’فضائی حملے میں تاخیر درست تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں نئی حکومت نے 1999 میں کارگل جنگ کے دوران فضائی حملے میں تاخیر کرنے کے سابقہ حکومت کے فیصلے کو درست ٹھہرایا ہے۔ نئی حکومت کے وزیر دفاع پرنو مکھرجی نے بدھ کے روز پارلیمان میں باقاعدہ ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں ہے کہ کارگل جنگ کے دوران فضائی حملوں میں تاخیر کے سبب زیادہ فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کارگل کی لڑائی ایک ایسے مقام سے لڑی جارہی تھی جہاں کئی طرح کی دشواریوں کا سامنا تھا۔ مسٹر مکھرجی نے سابقہ حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوۓ کہا کہ کابینہ کے زریعے فضائی حملوںمیں تاخیر کا فیصلہ اس لیۓ صحیح تھا تاکہ اس صورت حال میں میں ایک علاقائی لڑائی کو مستقل جنگ میں تبدیل ہونے سے بچایا جاسکے۔ حال ہی میں ایک انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز نے کارگل کے متعلق تفتیش کرنے والی ایک ریویو کمیٹی کے حوالے سے خبر شائع کی تھی کی جنگ کے دوران واجپئی حکومت نے فضائی حملے کے لئے فوج کو اجازت کافی تاخیرسے دی تھی جسکے نتیجے میں ہندوستانی حفاظتی دستوں کے زیادہ افراد ہلاک ہوۓ تھے اور فوج کو کافی نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی گانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے سابقہ حکومت پر زبردست نکتہ چینی کرنی شروع کردی تھی اور اس موضوع پر پارلیمان میں بحث کا مطالبہ بھی کیا تھا تاہم نئی حکومت میں وزیر دفاع پرنو مکھرجی نے اس معاملے پر خود بیان دی کر سارے شکوک و شبہات مٹا دئے ہیں۔ پرنو مکھرجی کے اس بیان سے سب سے زیادہ سکون سابق وزیر دفاع جارج فرنینڈیز کو ملا ہوگا جنہیں گھیرنے کے لئے انکے مخالفین پوری طرح تیار ہو چکے تھے۔ امکان ہے کہ وزیر دفاع کے اس بیان کے ساتھ ہی کارگل رپورٹ سے متعلق سبھی اختلافات رفع دفع ہوجائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||