ایڈوانی کی حراست اور رہائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی پولیس نے ملک کے سابق نائب وزیرِ اعظم اور حزبِ مخالف کے رہنما ایل کے ایڈوانی کو مظاہرے میں حصہ لینے سے روکنے کی غرض سے مختصر عرصے کے لیے حراست میں لے لیا۔ تاہم کچھ دیر بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ ایڈوانی کو اس وقت پکڑا گیا جب وہ اپنے ایک ساتھی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے لیے ایک مظاہرے میں شریک ہو رہے تھے۔ بنگلور میں ہونے والے اس مظاہرے میں شرکت سے منع کرنے پر ایڈوانی نے احتجاج کیا اور پولیس کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایڈوانی اور دیگر رہنماؤں کو اس لیے گرفتار کیا گیا کہ تشدد نہ ہو۔ اما بھارتی کو دس سال پہلے ہندو مسلم تشدد اکسانے کے جرم میں چودہ دن کی سزا سنائی گئی تھی جس پر ایل کے ایڈوانی نے کہا تھا کہ وہ احتجاجی مظاہروں کی سربراہی کریں گے۔ ان کاکہنا تھا کہ اگلے سات دن تک اما بھارتی کی سزا کے خلاف احتجاج جاری رہے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||