BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 May, 2004, 19:02 GMT 00:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سونیا کا انکار اور خاموش مخالف

سونیا اور من موہن
سونیا گاندھی کو من موہن سنگھ پر مکمل اعتماد ہے
ہندوستان میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے جب اعلان کیا کہ وہ وزارت عظمیٰ کے دعوے سے دستبردار ہو رہی تو انہوں نے کہا کہ اقتدار حاصل کرنے کے بجائے وہ اپنی روح کی آواز پر لبیک کہیں گی۔

ان کے اس فیصلے کے پیچھے کیا وجوہات و محرکات ہیں اس پر ایک عرصے تک بحث ومبحاثہ جاری رہیگا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ سونیا گاندھی نے ایک بہت بڑی قربانی دی ہے۔

دلی میں سیاسی تجزیہ نگار تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ سونیا کی یہ قربانی ان کے شوہر راجیو گاندھی اور ان کی ساس اندرا گاندھی کی قربانی سے بھی عظیم ہے۔

مختصراً اگر دیکھا جائے تو ابتدا ہی سے سونیا گاندھی اقتدار کی لالچی نہیں تھیں۔ وہ تو اپنے شوہر راجیو گاندھی کے ہی سیاست میں آنے کے حق میں نہیں تھیں لیکن راجیو کو اندراگاندھی کےقتل کے بعد ناگزیر حالات میں سیاست میں آنا پڑا تو وہ بے بس نظر آئیں۔ تاہم راجیو گاندھی کی ہلاکت کے بعد 1991 میں کانگریس کی جیت کے بعد جب انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدے کی پیشکش کی گئی تو انہوں نے اسے پوری طرح مسترد کر دیا تھا۔

اس موقع پر سونیا گاندھی نے کہا تھا کہ میں سیاست میں آنے کے بجائے اپنے بچوں کو لیکر سڑک پر بھیک مانگنے کو زیادہ ترجیح دونگی۔ لیکن1998 کے عام انتخابات میں جو کیسری ناتھ ترپاٹھی کی قیادت میں لڑے گۓ تھے کانگریس کو زبردست شکست ہوئی۔ اس کے بعد کانگریس کارکنان کے بہت اصرار کرنے پر وہ پارٹی کی قیادت کے لۓ تیار ہوگئیں۔

تاہم عملی سیاست میں اتنے برس گزارنے کے باوجود انہوں نے کبھی بھی وزارت عظمیٰ کے متعلق کوئی دعویٰ نہیں کیا بلکہ یوں کہتی رہیں کہ مناسب وقت پر وہ اسکے متعلق فیصلہ کریں گی اور بالآخر تمام طرح کی حمایت حاصل کرنے کے بعد اپنا فیصلہ انہوں نے عوام کے سامنے سنا دیا۔

سونیا گاندھی کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے دستبردار ہو نے پر ملک کے اخبارات نےمختلف طرح کے رد عمل کا اظہار کیا ہے لیکن بیشر نے محترمہ گاندھی کے فیصلے کی ستائش کی ہے۔

عام طور سبھی کا یہ کہنا ہے کہ محترمہ گاندھی کے اس قدم سے انکی شخصیت جہاں مزید قدآور ہوگئی ہے وہيں عوام کی نظر میں ان کی عزت واحترام میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

مثلا اخبار ایشین ایج لکھتا ہے کہ محترمہ گاندھی نے اقتدار سے دستبردار ہوکر عوام کے دل میں جگہ بنا لی ہے۔

ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے کہ سونیا نے کرسی کا لالچ چھوڑ کر عظمت کی طرف قدم بڑھایا ہے۔

انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ سونیا گاندھی نے بڑی انکساری کے ساتھ وزارت عظمیٰ کا عہدہ ٹھکرا کر سیاست کی بسات پر ایک زبردست چال چل دی ہے۔
اخبار کہتا ہے کہ سونیا نے یہ ثابت کر دیا ہے کی وہ سیاست میں اخلاقی اصول وضوابط کی پابند ہیں اور سیاست میں صرف اقتدار کے حصول کے لۓ نہیں ہیں۔

سونیا گاندھی کا یہ قدم واقعی کئی لحاظ سے بڑا ہی معنی خیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اختلاف کے تمام رہنما بھی پوری طرح خاموش ہو گۓ ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد