ملک راج آنند وفات پا گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے مشہور ناول نگار اور افسانہ نگار مُلک راج آنند ننانوے برس کی عمر میں نمونیہ کے مرض کے باعث پونے میں انتقال کر گئے ہیں۔ راج آنند نے انیس سو بیس کے عشرے میں انگلستان میں لندن اور کیمرج کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے انیس سو انتیس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور کئی برس تک انگلستان میں رہے۔ مُلک راج آنند کی تحریریں بھارت میں نچلے درجے کی ان پیچیدہ سماجی گروہ بندیوں کی عکاس ہیں جو لوگوں میں ذہنی اذیت کا باعث بنتی ہیں۔ بھارت کے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے پونے ٹیلیفون کرکےمُلک راج آنند کے خاندان سے تعزیت کی۔ مُلک راج آنند کو انیس سو پینتیس میں ان کے ناول ’ان ٹچ ایبل‘ سے شہرت ملی۔ یہ ناول دراصل ملک راج آنند کے ایک ذاتی المیے پر ردِ عمل تھا۔ ہوا یہ تھا کہ ان کی آنٹی کو ہندو برادری سے صرف اس بنا پر باہر نکال باہر کر دیا گیا تھا کہ انہوں نے ایک مسلمان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا تھا۔ آنند کی آنٹی نےاس واقعے سے دل گرفتہ ہوکر خود کشی کر لی تھی۔ اس ناول کا پیش لفظ مُلک راج آنند کے دوست اور مشہور ناول نگار ای ایم فوسٹر نے لکھا تھا۔ ناول کے بارے میں مصنف مارٹن سیمور سمتھ لکھتے ہیں کہ ’یہ ایک جذباتی اور مشکل موضوع پر لکھا جانے والا فصاحت اور بلاغت سے پُر اور فکرانگیز شاہکار ہے۔‘
ملک راج آنند انیس سو پانچ میں پشاور میں پیدا ہوئے۔ امرتسر میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ انگلستان چلے گئے جہاں وہ اگلے تیس تک قیام پذیر رہے اور اسی دوران میں انہوں نےاعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران انہوں نے بی بی سی میں براڈکاسٹر کے طور پر بھی کام کیا۔ انیس سو اڑتالیس اور انیس سو چھیاسٹھ کے دوران انہوں نے کئی بھارتی یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیئے۔ جارج آرویل اور ہنری ملر ان کے ادبی دوستوں میں شامل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی سے بہت متاثر تھے۔ ان کی ادبی کاوشوں میں انیس سو چھتیس کا ناول ’قلی‘، اگلے برس سامنے آنے والی تحریر ’ٹُو لیوز اینڈ اے بڈ‘ انیس سو انتالیس کا ناول ’دی ویلج‘ اور انیس سو چالیس کا ’ایکراس دی بلیک واٹرز‘ شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||