BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 April, 2004, 11:10 GMT 16:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات کا ایک اور مرحلہ ختم
News image
بھارت میں پیر کے روز انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں تشدد کے باعث کم از کم آٹھ افراد کے ہلاک اور ساٹھ سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں بھارت کی کئی اہم ریاستوں میں ووٹ ڈالے گئے جن میں شمالی ریاست اترپردیش بھی شامل ہے۔ اتر پردیش سمیت گیارہ ریاستوں میں ہونے والے ان انتخابات کے دوسرے مرحلے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد سترہ کروڑ پچاس لاکھ ہے۔ پیر کو ووٹنگ کی شرح پچپن سے ساٹھ فیصد رہی۔

ریاست اتر پردیش کے اہم ترین حلقے رائے بریلی میں پیر کو ہونے والی ووٹنگ میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس پارٹی کی قائد سونیا گاندھی بھی انتخابات میں امیدوار تھیں۔

سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی رائے بریلی کے ملحقہ حلقے امیٹھی سے پہلی بار انتخابات میں حصہ لیا۔ امیٹھی میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے نے بتایا ہے کہ وہاں خاصی تیزی سے ووٹ ڈالے گئے۔

News image
راہول گاندھی اپنے حلقے میں بہت مقبول ہوئے ہیں

اس حلقے میں کانگریس کی مقبولیت گزشتہ برسوں میں کم ہوئی ہے لیکن بعض مبصرین کا خیال ہے کہ راہول گاندھی اس صورتِ حال کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

پیر کو جن ریاستوں میں انتخابات ہوئے ان میں مسلمان اقلیت کے بھی کافی ووٹ ہیں۔ وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی نے مسلمان ووٹ حاصل کرنے کے لئے انتخابی مہم میں ہندو قوم پرستی کو کم سے کم استعمال کیا ہے۔

ان انتخابات میں اترپردیش کو بھارت کی سب سے اہم ریاست تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ملکی پارلیمان کی کُل 543 نشستوں میں سے 80 نشستیں اترپردیش کی ہیں۔

ان انتخابات کے نتائج اگلے مہینے کی تیرہ تاریخ کو متوقع ہیں۔

رائے عامہ کے ابتدائی تجزیوں کے مطابق ابھی تک حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی سیاسی حریف کانگریس پر سبقت حاصل تھی تاہم تازہ جائزوں کے مطابق کانگریس پارٹی بہت تیزی سے بی جے پی کے قریب ہوتی جا رہی ہے۔

پیر کے انتخابات میں کشمیر کے چھ حلقوں میں سے ایک حلقے یعنی گرمائی دارالحکومت سرینگر میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔ سرینگر میں، جہاں علیحدگی پسند مہم بھی زوروں پر ہے، ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب انتہائی کم رہا۔

حفاظتی اقدامات کس طرح کے ہیں
جن ریاستوں میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں ان میں آندھراپردیش بھی شامل ہے اور ماؤ نواز باغیوں سے نمٹنے کے لئے 80 ہزار پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔

سرینگر میں بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کے مطابق بہت سے پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ کے آغاز سے ایک گھنٹے بعد تک کوئی بھی شخص ووٹ ڈالنے نہیں آیا تھا۔

بعض پولنگ سٹیشنوں پر تعینات انتخابی عملہ محافظوں کے ہمراہ پولنگ بوتھوں کے باہر بیٹھا تھا۔

کشمیر میں ۔گزشتہ روز خاصی پُرتشدد کارروائیاں ہوئیں جن میں ایک واقعہ کے دوران ریاست کی بڑی سیاسی جماعت کی صدر پر بھی دستی بم سے حملہ کیا گیا لیکن وہ بال بال بچ گئیں البتہ اس واقعہ میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

کشمیر میں حفاظتی اقدامات کے پیش نظر سات ہزار اضافی فوجی تعینات کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جن دیگر ریاستوں میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں ان میں آندھراپردیش بھی شامل ہے اور ماؤ نواز باغیوں سے نمٹنے کے لئے 80 ہزار پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد