’حملے بات چیت کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے‘

بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے جموں میں سکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں کے حملے کو ’وحشیانہ‘ کارروائی قرار دیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے امن کے لیے بات چیت کا عمل متاثر نہیں ہوگا۔
جمعرات کی صبح ایک پولیس سٹیشن اور ایک فوجی کیمپ پر ہونے والے حملوں میں بھارتی فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ادھر بھارتی اپوزیشن نے وزیراعظم من موہن سنگھ سے نیویارک میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے طے شدہ ملاقات منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود من موہن سنگھ نے اتوار کو نواز شریف سے ملاقات کرنی ہے۔
حملے کے بعد جمعرات کو ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک بیان میں من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ ’یہ امن کے دشمنوں کی جانب سے اشتعال انگیز اور وحشیانہ کارروائیوں میں سے ایک ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دہشتگردی کے اس عفریت سے لڑنے اور اسے شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں جسے سرحد پار سے شہ مل رہی ہے۔ اس قسم کے حملے ہمیں ڈرا نہیں سکتے اور نہ ہی بات چیت کے ذریعے تمام مسائل حل کرنے کے عزم کو متزلزل کر سکتے ہیں۔‘
حکمران جماعت کانگریس کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ یہ حملہ پاکستان اور بھارت کے وزرائےاعظم کی امریکہ میں ہونے والی بات چیت کو سبوتاژ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اس سے قبل حملے میں ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان پرکاش جاوڑیكر نے کہا ہے کہ اس حملے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف ’پراکسی‘ جنگ کو فروغ دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ممبئی میں 26 نومبر 2008 کو ہونے والے حملے اور سرحد پر دو ہندوستانی فوجیوں کے سر قلم کرنے کے واقعات کے بعد وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو یقین دلایا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جب تک کچھ کارروائی نہیں کرتا ہے، اس کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔‘
ترجمان نے کہا کہ ’آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بھارت پر حملے کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔‘
بی جے پی کے سینیئر لیڈر یشونت سنہا نے بھی ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے بعد وزیراعظم کو امریکہ میں نواز شریف کے ساتھ بات چیت نہیں کرنی چاہیے۔
ادھر بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کی جگہ اور وقت کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اس کا مقصد امریکہ میں پاکستان اور بھارت کے وزرائےاعظم کے درمیان بات چیت کو نقصان پہنچانا اور ریاست میں جاری امن عمل کو پٹری سے اتارنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم تمام مسائل کا پرامن حل چاہتے ہیں‘۔
عمر نے کہا کہ اس حملے کے بعد وزیراعظم پر سیاسی دباؤ ڈالا جائے گا کہ وہ نواز شریف کے ساتھ بات چیت کا راستہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کریں، تاہم ’شدت پسندوں کے مقصد کو ناکام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بات چیت کی جائے اور انہیں اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کا موقع نہیں دیا جانا چاہیے۔‘







