آخری مرحلے کی ووٹنگ مکمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں چودھویں لوک سبھا کے لیے ووٹنگ کا آخری مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور بھارت میں دوپہر تک جمع ہونے والی اطلاعات کے مطابق انتحابی جھگڑوں دو افراد کے ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک معلق پارلیمان کی قیاس آرائیوں کے درمیان پیر کے روز ہونے والی ووٹنگ کے لیے جائز ووٹروں کی تعداد بیس کروڑ سے زیادہ تھی جس کی وجہ سے اس مرحلے کو سب سے اہم اور بڑا مرحلہ قرار دیا جا رہا تھا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کا حکمران اتحاد پانچ سو تینتالیس نشستوں کی پارلیمینٹ میں اکیلا اکثریت حاصل نہیں کر پائے گا۔ تاہم ووٹوں کی گنتی جمعرات سے شروع ہوگی اور اسی روز الیکشن کے نتائج بھی ملنا شروع ہو جائیں گے۔ آخری مرحلے میں ووٹنگ بارہ ریاستوں اور زیادہ تر شمالی ہندوستان میں ہوئی ہے جن میں دہلی بھی شامل ہے۔ ان علاقوں میں بی جے پی کی مقبولیت قدرے کم تصور کی جاتی ہے اور کامیابی کے لیے پارٹی کو اپنی حلیف علاقائی جماعتوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ گزشتہ چار انتخابی مراحل میں ووٹنگ کا اوسط پچپن فی صد رہا ہے تاہم پانچویں اورآخری مرحلہ میں ووٹنگ میں کچھ کمی کے اندازے لگائے جا رہے تھے۔ آخری مرحلے سے پہلے مغربی بنگال کے ایک رہنما کے ایک بیان کے بعد الیکشن کمیشن نے خبردار کیا تھا کہ وہاں اس مرحلے کی ووٹنگ منسوخ کی جا سکتی ہے۔ تاہم اب تک کہیں بھی ووٹنگ منسوخ ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ مغربی بنگال میں حکمران جماعت لیفٹ فرنٹ کے رہنما بیمان باسو سے یہ نیان منسوب کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ اگر الیکشن مبصر ووٹنگ میں رکاوٹ بنیں تو انہیں پولنگ بوتھوں سے باہر نکال دیا جانا چاہیئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||