا ہے تو کسی اور سوراخ سے ایک دوسرا نمودار ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں ضرب عضب اور کراچی آپریشن میں، جہاں اسٹیبلشمنٹ انواع و اقسام کے چوہوں کو بلوں میں گھسانے میں مصروف ہے اب ایک نیا چوہا سر ابھارتا نظر آ رہا ہے۔
فرقہ وارانہ تشدد ملک میں کراچی سے کوئٹہ، کوئٹہ سے کرم ایجنسی تک پھیلا ہوا ہے۔ کراچی میں بالخصوص نہ تو شعیہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ اور نہ ہی ان پر بم حملے کوئی نئی بات ہیں لیکن اب تک اسماعیلی برادری اس سے نسبتاً محفوظ رہی ہے۔
ان پر حملے ضرور ہوئے ہیں، جیسا کہ اگست 2013 میں ایک جماعت خانے پر دستی بم کے حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے لیکن اس سے قبل ان کو اتنے منظم انداز میں اور اتنے بڑے پیمانے پر نشانہ نہیں بنایا گیا۔
عارف رفیق واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ سے منسلک ہیں۔ ان کے خیال میں یہ تازہ حملہ شدت پسندوں کی سوچ اور لائحہ عمل میں تبدیلی کا عندیہ دیتا ہے۔
بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے لیے خود کش حملے ایک عرصے تک انتہاپسندوں کا بنیادی ہتھیار رہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ تباہی کی کاؤش میں اپنی جان دے دینا ان کے لیے ایک معمول کی بات رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
لیکن پچھلے سال پشاور میں آرمی پبلک سکول اور اب اسماعیلی بس پر حملے کے بعد، جس میں مسلح افراد نے بے رحمی سے ’سافٹ ٹارگٹ‘ کو چن چن کر مارا، ان کے طریقہ کار میں ایک واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔
عارف رفیق کے مطابق:’ایک پریشان کن امر ہے۔ لگتا ہے کہ وہ اپنے لیے زیادہ سے زیادہ سہل ٹارگٹ ڈھونڈ رہے ہیں جس کے لیے نہ تو کسی خاص منصوبہ بندی کی ضرورت ہو اور جنھیں عام ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا ہو۔ اس میں ہم ایک طرح سے ٹارگٹ کلنگ اور وسیع تباہی کا ملاپ دیکھ رہے ہیں جس میں انتہا پسندوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ ایسے حملوں کے بعد با آسانی فرار ہو کر نئے اہداف ڈھونڈنا شروع کر دیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن امریکی تھنک ٹینک سٹریٹفور کے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے مشیر کامران بخاری کے خیال میں حالیہ حملے اور ہزارہ برادری پر ہونے والے حملوں میں کوئی قابل ذکر فرق نہیں۔
ان کے خیال میں یہ حملہ انتہا پسندوں میں ایک طرح کی مایوسی اور اپنی طاقت کے فوری اظہار کی شدید ضرورت کا عندیہ دیتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
’اب وہ اس صورتحال میں نہیں کہ جب چاہیں، جہاں چاہیں حملہ کر سکیں۔ لگتا یوں ہے کہ اب ان کی ذہنیت سب یا کچھ نہیں جیسی ہے۔ وہ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی اپنی جنگ جاری رکھنے کی تمام تر صلاحیت رکھتے ہیں اور ایسا کرنے کے لیے وہ معاشرے میں پہلے سے موجود نظریاتی دراڑوں کو کچھ ایسے استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ یہ جنگ ایک وسیع تر نظریاتی روپ اختیار کر لے جو ایران اور سعودی عرب سمیت پورے خطے میں فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے آئے۔‘
اب سوال یہ ہے کہ اس نئی حکمت عملی پر کارفرما گروہ کون ہیں؟ اب تک حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے دونوں گروہوں یعنی جنداللہ اور دولت اسلامیہ کے بیانات بظاہر مصدقہ نہیں۔
کامران بخاری کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کا دعویٰ تو بعید از قیاس لگتا ہے لیکن جنداللہ اس قسم کے حملے کرنے کی قابلیت کا ماضی میں بھی مظاہرہ کر چکا ہے۔
لیکن عارف رفیق کے مطابق ’جب تک کوئی گروہ باقاعدہ ثبوت کے ساتھ ذمہ داری قبول نہ کرے، مثلاً حملہ آوروں کے بارے میں قابل تصدیق معلومات، اس کے ملوث ہونے کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ میری رائے میں یہ حملہ آور باقاعدہ کسی تنظیم سے نہیں بلکہ اپنی ہی ڈگر پر چلنے والے جہادی تھے۔‘
لیکن عارف رفیق کے خیال میں اگر ان حملہ آوروں کا دولت اسلامیہ سے براہ راست تعلق نہیں بھی تو ان کا طریقۂ واردات پاکستانی جہادیوں پر دولت اسلامیہ کی بڑھتی ہوئی چھاپ کا اشارہ ضرور دیتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
وزیراعظم نواز شریف نے کراچی حملے پر جمعرات کو ملک بھر میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا لیکن ایسے سوگ عام طور پر شاذونادر ہونے والے المناک واقعات کے لیے ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں ایسے واقعات کب سے روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
پاکستانی یہ حقیقت کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں کہ اسماعیلی برادری پر اتنا بڑا حملہ انوکھا ضرور ہے لیکن اس کے پیچھے کارفرما زہریلی سوچ پاکستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔
دہشت گردی کے واقعات پر نظر رکھنے والے ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق پچھلے برس 200 سے زیادہ لوگ فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھے تھے۔ لیکن اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں ہی انتہا پسند اس ہدف کو پار کر چکے ہیں۔ حالیہ دور میں فرقہ واریت کے اعتبار سے 2013 پاکستان کا تاریک ترین سال تھا جب 525جانیں ضائع ہوئی تھیں۔
اور اسماعیلیوں پر حملے کے بعد خدشہ یہ ہے کہ موجودہ سال 2013 سے بھی زیادہ خونریز ہو سکتا ہے۔ پاکستانی یقیناً یہ دعا کر رہے ہوں گے کہ ملک کے سکیورٹی ادارے اپنی انسدادِ شدت پسندی کی حکمت عملی طے کرتے وقت اس حملے کو اس پس منظر میں دیکھ سکیں۔
جمعرات 14 مئی پاکستان میں یوم سوگ ضرور ہے لیکن ملک بھر میں پھیلی فرقہ وارانہ آگ کے تناظر میں پاکستانی یوم سوگ سے نہیں، عہدِ سوگ سے گزر رہے ہیں۔







