انڈیا میں لاؤڈ سپیکر پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بڑھتے ہوئے شور پر قابو پانے کے لئے ہندوستان کی عدالت عظمی نے رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک عوامی مقامات پر لاؤڈ سپیکر ، گاڑیوں کے تیز ہارن بجانے اور پٹاخے چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ سختی سے اس فیصلے کا نفاذ کرائے۔ اس فیصلے کے تحت پولیس اس بات پر بھی نظر رکھے گی کہ سپتالوں ، سکولوں اور دوسرے تعلمی اداروں کے نزدیک گاڑیاں تیز ہارن نہ بجائيں۔ عدالت نے شادیوں اور خوشی کے موقوں اور تہواروں پر دیر رات پٹاخے چھوڑنے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔عدالت کا کہنا ہے کہ دیر رات پٹاخے چھوڑنے کی وجہ سے بچوں اور بزرگوں کے سننے کی طاقت پر برا اثر پڑتا ہے۔ عدالت کے مطابق یہ پابندی تیز آواز کی گاڑیوں یا پھر ہارن بنانے والی کمپنیوں پر بھی عائد کی جائے گی۔ پولیس محکمے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان تمام مقامات پر نظر رکھے جہاں رات میں تیز آواز کے سبب شور پیدا ہوتا ہے۔ صوتی آلودگی پر قابو پانے کے قومی ادارے سی پی سی بی کے ایک سینئر اہلکار مندی رتّا نے بی بی سی کو بتایا کہ دارالحکومت دلی میں شور پر قابو پانے کے لئے شہر کو چار علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس میں رہائشی، صنعتی، تجارتی، اور خاموشی کے علاقے شامل ہیں۔ مندی رتّا نے مزید بتایا کہ ان علاقوں میں شور یا تیز آواز ناپنے کے لئے رات اور دن کے مختلف پیمانے ہیں انہوں نے بتایا کہ رہائشی علاقوں میں دن کے وقت 55 ڈی بی اے آواز معمول کی مانی جاتی ہے جبکہ رات کے وقت سناٹے کے سبب یہ پیمانہ کم ہوکر 45 ڈی بی اے ہو جاتا ہے۔ عدالت کا تحریری حکم جاری ہوتے ہی وہ اس کے نفاذ کی تیاریاں شرع کر دیں گے۔ ہندوستان میں خوشی کے موقوں پر اکثر لوگ پٹاخے چھوڑ کر یا پھر لاؤڈ سپیکروں پر فلمی نغمے وغیرہ بجاتے ہیں۔ ہندو اور مسلمانوں کی کئی مذہبی رسموں اور تقاریب میں بھی رات بھر لاؤڈ سپیکر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کی آواز کا سب سے برا اثر بزرگوں اور کم عمر بچوں پر پڑتا ہے۔ تیز شور سے عمررسیدہ افراد کے دل پر اثر پڑتا ہے جب کہ وہ طلبہ جو رات دیر تک یا صبح جلدی پڑھائی کرتے ہیں وہ اس طرح کے شور سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||