مولوی عباس انصاری مستعفی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسند اتحاد کے چیرمین مولوی عباس انصاری نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق انہوں نے استعفی حریت کانفرنس کو متحد کرنے کے لیے دیاہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کے مطابق میر واعظ عمر فاروق کو کانفرنس کا نیا چیرمین بنائے جانے کا امکان ہے۔ حریت کانفرنس دو دھڑوں میں بٹ گئی ہے۔ سخت گیر موقف رکھنے والے سید علی شاہ گیلانی نے اپنی الگ جماعت بنا لی ہے اور دعوی کیا کہ وہی اصل حریت کے قائد ہیں۔ حریت کانفرنس پر شدت پسند تنظمیوں کا دباؤ ہے کہ بھارت کے مذاکرات ختم کر دے اور اس کے کئی رہنماؤں پر حملے بھی کیے گئے۔ حریت کانفرنس کا معتدل دھڑا جو ایک دفعہ پہلے بھی بھارت کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر چکا ہے نے بدھ کو ایک میٹنگ کے بعد کہا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں بھارت کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں مخلص ہے۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے ساتھ بامقصد مذاکرات ہونے چاہیں۔ حریت کانفرنس کے ترجمان غلام حسین مجروح نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ بھارت کی نئی حکومت اپنے پیشرو حکومت کی طرف سے کیے جانے والے وعدے پورے کرئے ۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کی پچھلی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے گی۔ حریت کانفرنس کے ترجمان نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور ملتوی بھی ہو سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||