گجرات: مزید 3 لوگوں پر الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں سن دوہزار میں ہونے والے فسادات کی نئے سرئے سے تفتیش کرنے کے بعد مسلمانوں کو قتل کرنے کے مقدمے میں تین مزید لوگوں کو ملوث قرار دیا ہے۔ کچھ پولیس اہلکاروں نے اس سے پیش تر ایک مسلمان سراج پٹیل کی طرف سے کی جانے والی درخواست کو منظور کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ سراج پٹیل نے درخواست میں الزام عائد کیا تھا تین اور مسلمانوں سمیت ان پر حملہ کیا گیا تھا اور اس حملے میں تین مسلمان ہلاک ہوگئے جبکہ حملہ آوروں نے انہیں مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ سراج پٹیل کی مدد کرنے والے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سراج پٹیل نے اپنی درخواست میں تین ہندوں کی نشاندھی کی تھی اور انہیں یقین ہے کہ وہ باقی حملہ آوروں کو بھی پہچان سکتے ہیں۔ سن دوہزار میں گجرات میں اس وقت ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے تھے جب ایک ٹرین کو آگ لگا دی گئی تھی جس پر ہندوں انتہا پسندوں سوار تھے۔ اس واقعہ کے بعد شروع ہونے والے فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||