اتحاد ختم کرنا واحد راستہ تھا: نتیش کمار

بہار کے وزير اعلی نتیش کمار نریندر مودی کے ناقدین میں سے ہیں
،تصویر کا کیپشنبہار کے وزير اعلی نتیش کمار نریندر مودی کے ناقدین میں سے ہیں

بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا کہنا ہے کہ ان کی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایسی صورتحال پیدا کر دی تھی جس کے بعد جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے ساتھ اتحاد سے الگ ہونے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

نتیش کمار کا کہنا ہے کہ اتحاد سے الگ ہونے کے بعد سے بی جے پی ان کے کچھ بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے۔

اتوار کے روز نتیش کمار اور جنتا دل یو کے رہنما شرد یادو نے بی جے پی کے ساتھ تقریباً پندرہ برس سے جاری اتحاد کو توڑنے کا اعلان کیا تھا۔

پارٹی نے یہ فیصلہ گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو بی جے پی کا انتخابی مہم کا سربراہ مقرر کرنے کے بعد کیا ہے۔

پیر کی صبح پٹنہ میں میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ انہوں نے قومی جمہوری محاذ ’این ڈی اے‘ سے الگ ہونے میں کسی طرح کی کوئی جلد بازی نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ این ڈی اے اتحاد کن اقدار اور پالیسیوں کی بنیاد پر آگے قائم رہے اس حوالے سے وہ اپنے خیالات گزشتہ ایک برس کے دوران بار بار دہراتے رہے ہیں۔

نتیش کمارگزشتہ کئی دنوں سے بار بار یہ بیان دیتے رہے تھے کہ این ڈی اے کے رہنما کے طور پر وہی شخصیت درست اور موزوں ہوگی جو سیکولر اقدار پر کھرا اترے گی۔

ان کے بیانات سے ایسا سمجھا جاتا رہا کہ وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے بی جے پی میں بڑھتے اثرات اور ممکنہ طور پر انہیں پارٹی کا وزیرِاعظم کا امیدوار بنائے جانے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

کچھ روز قبل گوا کی میٹنگ میں نریندر مودی کو جب بی جے پی کی انتخابی مہم کی کمیٹی کا سربراہ بنانے کا اعلان کیا گيا تب سے بی جے پی اور جنتا دل یو میں اتحاد کے متعلق غیر یقینی صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔

اتوار کو پٹنہ میں طویل اجلاس کے بعد پارٹی کے صدر شرد یادو نے اعلان کیا کہ جنتا دل یو این ڈی اے سے الگ ہو رہی ہے۔

اسی فیصلے کے بعد سے ہی بی جے پی کے رہنما اپنی سابق اتحادی جماعت جنتا دل یو اور اس کے رہنماؤں پر سخت نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ سیکولرزم کی بات کرنے والے نتیش کمار نے جب 2002 میں گجرات کے فسادات ہوئے تھے تو اس وقت وہ واجپائي کی حکومت میں ریلوے کے وزیر تھے تو انہوں نے اس عہدے سے استعفی کیوں نہیں دیا تھا۔

نتیش کمار کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے کچھ مرکزی رہنماؤں نے انہیں فون کر کے این ڈی اے اتحاد میں رہنے کی درخواست کی تھی۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ سارے رہنما ان کی اصل تشویش پر انہیں کسی طرح کی ٹھوس یقین دہانی کرانے کو تیار نہیں تھے اس لیے ایک سیاسی پارٹی کے طور پر انہیں اپنے اگلے قدم پر غور کرنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بہار کے عوام نے انہیں کچھ اقدار اور خیالات کی بنیاد پر ووٹ دیا ہے اور وہ ان کے سامنے جوابدہ ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اتحاد کو بچانے کی پوری کوشش کی اور اتحادی جماعت کے رہنماؤں کو بات چیت کے لیے بلایا لیکن وہ نہیں آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے آخری کوشش کے طور کابینہ کی میٹنگ بھی بلائی لیکن بی جے پی کے وزراء کو اس میں آنا بھی گوارا نہیں تھا۔