کرناٹک کے عوام گومگو کی صورتحال میں

بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں انتخابی پیش گوئیوں کے عین مطابق حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی شکست فاش سے دو چار ہوئی ہے اور کانگریس ریاست میں دوبارہ اقتدار میں آگئی ہے ۔
بھارتیہ جنتا پارٹی پانچ برس قبل جب کرناٹک میں اقتدار میں آئی تھی تو اس نے پہلی بار جنوبی بھارت میں قدم رکھا تھا۔ بی جے پی کا اثر پہلی بار شمال سے نکل کر جنوب کی طرف بڑھ رہا تھا۔ پارٹی ایک ایسی ریاست میں اقتدار میں آئی تھی جو نئے ابھرتے ہوئے بھارت کی نمائندہ تصویر کہی جاتی تھی۔
ریاستی دارالحکومت بنگلور بھارت کا ’سیلیکون ویلی‘ بن چکا تھا اور بڑی بڑی کمپنیاں بنگلور کو اپنا مرکز بنا رہی تھیں ۔کرناٹک کی کامیابی بی جے پی کی بہت بڑی سیاسی اور نظریاتی کامیابی تھی ۔
لیکن کرناٹک میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے چند ہی مہینوں بعد بد عنوانی اور پارٹی کے اندر انتشار کا ایک ایسا دور شروع ہوا جس کی حالیہ برسوں میں مثال نہیں ملتی۔ بدعنوانی اور بد انتظامی سے تنگ آ کر کرناٹک کی عوام نے بی جے پی کو اقتدار سے اکھاڑ پھینکا اور وہ ان کی جگہ کانگریس کو اقتدار میں لے آئے۔
یہ وہی کانگریس ہے جس کی موجودہ مرکزی حکومت کو حزب اختلاف اور مبصرین آزاد بھارت کی ’سب سے بد عنوان‘ حکومت قرار دے رہے ہیں۔
دہلی میں فی الوقت منموہن سنگھ کی حکومت کے وزیر قانون پر کوئلہ کانوں کی نیلامی میں گھپلے سے متعلق سی بی آئی کی ایک رپورٹ کے مضمون میں اہم تبدیلیاں کرنے کا الزام ہے۔ اور ریلوے کے وزیرکو اپنے محمکے میں ایک اعلیٰ اہلکار کی تقرری کے لیےکروڑوں روپے کی رشوت کے ایک معاملے میں تفتیش کا سامنا ہے۔

منموہن سنگھ کی حکومت ٹیلی مواصلات کے گھپلے، کامن ویلتھ گیمز میں اربوں روپے کے گھپلے ، کانوں کی نیلامی کے گھپلے اور کئی دیگر تاریخ ساز گھپلوں کے الزامات سے گزر کر اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر رہی ہے۔
کرناٹک کے نتائج اس بات کے عکاس ہیں کہ عوام بد عنوانی سے زیادہ بد انتظامی سے تنگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس پر بدعنوانیوں کے سنگین الزامات کے باوجود ریاست کی عوام نے اسے یہ سوچ کر ووٹ دیا ہے کہ شاید وہ بی جے پی سے بہتر انتظامیہ فراہم کرے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پورے بھارت میں ہر طرف عوام ایک بہتر نظام کے خواہاں ہیں۔ وہ سیاسی جماعتوں کے فرسودہ طرز عمل سے نالاں ہیں۔ عوام پرانے طرز کے سرکاری نظام سے تنگ آچکی ہے اور وہ ایک بہتر، چست، فعال اور جوابدہ انتظامیہ کی متمنی ہے۔
لیکن بھارتی عوام کی بد قسمتی یہ ہے کہ ابھی تک سیاسی جماعتوں کی روش نہیں بدلی ہے۔ لوگ ایک بہتر رہنما کے انتطار میں کرناٹک کی طرح کھائی اور کنوئیں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔







