ائیرانڈیا کیس، آخری مراحل میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈین استغاثہ کے وکیلوں نے ان دو سکھوں کے مقدمے میں اپنے فیصلہ کن دلائل شروع کر دیے ہیں جن پر بیس سال پہلےائیرانڈیا کے جہاز کو تباہ کرنے کا الزام ہے۔ انہوں نے اس عمل کو تباہ کن’سیاسی دہشت گردی‘قرار دیا ہے ۔ رپودامن سنگھ ملک اور اجیب سنگھ باگری پر1985 میں ائیرانڈیا کے جہازوں میں بم نصب کرنے کا الزام ہے۔ ائیرانڈیا کاایک طیارہ بحرِ اوقیانوس کے اوپر پھٹ گیا تھا جس سے 329 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ دوسرے حادثہ میں ٹوکیوائیرپورٹ کے دو ملازم ہلاک ہو گئے تھے۔ وکیلِ استغاثہ رابرٹ رائٹ نے کہا کہ ان دو افراد کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا’ہمارے نزدیک یہ سیاسی دہشت گردی ہے جس کی بنیاد سیاسی استغاثہ کے وکیلوں کی طرف سے پیش کردہ مقدمہ زیادہ تر حالاتی شہادتوں پر مبنی ہے جس کی بنیاد ان گواہوں کے بیانات پر ہے جنہوں نے یا تو بم نصب کرنے میں مدد کی یا بعد میں ملزمان کو جرم کا اعتراف کرتے سنا۔ دونوں ملزمان نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے وکلائے صفائی نے ایک اہم گواہ کے بیان کی صحت پر جرح کی اور کہا کہ کم از کم ایک ملزم کا اس عمل کے پیچھے کوئی مقصد نہ تھا۔ یہ مقدمہ کینیڈا کا طویل ترین اور مہنگا ترین مقدمہ ثابت ہوا ہے۔ فیصلہ کن دلائل کئی ہفتے چلنے کی توقع ہے۔ اس کے بعد جیوری کے نہ ہونے کی بنا پر جج تمام بیانات کا جائزہ لے کر فیصلہ سنائے گا جو اگلے سال متوقع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||