بی ایس ایف افسر رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی سرحدی فوج، بی ایس ایف کے جو دو افسرحال ہی میں مشرقی تریپورا میں اغوا ہوئے تھے، بی ایس ایف اور بنگلہ دیش رائیفلز (بی ڈی آر) کی میٹنگ کے بعد آزاد کر دئےگئے ہیں۔ بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ دونوں افسر بری طرح زخمی ہیں اور ان کے اغوا کے پیچھے بنگلہ دیشی شرارت پسندوں کا ہاتھ تھا۔ بی ایس ایف اہلکاروں کے مطابق، 46 بٹالین کے دو اسسٹنٹ کمانڈینٹ مشرقی تریپورا کی کملاساگر چوکی سے ایک نزدیکی گاؤں کے لیے نکلے تھے۔ یہ پتا نہیں چل سکا کہ وہ وہاں کس مقصد کے لیےگئے تھے مگر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہاں ان پر بنگلہ دیشی شرارت پسندوں نے حملہ کر دیا۔ یہ علاقہ سرحد پار اسمگلنگ کے لیے بد نام ہے۔ کچھ مدت بعد بی ڈی آر نےدونوں افسروں کو زخمی حالت میں پایا۔ بی ایس ایف نے ان کے غائب ہو جانے کی شکایت بشالگڑھ پولیس تھانے میں درج کی تھی۔ اس کے بعد بی ایس ایف اور بی ڈی آر کےدرمیان ایک ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد بی ڈی آر نے دونوں افسروں کو رہا کر دیا۔ حال ہی میں جنوبی تریپورا میں نیشنل لبریشن فرنٹ آف تریپورا (این ایل ایف ٹی) نامی باغی تنظیم نے چوبیس بنگلہ دیشیوں کو اغوا کر لیا تھا۔ اس کی وجہ سے انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ تریپورا کے پولیس سربراہ جی ایم شریواستو نے بی بی سی کو بتایا کہ این ایل ایف ٹی نے اغوا شدہ افراد کو بنگلہ دیش کے دور دراز ساجیک رینج میں چھپا کر رکھا ہے۔ اور اب تک اس سلسلے میں بی ڈی آر کی مدد حاصل کرنے کی بی ایس ایف کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||