انصاری کا فیصلہ اتحاد کے حق میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مولانا عباس انصاری کی دستبرداری پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے حریت کے سربراہ پروفیسر عبدالغی بھٹ نے مولانا انصاری کے اس عمل کو اتحاد کے مفاد کے لیے ایثار کی عظیم مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ یہ انتشار کے نتیجے میں ہوا ہے مولانا انصاری کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ساری کشمیری قوم کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا گیلانی دھڑے سے کوئی بات چیت چل رہی ہے انہوں نے کہا کہ عمر فاروق کو حریت کانفرنس کی ایگزیکٹو کونسل کی دستوری حیثیت بحال کرنے کا کام دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عمر فاروق جو کچھ کر رہے ہیں اسی کی رو سے کر رہے ہیں اور اس عمل میں افراد نہیں تنظیمیں شامل ہیں مثلاً جماعت اسلامی، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور پیپلز لیگ۔ انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ عباس انصاری کی دستبرداری کا فیصلہ حال ہی میں ریاض کھوکھر کے ساتھ عمر فاروق کی دلی میں ہونے والی ملاقات میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ واقعات کے سلسلے سے یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے۔ عباس انصاری نے دستبرداری کے اپنے فیصلے کا اعلان 21 مئی کو کر دیا تھا جبکہ ریاض کھوکھر کے ساتھ عمر فاروق کی ملاقات اس کے ایک ماہ بعد ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں کوئی پردہ داری نہیں ہوتی، بلکہ پردے فاش کیے جاتے ہیں۔ دریں اثاء مولانا عمر فاروق نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ حریت از سر نو متحد ہوکر اختلافات کو ختم کر دے اور صحیح معنی میں قوم کی رہنمائی کرے۔ انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ ریاض کھوکھر نے انہیں گیلانی دھڑے کو اپنے ساتھ ملانے پر آمادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتحاد کے لیے کوششیں حریت کی اپنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر کے رہنما ہی بکھرے ہوئے رہیں گے تو کشمیر میں امن قائم کرنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگلا چیئرمین کون ہوگا یہ حریت کے ارکان آپس میں طے کر لیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||