مودی کا سیاسی انقلاب

منموہن سنگھ کی حکومت اگر اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو انتخابات ایک برس بعد ہونگے
،تصویر کا کیپشنمنموہن سنگھ کی حکومت اگر اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو انتخابات ایک برس بعد ہونگے

بھارت میں وزیراعظم منموہن سنگھ کی حکومت پچھلے کئی برس سے کوئی کام کاج کرنے کے بجائے بدانتظامی، بدعنوانی اور نااہلی کے الزامات کا دفاع کرنے میں مصروف رہی ہے۔

حکومت اپنی ساکھ اور مقبولیت بہت تیزی سے کھو رہی ہے اور اس وقت ملک میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ یہ حکومت آئندہ برس تک اپنی مدت پوری کر سکے گی بھی یا نہیں۔

ایک طرف سارا نظام معلق اور تعطل کا شکار نظر آ تا ہے تو دوسری طرف حکمراں کانگریس کے آئندہ انتخابات میں وزارت عظمیٰ کی امیدواری کے سوال پر بھی ابہام نظر آتا ہے۔

کچھ عرصے پہلے تک یہ توقع کی جا رہی تھی کہ راہول گاندھی آئندہ پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کی قیادت کریں گے۔ لیکن ان کی سیاسی سوجھ بوجھ اور ارتقا سے ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ وہ اس مرحلے پر وزارت عظمیٰ کی امیدواری کے اہل ہیں۔ وہ خود بھی اب اعتراف کرنے لگے ہیں کہ وہ وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں۔ حکمراں کانگریس اس وقت ایک تباہ کن سیاسی کنفیوژن سے گزر رہی ہے۔

وزیراعظم منموہن سنگھ کی ناکامی سے ملک کی نئی نسل بے چین ہو رہی ہے۔ اسے ایک بہتر اور فیصلہ کن متبادل کی تلاش ہے جو اس کی تمناؤں اور خوابوں کو حقیقت کی شکل دے سکے۔ حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی اور کانگریس میں سیاسی اور نطریاتی اعتبار سے کوئی بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ بڑھتی ہوئی بے چینیوں اور تبدیلی کے ماحول میں بی جے پی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ کو وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر انتخابی میدان میں اتارنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔

بی جے پی کی مرکزی قیادت نے نہ صرف یہ کہ پارٹی کی پالیسی ساز کمیٹی میں مودی کو شامل کر لیا ہے بلکہ ان کے قریبی ساتھی اور گجرات کے سابق وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی پارٹی کا اہم عہدہ دیا گیا ہے۔ مسٹر شاہ پر ریاست میں فرضی انکاؤنٹر کرانے اور قتل کے مقدمات چل رہے ہیں اور ابھی کچھ دنوں پہلے تک ان کے ریاست میں داخلے پر پابندی عائد تھی۔ بی جے پی کی مرکزی ٹیم میں امیت شاہ کو شامل کیا جانا پارٹی میں مودی کے بڑھتے ہوئے غیر معمولی اثر کا عکاس ہے۔

بی جے پی کی مرکزی قیادت نے پارٹی کی پالیسی ساز کمیٹی میں مودی کو شامل کر لیا ہے
،تصویر کا کیپشنبی جے پی کی مرکزی قیادت نے پارٹی کی پالیسی ساز کمیٹی میں مودی کو شامل کر لیا ہے

مودی پر 2002 کے فسادات کے دوران مسلمانوں کو دانستہ طور پر تحفظ نہ فراہم کرنے کا الزام ہے۔ اس کے باوجود ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک کا ایک بڑا طبقہ ان کے سخت گیر ہندوئیت کے نطریے کو ان کی انتظامی صلاحیت کے ساتھ قبول کرنے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔

بیشتر مبصرین یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مودی کیا واقعی پورے ملک میں اس قدر مقبول ہو رہے ہیں کہ وہ وزارت عظمیٰ تک پہنچ سکتے ہیں۔ یا پھر یہ میڈیا کی سنسی خیز صحافت ہے جہاں مودی سے متعلق کوئی خبر یا تجزیہ انتہائی مقبول ہوتا ہے۔

اگر واقعی مودی آنے والے دنوں میں وزارت عظمیٰ کی طرف جامع پیش قدمی کرتے ہیں تو اس سے ملک کی ہندو وادی طاقتیں اپنے نظریے کی فتح سے تعبیر کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی آئندہ انتخابات میں صرف ترقی کے ایجنڈے پر نہیں ہندوئیت کے رنگ کے ساتھ بھی انتخابی میدان میں اترے گی۔ مودی کے ساتھ ساتھ بھارت کی ہندو تنظیمیں بھی پوری طرح سرگرم ہو گئی ہیں۔ یہی نہیں وشو ہندو پریشدنے آئندہ دنوں کی حوصلہ افزا صورتحال کا کا اندازہ لگا کر یہ اعلان کیا ہے کہ سنہ 2015 میں گجرات کو ہندو ریاست قرار دیا جائے گا۔

منموہن سنگھ کی حکومت اگر اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو انتخابات ایک برس بعد ہونگے اور ایک برس کی مدت عوام کے تصورات پر اثر انداز ہونے کے لیے کافی ہے ۔ملک میں انتخابات جب بھی ہوں لیکن ماحول ابھی سے بن چکا ہے۔ آئندہ انتخابا ت کے کردار رفتہ رفتہ سرگرم ہوتے جا رہے ہیں۔

اگلا انتخاب صرف نئی حکومت کے قیام کا انتخاب نہیں ہو گا۔ یہ بھارت کے سیاسی نظریے اور جمہوریت کی نوعیت کا بھی تعین کرے گا ۔