ریپ کے دارالحکومت میں کچھ بھی نہیں بدلا

چار مہینے قبل سولہ دسمبر کو نئی دہلی میں ایک نوجوان لڑکی کے ریپ اور قتل کے بھیانک واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ نئی دہلی، ممبئی ، کولکتہ، بنگلور ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں خواتین پر جنسی حملوں کے خلاف مظاہرے ہونے لگے، اخبارات اور ٹیلی ویژن پر بحث چھڑ گئی اور ہر طرف یہ مطالبہ ہونے لگا کہ ریپ کے مجرموں کو موت کی سزا دی جائے ۔
ملک کی پارلیمنٹ میں بحث ہوئی ، قانون میں ترمیم کی گئی، تیز رفتار سماعت کے لیے عدالتیں بنائی گئیں اور سولہ دسمبر کے ملزموں کے خلاف سماعت شروع ہو گئی ۔ ایسی محسوس ہو ا کہ جیسے عوامی بیزاری اور احتججاج کے بعد انتظامیہ کچھ چاق و چوبند ہوئی ہے ۔ پولیس کا نظام کچھ بہتر ہوا ہے اور معاشرے میں بھی کچھ بیداری آ رہی ہے۔
یہ احساس چند دنوں تک جاری رہا لیکن کچھ ہی دنوں میں نئی دہلی سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے ریپ کی خبریں آنے لگیں۔
گزشتہ پانچ دن میں نئی دہلی اور اس کے نواح میں پانچ برس کی بچیوں کے ساتھ ریپ کے تین بھیانک واقعات سامنے آئے ہیں ۔نئی دہلی اس وقت پھر مظاہروں اور احتجاج کا مرکز بنی ہوئی ہے اور ہزاروں شہری پولیس کے ہیڈ کوارٹرز پر پولیس کی بے عملی اور بے حسی کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں ۔
اس بار ریپ کا ایک واقعہ مشرقی نئی دہلی میں ہوا ہے ۔ حملہ آ ور نے پانچ برس کی بچی کو مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا ۔ بچی انتہائی خطرناک حالت میں ہے اور ڈاکٹر اسے بچانے کے دن رات کوشش کر رہے ہیں جبکہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔
پندرہ اپریل کو جب بچی کی ماں مقامی پولیس سٹیشن میں بچی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے گئیں تو پولیس نے ان کی رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا اور دو دنوں کے بعد جب بچی نیم مردہ حالت میں ایک زیر تعمیر عمارت کے کمرے میں پائی گئی تو پولیس نے مبینہ طور پر بچی کے ماں باپ کو خاموش رہنے کے لیے رشوت کی پیشکش کی ۔

ریپ کے اس بہیمانہ واقعے پر ایک بار پھر ہزاروں لوگ سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ گھبرائی ہوئی حکومت بے بسی کے بیانات دی رہی ہے۔ جب وزیر صحت اور دوسرے رہنماؤں نے ہسپتال میں بچی کے والدین سے ملنے کی کوشش کی تو مشتعل مظاہرین نے ان پر حملے کیے اور انہیں ہسپتال سے بھاگنا پڑا۔
ان حساس حالات کے دوران ایک اعلیٰ پولیس افسر نے ایک احتجاجی لڑکی کو تھپڑ مار دیا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ پورا منظر اس حقیقت کا عکاس ہے کہ اتنے دنوں میں کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ نئی دہلی کو بھارت کا ’ریپ کیپیٹل‘ یا جنسی زیادتی کا دارالحکومت کہا جاتا ہے اور وہ آج بھی ہے۔ یہاں ہر دوسرے روز ریپ کا کوئی بھیانک واقعہ سامنے آتا ہے ۔ پورے ملک کی صورتحال یہی ہے مگر انتظامیہ اور پولیس بے حسی کی تصویر بنی ہوئی ہے ۔
گزشتہ دنوں اتر پردیش میں جب ایک دس برس کی لڑکی ریپ کی رپورٹ لکھانے اپنی ماں کے ساتھ پولیس سٹیشن پہنچی تو پولیس نے ماں اور بیٹی کو لاک اپ میں قید کر دیا ۔ میڈیا میں یہ خبر آنے کے بعد انہیں لاک اپ سے باہر نکالا گیا۔
بھارت میں ایک عرصے سے یہ مطالبہ ہو رہا ہے کہ پولیس کے نظام میں اصلاح کی جائے ۔ قانون اور انصاف کا پورا نظام فرسودہ ہو چکا ہے اس میں زبردست تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔ اسے اس دور کے معاشرے، جرم کی نفسیات ، معاشرتی پیچیدگیوں اور انسانی پہلوؤں سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔
ریپ اور خواتین کے خلاف جرائم بھارتی معاشرے کا ایک سنگین مسئلہ ہے تاہم اسے یکلخت ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بارے میں معاشرے کے ہر طبقے میں بیداری پیدا کرنی ہوگی لیکن انتظامیہ اور پولیس بے حسی کی جس سطح پر ہے اس کے پیش نظر عوام کو اپنا دباؤ برقرار رکھنا ہو گا۔







