انتخابات کا ایک اور مرحلہ ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں پیر کے روز انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں تشدد کے باعث کم از کم آٹھ افراد کے ہلاک اور ساٹھ سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں بھارت کی کئی اہم ریاستوں میں ووٹ ڈالے گئے جن میں شمالی ریاست اترپردیش بھی شامل ہے۔ اتر پردیش سمیت گیارہ ریاستوں میں ہونے والے ان انتخابات کے دوسرے مرحلے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد سترہ کروڑ پچاس لاکھ ہے۔ پیر کو ووٹنگ کی شرح پچپن سے ساٹھ فیصد رہی۔ ریاست اتر پردیش کے اہم ترین حلقے رائے بریلی میں پیر کو ہونے والی ووٹنگ میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس پارٹی کی قائد سونیا گاندھی بھی انتخابات میں امیدوار تھیں۔ سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی رائے بریلی کے ملحقہ حلقے امیٹھی سے پہلی بار انتخابات میں حصہ لیا۔ امیٹھی میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے نے بتایا ہے کہ وہاں خاصی تیزی سے ووٹ ڈالے گئے۔
اس حلقے میں کانگریس کی مقبولیت گزشتہ برسوں میں کم ہوئی ہے لیکن بعض مبصرین کا خیال ہے کہ راہول گاندھی اس صورتِ حال کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ پیر کو جن ریاستوں میں انتخابات ہوئے ان میں مسلمان اقلیت کے بھی کافی ووٹ ہیں۔ وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی نے مسلمان ووٹ حاصل کرنے کے لئے انتخابی مہم میں ہندو قوم پرستی کو کم سے کم استعمال کیا ہے۔ ان انتخابات میں اترپردیش کو بھارت کی سب سے اہم ریاست تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ملکی پارلیمان کی کُل 543 نشستوں میں سے 80 نشستیں اترپردیش کی ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج اگلے مہینے کی تیرہ تاریخ کو متوقع ہیں۔ رائے عامہ کے ابتدائی تجزیوں کے مطابق ابھی تک حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی سیاسی حریف کانگریس پر سبقت حاصل تھی تاہم تازہ جائزوں کے مطابق کانگریس پارٹی بہت تیزی سے بی جے پی کے قریب ہوتی جا رہی ہے۔ پیر کے انتخابات میں کشمیر کے چھ حلقوں میں سے ایک حلقے یعنی گرمائی دارالحکومت سرینگر میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔ سرینگر میں، جہاں علیحدگی پسند مہم بھی زوروں پر ہے، ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب انتہائی کم رہا۔
سرینگر میں بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کے مطابق بہت سے پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ کے آغاز سے ایک گھنٹے بعد تک کوئی بھی شخص ووٹ ڈالنے نہیں آیا تھا۔ بعض پولنگ سٹیشنوں پر تعینات انتخابی عملہ محافظوں کے ہمراہ پولنگ بوتھوں کے باہر بیٹھا تھا۔ کشمیر میں ۔گزشتہ روز خاصی پُرتشدد کارروائیاں ہوئیں جن میں ایک واقعہ کے دوران ریاست کی بڑی سیاسی جماعت کی صدر پر بھی دستی بم سے حملہ کیا گیا لیکن وہ بال بال بچ گئیں البتہ اس واقعہ میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ کشمیر میں حفاظتی اقدامات کے پیش نظر سات ہزار اضافی فوجی تعینات کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جن دیگر ریاستوں میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں ان میں آندھراپردیش بھی شامل ہے اور ماؤ نواز باغیوں سے نمٹنے کے لئے 80 ہزار پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||