سید علی شاہ گیلانی گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں پولیس نے علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کو ایک احتجاجی مظاہرہ سے قبل گرفتار کر لیا ہے۔ سید علی گیلانی نے ایک کشمیری خاتون اور اس کی دس سالہ بیٹی کی مبینہ آبروریزی کے خلاف نکالی جانے والی ایک ریلی کی قیادت کر نی تھی۔ علی گیلانی کو اس وقت گرفتار کیا گیا ہے جب کہ بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے بہتر سکیورٹی حالات کی بنا پر کشمیر میں موجود فوج میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ سید علی گیلانی نے فوجوں میں کمی کو ایک ’بڑا مذاق‘ قرار دیا تھا۔ علیحدگی پسند حریت کانفرنس کے ایک سخت گیر دھڑے کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے سری نگر سے 40 کلومیٹر دور شمالی قصبہ بارہ مولا میں ایک ریلی کی قیادت کرنی تھی۔ پولیس نے جمعہ کو سری نگر کے مضافات میں واقع علی گیلانی کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور جب وہ باہر نکلے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق علی گیلانی کے بارہ حامیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ بھارتی فوجی حکام نے آبروریزی کے الزام کی تردید کی ہے اگرچہ ایک میجر کو معطل کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ سید علی گیلانی نے کہا تھا کہ بھارتی وزیرِاعظم کی جانب سے فوجوں کی واپسی کا اعلان اس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا جب تک بھارتی حکومت ڈسٹرب ایریا ایکٹ (Disturbed Area Act) واپس نہیں لیتی۔ اس قانون کے تحت بھارتی افواج کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ ’ یہ ایک بڑا مذاق ہے کشمیر میں موجود فوج میں کمی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہماری پر امن جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام بھارتی فوج ہماری سرزمین سے نہیں نکل جاتی‘۔ جموں و کشمیر کے وزیرِاعلی مفتی محمد سعید نے بھارتی حکومت کے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیا ہے۔ بھارت کی جانب سے فوج میں کمی کا اعلان پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پیش کردہ نئی تجاویز کے بعد سامنے آیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||