گجرات:احتساب کی تفتیش کی خبر دینے پر سزا

نریندر مودی
،تصویر کا کیپشننئے قانون کے تحت گورنر سے زیادہ طاقت وزیر اعلی کو حاصل ہے

گجرات اسمبلی نے اس نئے احتسابی قانون کو منظوری دی ہے جس کے تحت اگر کوئی شخص اس کے تحت ہونے والی تفتیش کی خبر عام کرے گا تو اسے دو برس قید کی سزا ہوگی۔

ریاست میں منظوری کیے جانے والے احتسابی کمیشن لوک آیکت کی تقتیش کے دوران اس سے متعلق کسی قسم کی معلومات میڈیا کو نہیں دی جائیں گی اور اگر کسی صحافی نے اس سے متعلق کوئی خبر شائع کی تو اسے دو برس تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

نئے قانون کے مطابق اس کے نافذ ہونے کے بعد پانچ برس سے پرانے معاملات کی تفتیش نہیں ہو گی یعنی اگر کسی سرکاری اہلکار یا حکومت کے کسی نمائندے کے خلاف بدعنوانی کا یہ کوئی دیگر معاملہ پانچ برس پرانا ہے تو اس کی تفتیش ہی نہیں ہوگی۔

لوک آیکت کی تفتیش کے دائرے میں ریاست کے وزراء کے علاوہ وزیراعلی کو بھی رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان سرکاری اہلکاروں کے معاملات کی بھی لوک آیکت تفتیش کرے گا جن کی تنخواہ سرکار دیتی ہے۔

گجرات حکومت کا کہنا ہےکہ عوام کے مفاد کو دھیان میں رکھتے ہوئے کسی بھی سرکاری ملازم یا حکومت کے نمائندے کو اس قانون کے دائرے سے باہر نہیں رکھا گیا ہے۔

تفتیش میں قصوروار پائے گئے کسی اہلکار کے خلاف اگر ان محکمہ کاروائی نہیں کرتا ہے تو لوک آیکت کا محکمہ تفتیش کے احکامات دے سکتا ہے۔

اس قانون کے مطابق لوک آیکت یعنی احتسابی ادارے کے اہم افسر اور چار نائب لوک آیکت کا انتخاب وزیراعلی کی زیرِ سربراہی کمیٹی کرے گی۔

اس کمیٹی کے ذریعے منتخب کیے گئے افسران کے ناموں کو منظوری ریاستی گورنر دیں گے۔

جو شخص لوک آیکت میں شکایت درج کرنا چاہتے ہیں انہیں اس کے لیے دو ہزار روپے فیس ادا کرنی ہوگی۔

تاہم اگر کسی شخص نے غلط شکایت کی تو اسے چھ ماہ قید اور پچیس ہزار روپے جرمانے کی سزا دی جائے گی۔ پرانے قانون میں یہ سزا دو برس تھی۔