کشمیر میں طالبانائزیشن ہو سکتی ہے:یاسین ملک

بھارت کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یاسین ملک کہا ہے کہ کشمیر میں جاری حکومتی جبر اور پولیس کی زیادتیوں سے وہاں افغانستان جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
یاسین ملک کوگزشتہ ماہ پاکستان سے لوٹتے ہی گھر میں نظربند کر دیا گیا تھا۔ وہ آئندہ ماہ نئی دہلی میں قیدیوں کے حقوق کے لیے چوبیس گھنٹے کی بھوک ہڑتال کرنے والے ہیں۔
واضح رہے کہ فروری میں افضل گورو کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دیے جانے کے بعد کشمیر میں صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی۔ مظاہرین پر فائرنگ کےدوران پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پینتالیس روزہ نظربندی کے بعد انہوں نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عالمی اداروں کے نمائندے اور بھارتی سول سوسائٹی کشمیریوں کو برسوں عدم تشدد کا سبق پڑھاتے رہے، لیکن جب کشمیریوں نے غیرمسلح جدوجہد شروع کی تو لوگوں کو پولیس اور فوج کی گولیاں کھانے کے لیے سرِ راہ چھوڑ دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ کیا حکومت ہند یہی چاہتی ہے کہ جب نیٹو افواج کابل سے نکل جائیں تو کشمیر کی نئی نسل بھی طالبان کے طرز پر مزاحمت کریں۔ عالمی ادارے خاموش کیوں ہیں؟ بھارتی سول سوسائٹی اُس وقت یہاں آتی ہے جب یہاں آگ لگتی ہے۔ کیا انہیں یہ نہیں معلوم کہ 1984 میں مقبول بٹ کو پھانسی دینے کے چار سال بعد یہاں عوامی سطح پر مسلح مزاحمت شروع ہوئی۔جو کچھ آج کل ہورہا ہے اس سے طالبانائزیشن ہو سکتی ہے۔‘
لبریشن فرنٹ کے رہنما نے کہا کہ بھارت کی سول سوسائٹی کو حکومت نے ’فائرفائٹرز‘ یعنی آگ بجھانے کے عملے کے طور استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کم سن بچوں کو جیلوں میں قید کرنے اور لوگوں کو محصورکرنے سے کشمیر میں طالبان طرز کی مزاحمت کا رجحان اُبھرے گا، جو حالات کو ایک نئے بحران سے دوچار کرسکتا ہے۔
سینتالیس سالہ یٰسین ملک نے کہا ’بھارت نے فوجی تسلط کے بل پر کشمیر کو کنٹرول کررکھا ہے۔ عوامی وفاداری خریدنے کے لیے بدترین کرپشن متعارف کی گئی، عوامی ردعمل دبانے کے لیے فوج اور پولیس کو قتل و غارت اور ظلم وتشدد کی کھلی چھوٹ دی گئی لیکن اس سب کے باوجود ہم لوگ چار نسلوں سے آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘
طالبان کی کشمیر آمد کے خدشات سے متعلق یاسین ملک کا کہنا تھا: ’ ہم طالبان سے کم تر نہیں ہیں۔ ہمارے ایک لاکھ لوگ شہید ہوگئے۔ ہم نے مسلح مزاحمت کی ہے۔ ہم اپنی تحریک کو آگے لے جائیں گے، لیکن ابھی تک ہمارا موقف یہ ہے کہ عدم تشدد کے راستے پر رہ کر ہم نے بھارت کو سیاسی، اخلاقی اور روحانی شکست سے دوچار کر دیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







