BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھول چوک معاف ہے

News image
بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی
موجودہ پارلیمانی انتخابات کے دوران بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی پہلے اپنوں سے ملی سر دردی سے پریشان تھے آجکل وہ غیروں سے ملنے والی ہمدردی سے دوچار نظر آ رہے ہیں۔

مسٹر واجپئی کو یہ ہمدردی ان کی رو بہ زوال صحت اور ماؤف الذہنی کی بنا پر مل رہی ہے۔

دراصل سونیا گاندھی کے نام نہاد اطالوی ہونے کے مسئلے پر جس طرح کانگریس پارٹی بی جے پی کے حملوں پر دفاعی انداز اختیار کرتی رہی ہے، ٹھیک اسی طرح حزب اختلاف کے اس حملہ سے بی جے پی بھی دفاع کو مجبور ہوئی ہے۔

مختلف مواقع پر نام اور تاریخ کے تذکرہ پر واجپئی سے ہوئی غلطی کو لوگوں نے براہ راست نشریات میں ٹیلی ویژن پر دیکھا اور سنا ہے۔ اخباروں میں اس کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔

مشہور وکیل اور کانگریسی رہنما کپل سبل نے تو اس پر بھرپور جملہ بندی کی ہے اور حزب اختلاف کے رہنما مسٹر واجپئی سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سیاست سے ریٹائرمنٹ لینے کی صلاح بھی دی ہے۔

دو سال قبل مشہور امریکی ہفتہ روزہ ’ٹائم‘ نے جب وزیر اعظم واجپئی کی صحت پر سوال اٹھائے تھے تو حکومت اور بی جے پی نے سخت اعتراض کیا تھا۔

مگر اس بار کے پارلیمانی انتخابات میں حلیف سے حریف بنے وکیل اور لکھنؤ سے ان کا مقابلہ کر رہے رام جیٹھ ملانی کو بھی وزیراعظم کی صحت پر شبہ ہے۔ رام جیٹھ ملانی تو انہیں بیڈمنٹن کورٹ میں مقابلے کی دعوت بھی دے چکے ہیں۔

کپل سبل کو وزیراعظم واجپئی کی قوت حافظہ کے بارے میں سخت تردد ہے۔ انہوں نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم واجپئی سے ہوئی غلطیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ کل کو اگر وزیراعظم واجپئی، صدر مشرف سے کوئی معاہدہ کرنے کے بعد یہ بھول جائیں کہ دونوں کے درمیان کیا طے پایا تھا تو اس صورت میں کیا ہو گا؟

کپل سبل اسے وزیراعظم واجپئی کی ماؤف الذہنی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم اپنے ہی انتخابی حلقہ میں پولنگ کی تاریخ یاد نہیں رکھ پائے اور لوگوں سے پانچ مئی کی بجائے پانچ ستمبر کو ووٹ ڈالنے کی اپیل کر ڈالی۔

کرگل کی جنگ کے بعد وزیراعظم واجپئی نے کہا تھا کہ صدر بش نے انہیں فون پر بتایا تھا کہ نواز شریف نے فوج ہٹانے کا وعدہ کیا ہے۔ بعد میں اخبار نے یاد دلایا کہ کرگل کی جنگ کے وقت امریکہ کے صدر، جارج بش نہیں بل کلنٹن تھے۔

مسٹر واجپئی ایک موقع پر چھتیس گڑھ میں لوک سبھا سیٹ کی امیدوار اپنی ایک رشتہ دار کا نام بھول گئے۔ یہی نہیں انہوں نے لوک سبھا کی جگہ ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں انہیں بھیجنے کی اپیل بھی کی۔ اس طرح ریاست بہار میں چھپرہ حلقہ سے بی جے پی کے امیدوار اور مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی راجیو پرتاپ روڑی کا نام بھولنے کا معاملہ بھی زباں زدِ عام رہا۔

ایک ہندی روزنامے نے واجپئی کے بھولنے کی عادت پر سرخی لگائی تھی کہ ’میں گیت ۔۔۔ بھولا ہوا گاتا ہوں‘۔ یہ سرخی واجپئی کی ہی ایک نظم ’میں گیت نیا گاتا ہوں‘ کی نقل تھی۔ اخبار کے مطابق مسٹر واجپئی نے راجستھان میں اپنی تقریر کے دوران کہہ دیا کہ جس طرح آپ نے تین ماہ میں ریاست کی حکومت بدل ڈالی ہے اسی طرح مرکز کی حکومت بھی بدل ڈالیں۔ اخبار نے سوال کیا کہ کیا واجپئی جی خود کو اپوزیشن میں مان رہے ہیں۔

اس طرح ایک ریلی سے خطاب کرتےہوئے وزیراعظم نے یہ کہہ دیا کہ کرگل کی جنگ کے بعد بھارتی فوج کے ذریعہ کارروائی کے بعد صدر بش نے انہیں فون پر بتایا تھا کہ نواز شریف نے فوج ہٹانے کا وعدہ کیا ہے۔

اخبار نے یاد دلایا کہ کرگل کی جنگ کے وقت امریکہ کے صدر، جارج بش نہیں بل کلنٹن تھے۔ ریاست بہار کے مسلم اکثریتی علاقہ کشن گنج میں اپنی تقریر کے دوران دو کروڑ اردو بولنے والے اساتذہ کی تقرری کا وعدہ کر ڈالا۔ سرکاری ذرائع بتاتے ہیں کہ پورے ملک میں سرکاری اساتذہ کی تعداد تقریباً ساٹھ لاکھ ہے۔ اس لئے دو کروڑ اردو ٹیچرز کی بات غلطی سے ہی کہی جا سکتی ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وزیراعظم دو کروڑ نہیں دو لاکھ کہنا چاہتے تھے۔

کشن گنج وہ علاقہ ہے جہاں سے مرکزی حکومت کے واحد مسلم وزیر شاہنواز حسین نے بی جے پی کی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔

وزیراعظم واجپئی کی صحت پر بہار کی کم گو مانی جانے والی وزیر اعلیٰ اور لالو پرساد کی اہلیہ رابڑی دیوی نے گزشتہ دنوں ایک تیر سے دو شکار کئے۔

رابڑی دیوی نے وزیراعظم کے گھٹنوں کے آپریشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ واجپئی جی کی ٹانگ میں تو پردیسی گھٹنہ لگا ہے۔ یعنی ان کی صحت بھی ٹھیک نہیں اور وہ غیر ملکی چیزوں کے سہارے چل رہے ہیں۔

حزب اختلاف کے ان الزامات پر بی جے پی کا رویہ دفاعی ہے۔ پارٹی کے جنرل سیکریٹری مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ اتنے بڑے الیکشن میں تمام امیدواروں کے نام یاد رکھنا ممکن نہیں ہے۔

مسٹرنقوی کے مطابق وزیر اعظم کی صحت اور یاداشت دونوں بالکل صحیح ہیں۔ کانگریس کے حملوں سے پریشان بی جے پی کے ترجمان پرکاش جاوڑیکر کہتے ہیں کہ حزب مخالف مایوسی کا شکار ہے۔ اٹل اپنی تقریروں کی وجہ سے پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں۔ بنا پڑھے تقریروں میں اتنی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔

مسٹر جوڑیکر کا کہنا ہے کہ کانگریس کا رہنما سونیا گاندھی تو لکھی ہوئی تقریر پڑھنے میں بھی غلطیاں کرتی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد