جاوید اختر کی کہانی، انہیں کی زبانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لوگ جب اپنے بارے میں لکھتے ہیں تو سب سے پہلے یہ بتاتے ہیں کہ ان کا تعلق کس شہر سے ہے۔ میں کس شہر کو اپنا شہر کہوں ؟۔۔۔۔۔ پیدا ہونے کا جرم گوالیئر میں کیا، لیکن ہوش سنبھالا لکھنؤ میں، پہلی بار ہوش آیا علی گڑھ میں ، پھر بھوپال میں رہ کر کچھ ہوشیا ر ہوا ، لیکن ممبئ آکر کافی دنوں تک ہوش ٹھکانے رہے، تو آئیے ایسا کرتے ہیں میں اپنی زندگی کا چھوٹا سا ’فلیش بیک‘ بنا لیتا ہوں۔ اس طرح اپ کا کام یعنی پڑھنا بھی آسان ہو جائے گا اور میرا کام بھی یعنی لکھنا۔ شہر لکھنؤ۔۔۔۔۔کردار ۔۔ میرے نانا ، نانی ، اور دوسرے گھر والے اور میں۔ میرا داخلہ لکھنؤ کے مشہور اسکول ’ کالون تعلقے دار کالج‘ میں چھٹی کلاس میں کرایاجاتا ہے۔ پہلے یہاں صرف تعلقے داروں کے بیٹے پڑھ سکتے تھے ، اب میرے جیسے کم ذاتوں کو بھی داخلہ مل جاتا ہے۔ اب بھی بہت مہنگا اسکول ہے۔ میری فیس سترہ روپے مہینہ ہے (یہ بات اچھی طرح یاد ہے ، اس لیے کہ روز ۔۔۔۔۔جانے دیجیئے) ۔ میری کلاس میں کئی بچے گھڑی پہنتے ہیں۔ ان کا تعلق امیر گھروں سے ہے۔ ان کے پاس کتنے اچھے اچھے سویٹر ہیں۔ ایک کے پاس تو فاؤنٹن پین بھی ہے ۔ یہ بچے ’انٹرول‘ میں اسکول کی کینٹین سے آٹھ آنے کی چاکلیٹ خریدتے ہیں (اب بھگ وتی کی چاٹ اچھی نہیں لگتی) ۔ کل کلاس میں راکیش کہہ رہا تھا کہ اسکے ڈیڈی نے کہا ہے کہ وہ اسے پڑھنے کے لئے برطانیہ بھیجیں گے۔ کل میرے نانا کہ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارے کمبخت ! میٹرک پاس کر لے تو کسی ڈاک خانے میں مہر لگانے کی نوکری تو مل جائے گی۔ اس عمر میں جب بچے’انجن ڈرائیور‘ بننے کا خواب دیکھتے ہیں، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں بڑا ہو کر امیر بنوں گا۔۔۔۔۔۔۔ شہر علی گڑھ ۔۔۔۔کردار۔۔ میری خالہ ، درسرے گھر والے اور میں۔ اس سکول میں جس کا نام منٹو سرکل ہے ، میرا داخلہ کراتے وقت میرے خالو نے ٹیچر سے کہا ہے ’خیال رکھیئے گا ان کا دل پڑھائی میں کم فلمی گانوں میں زیادہ لگتا ہے ۔ دلیپ کمار کی اڑن کھٹولہ ، راج کپور کی شری چار سو بیس دیکھ چکا ہوں ۔ بہت سے فلمی گانے یاد ہیں ، لیکن گھر میں یہ فلمی گانے گانا تو کیا ، سننا بھی منع ہے اس لئے سکول سے آتے وقت زور زور سے گاتا ہوں۔ ( معاف کیجیئے گا، جاتے وقت تو اتنی سردی ہوتی تھی کہ صرف پکّے راگ ہی گائے جا سکتے تھے) ۔ میرا اسکول یونیورسٹی ایریا میں ہی ہے۔ میری دوستی اسکول کے دو چار لڑکوں کے علاوہ زیادہ تر یونیورسٹی کے لڑکوں سے ہے ۔ مجھے بڑے لڑکوں کی طرح ہوٹلوں میں بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔ اکثر اسکول سے بھاگ جاتا ہوں۔ اسکول سے شکایات بھی آتی رہتی ہیں۔ کئی بار گھروالوں سے مار بھی کھائی ہے، لیکن کوئی فرق نہیں پڑا، کورس کی کتابوں میں دل نہیں لگا تو نہیں لگا۔ لیکن ناول بہت پڑھتا ہوں ۔ ڈانٹ پڑتی ہے لیکن پھر بھی پڑھتا ہوں۔ مجھے شعر بہت یاد ہیں۔ یونیورسٹی میں جب بھی اردو شعروں کی انتاکشری ہوتی ہے، میں اپنے اسکول کی طوف سے جاتا ہوں اور ہر بار مجھے بہت سے انعام ملتے میں۔ یونیورسٹی کے تمام لڑکے لڑکیاں مجھے پہچانتے ہیں۔ لڑکے مجھے پہچانتے ہيں اس کی خوشی ہے، لڑکیاں مجھے پہچانتی ہیں اسکی تھوڑی زیادہ خوشی ہے ۔ ۔۔۔۔اب میں کچھ بڑا ہو چلا ہوں۔ میں پندرہ سال کا ہوں اور زندگی میں پہلی بار ایک لڑکی کو خط لکھ رہا ہوں، میرا دوست بیلو میری مدد کرتا ہے ۔ ہم دونوں مل کر یہ خط تیار کرتے ہیں ۔ دوسرے دن ایک خالی بیڈمنٹن کورٹ میں وہ لڑکی مجھے ملتی ہے اور ہمت کر کے میں یہ خط اسے دے دیتا ہوں۔ یہ میری زندگي کا پہلا اور آخری ’لو لیٹر‘ ہے ( اس خط میں کیا لکھا تھا یہ بھول گیا لیکن وہ لڑکی آج تک یاد ہے)۔ میٹرک کے بعد علی گڑھ چھوڑ رہا ہوں میری خالہ بہت رو رہی ہیں اور خالو انہیں چپ کرانے کے لئے کہہ رہے ہیں کہ تم تو اس طرح رو رہی ہو ، جیسے یہ بھوپال نہیں محاذ جنگ پر جا رہا ہو ( اس وقت نہ وہ جانتے تھے نہ میں جانتا تھا کہ میں واقعی محاذ جنگ پر جارہا ہوں )۔ شہر بھوپال ۔۔۔کردار۔۔۔ لاتعداد مہربان بہت سے دوست اور میں۔ آج کل میں بی اے سیکنڈ ایئر میں ہوں۔ میں اپنے دوست اعجاز کے ساتھ رہتا ہوں۔ کرایہ وہ دیتا ہے۔ میں تو بس رہتا ہوں ۔ وہ پڑھتا ہے اور ٹیوشن کر کے گزر کرتا ہے ۔ سب دوست اسے ماسٹر کہتے ہیں ۔ماسٹر سے کسی بات پر جھگڑا ہوگیا ۔ بات چیت بند ہے اس لئے آج کل میں اس سے پیسے نہیں مانگتا، سامنے دیوار پر ٹنگی ہوئی اس کی پینٹ میں سے نکال لیتا ہوں یا وہ بغیر مجھ سے بات کۓ میرے سرہانے دو ایک روپے رکھ کر چلا جاتا ہے ۔ میں بی اے فائنل میں ہوں ۔ یہ اس کالج میں میرا چوتھا برس ہے ۔ کبھی فیس نہیں دی ۔۔۔۔۔ کالج والوں نے مانگی بھی نہیں ۔ یہ شاید صرف بھوپال میں ہی ہو سکتا ہے ۔ کالج کے کمپاؤنڈ میں ایک خالی کمرہ ، وہ بھی مجھے مفت دے دیا گیا ہے۔ جب کلاس ختم ہو جاتی ہے تو میں کسی کلاس روم سے دو بینچ اٹھا کر اس کمرے میں رکھ لیتا ہوں اور ان پر اپنا بستر بچھا لیتا ہوں۔ باقی سب آرام سے ہے بس بنچوں میں کھٹمل بہت ہیں ۔ جس ہوٹل میں ادھار کھاتا تھا وہ میرے جیسے مفت خوروں کو ادھار کِھلا کِھلا کر بند ہو گیا ہے۔ اس کی جگہ جوتوں کی دکان کھل گئی ہے ۔ اب کیا کھا ؤں ؟ بیمار ہوں اکیلا ہوں ، بخار کافی ہے ، بھوک اس سے بھی زیادہ ۔ کالج کے دو لڑکے، جن سے میری معمولی جان پہچان ہے ، میرے لئے ٹفن میں کھانا لے کر آتےہیں۔۔۔۔۔۔ میری دونوں میں سے کسی سے بھی دوستی نہیں ہے ، پھر بھی عجیب بیوقوف ہیں، لیکن میں بہت چالاک ہوں ، انہیں پتہ بھی نہیں لگنے دیتا کہ ان دونوں کے جانے کے بعد میں روؤں گا۔ میں اچھا ہو جاتا ہوں ۔ وہ دونوں میرے بہت اچھے دوست ہو جاتے ہیں۔ مجھے کالج میں ’ڈیبیٹ‘ کا شوق ہو گیا ۔ پچھلے تین برس سے بھوپال روٹری کلب کی ڈیبیٹ کا انعام جیت رہا ہوں۔ انٹر کالیج ڈیبیٹ کی کافی تعداد میں ’ٹرافیاں‘ میں نے جیتی ہیں ۔ وکرم یونیورسٹی کی طرف سے ’ دلی یوتھ فیسٹیول‘ میں بھی حصہ لیا ہے ۔ کالج میں دو پارٹیاں ہیں اور الیکشن کےدوران دونوں پارٹیاں مجھے اپنی طرف سے بولنے کو کہتی ہیں۔ مجھے انتخابات میں صرف بولنے سے مطلب ہے اس لئے میں دونوں کی طرف سے تقریر کر دیتا ہوں ۔ کالج کا یہ کمرہ بھی جاتا رہا ۔ اب میں مشتاق کے ساتھ ہوں۔ مشتاق سنگھ نوکری کرتا ہے اور پڑھتا ہے۔ وہ کالج کی اردو ایسوسی ایشن کا صدر ہے ۔ میں بہت اچھی اردو جانتا ہوں۔ وہ مجھ سے بھی بہتر جانتا ہے ۔ مجھے لاتعداد شعر یاد ہیں۔ میں اپنے گھر والوں سے الگ ہوں۔ اسکے گھر والے ہیں نہیں ۔ دیکھیئے ہر کام میں وہ مجھ سے بہتر ہے ۔ سال بھر سے وہ مجھ سے دوستی کھانے کپڑے پر نبھا رہا ہے، یعنی کھانا بھی وہی کھلاتا ہے اور کپڑے بھی وہی سلواتا ہے، پکّا سردار ہے۔ لیکن میرے لئے سگریٹ خریدنا اس کی ذمہ داری ہے۔ اب میں کبھی کبھی شراب بھی پینے لگا ہوں۔ ہم دونوں رات کو بیٹھ کر شراب پی رہے ہیں وہ مجھے ملک کی تقسیم اور اس زمانے کے فسادات کے قصے سنا رہا ہے۔ وہ بہت چھوٹا تھا لیکن اسے یاد ہے کہ کیسے دلی کے قرول باغ میں دو مسلمان لڑکیوں کو جلتے ہوئے تارکول کے ڈرم میں ڈال دیا گیا تھا اور کیسے ایک مسلمان لڑکے کو۔ میں کہتا ہوں ’مشتاق سنگھ ! تو کیا چاہتا ہے جو ایک گھنٹے سے مجھے ایسے قصے سنا سنا کر مسلم لیگی بنا نے کی کوشش کو رہا ہے ۔ ظلم کی یہ تالی تو دونوں ہاتھوں سے بجی تھی ۔ اب ذرا دوسری طرف کی بھی تو کوئی واردات سنا‘۔ مشتاق سنگھ ہنسنے لگتا ہے ’چلو سنا دیتا ہوں، جگ بیتی سناؤ ں یا آپ بیتی‘۔ میں کہتا ہوں ’ آپ بیتی‘ اور وہ جواب دیتا ہے ، ’میرا گیارہ افراد کا خاندان تھا دس میری آنکھوں کے سامنے قتل کئے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔‘ مشتاق سنگھ کو اردو کے بہت سے شعر یاد ہیں ۔ میں مشتاق سنگھ کے کمرے میں ایک سال سے رہتا ہوں ۔ بس ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مشتاق سنگھ تجھے ان لوگوں نے کیوں بخش دیا؟ تیرے جیسے بھلے لوگ چاہے کسی ذات، کسی مذہب میں پیدا ہوں ہمیشہ سولی پر چڑھائے جاتے ہیں، تو کیسے بچ گیا؟ آج کل وہ " گلاسگو " میں ہے جب ہم دونوں الگ ہو رہے تھے تو مینے اسکا کڑا اس سے لیکر پہن لیا تھا اور آج تک میرے ہاتھ میں ہے اور میں جب بھی اسکے بارے میں سوچتا ہوں تو ایسا ہگتا ہے کہ وہ میرے سامنے ہے اور کہہ رہا ہے: بہت ناکامیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں شہر ممبئی ۔۔۔۔کردار۔۔۔ فلم انڈسٹری ، دوست دشمن اور میں ۔۔۔۔4 اکتوبر1964، میں بمبئی سنٹرل اسٹیشن پر اترا ہوں۔ اب اس عدالت میں میری زندگی کا فیصلہ ہونا ہے ۔ بمبئی آنے کے چھ دن بعد والد کا گھر چھوڑنا پڑتا ہے۔ جیب میں ستائیس پیسے ہیں۔ میں خوش ہوں کہ زندگی میں کبھی اٹھائیس پیسے جیب میں آگئے تو میں فائدے میں رہوں گا اور دنیا گھاٹے میں۔ ممبئی میں دو برس ہونے کو آئے، نہ رہنے کا ٹھکانہ ہے نہ کھانے کا۔ یوں تو ایک چھوٹی سی فلم میں سو روپے مہینے پر مکالمے لکھ چکا ہوں۔ کبھی کہیں اسسٹنٹ ہو جاتا ہوں ، کبھی ایک آدھ چھوٹا موٹا کام مل جاتا ہے ، اکثر وہ بھی نہیں ملتا۔ دادر ایک پرڈیوسر کے دفتر اپنے پیسے مانگنے آیا ہوں ، جس نے مجھ سے اپنی فلم کے مزاحیہ سینز لکھوائے تھے۔ یہ منظر اس مشہور رائٹر کے نام سے ہی فلم میں آئیں گے جو یہ فلم لکھ رہا ہے۔ اس کا دفتر بند ہے۔ واپس باندرا جانا ہےجو کافی دور ہے، پیسے بس اتنے ہی ہیں کہ یا تو بس کا ٹکٹ خرید لوں یا پھر کچھ کھا لوں، مگر پھر پیدل جانا پڑے گا۔ چنے خرید کرجیب میں بھرتا ہوں اور پیدل سفر شروع کرتا ہوں۔ کوہ نور ملز کے دروازے کے سامنے سے گزرتے ہوئے سوچتا ہوں کہ شاید سب بدل جائے لیکن یہ دروازہ تو رہے گا۔ ایک دن اسی کے سامنے سے اپنی کار گزاروں گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||