بھارت اور یورپی یونین کا معاہدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور یورپی یونین کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کا ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس معاہدہ سے بھارت اور یورپی یونین کے دوستانہ تعلقات میں اضافہ ہو گا۔ بھارتی وزیر ِاعظم منموہن سنگھ نے اس معاہدہ کاخیر مقدم کیا ہے۔ یہ معاہدہ اگلے سال سے نافذ العمل ہوگا۔ منموہن سنگھ نے بتایا کہ’ بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر کی بنیاد پر یورپی یونین نے سٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔ بھارتی وزیرِاعظم نے کہا کہ بھارت اور یورپی یونین’ قدرتی ساتھی‘ہیں۔ یہ شراکت داری مرحلہ وار ہوگی اور جنوری 2005 تک مکمل طور پر عمل میں آئےگی۔ ہالینڈ مذاکرات میں منموہن سنگھ کےایجنڈے پر عالمگیریت ، دہشت گردی ، ایٹمی عدم پھیلاؤ اور تجارت کے موضوعات شامل ہیں۔ اپنے دورے کے دوران منموہن سنگھ اپنے ہم منصب جان پیٹر بالکینیڈی اور یورپین کمیشن کے صدر رومانوپرودی سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ بھارت اور یورپی یونین ثقافتی روابط کی مضبوطی اور ایڈز سے بچاؤ جیسے معاملوں پر بھی ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ بھارت نے مسئلہ کشمیر میں کسی تیسرے فریق کی شمولیت کو مسترد کر دیا ہے البتہ ان مذاکرات میں یہ مسئلہ زیرِبحث آئے گا۔ ہالینڈ کے وزیر برائے یورپی امور آٹزو نکولائی نے کہا ہے کہ’ اس کانفرنس میں یورپی یونین باہمی تعلقات میں اضافہ کے لیے بھارت کی حوصلہ افزائی کرے گی لیکن فوری ترقی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ اس معاملے میں مرحلہ وار قربت کی ضرورت ہے‘۔ یورپی یونین کے حکام کے مطابق 1992 سے 2002 تک بھارت اور یورپی یونین کی دو طرفہ تجارت 33 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||