
سلمان رشدی اور دیپا مہتا دونوں ہی بھارت میں متنازع شخصیات ہیں
بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں متنازع مصنف سلمان رشدی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد ان کا دورہ منسوخ کردیا گیا ہے۔
سلمان رشدی آج کل اپنی کتاب ’مڈنائٹس چلڈرین‘ پر مبنی فلم کی پرموشن کے لیے بھارت میں ہیں اور اسی سلسلے میں بدھ کو ان کا ایک پروگرام کولکتہ میں بھی تھا۔
بعض مسلم تنظیموں کی جانب سے بدھ کو کولکتہ کے ایئر پورٹ کے باہر سلمان رشدی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیےگئے جس کے بعد انتظامیہ نے ان سے متعلق پروگرام منسوخ کرنے کو کہا۔
مظاہرین نے ان کی متنازعہ کتاب ’شیطانی آیات‘ کے حوالے سے ان کے خلاف نعرے بازي کی اور کہا کہ وہ ایسی کتاب کے مصنف کو شہر میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔
اطلاعات کے مطابق حکومت اور مقامی پولیس انتظامیہ کی اعتراض کے بعد سلمان رشدی کو کولکاتہ کا دورہ منسوخ کرنے کا مشورہ دیا گيا۔
سلمان رشدی اس فلم کے پروموشن کے سلسلے میں دہلی، بنگلور اور ممبئی کے پروگراموں میں حصہ لے چکے تھے اور ان کا آخری پروگرام کولکتہ میں ہونا تھا۔
خبروں کے مطابق انہیں کولکتہ کی ادبی کانفرنس کی طرف سے بھی دعوت ملی تھی اور کولکتہ کے کتابی میلے کے ایک سیمینار میں بھی انہیں شریک ہونا تھا۔
میڈیا کی خبروں کے مطابق ادبی کانفرنس کے منتظمین نے کہا ہے کہ سلمان رشدی کو کولکاتہ آنے سے روکنے کے لیے مغربی بنگال کی حکومت کے ایک وزیر نے دو بار فون کیا۔ تاہم منتظمین نے اس وزیر کا نام بتانے سے انکار کیا ہے۔
اس فیصلے کی وجہ سے سلمان رشدی کولکتہ میں فلم کے ہندوستانی ڈسٹریبیوٹرگروپ کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس میں بھی شامل نہیں ہو سکیں گے۔
مقامی پولیس کی جانب سے پی وی آر کی میڈیا ٹیم کو بتایا گیا تھا کہ اگرسلمان رشدی کولکتہ آتے ہیں تو انہیں روک کر دوسری فلائٹ سے واپس بھیج دیا جائےگا۔
سلمان رشدی کے ناول ’مڈناٹس چلڈرن‘ پر بنی فلم یکم فروری کو ریلیز ہورہی ہے اور جمعرات کو ممبئی میں اس کے شاندار پریمیئر کا اہتمام کیا جارہا ہے۔
سلمان رشدی کے متنازع ناول ’شیطانی آیات‘ پر بھارت سمیت دنیا بھر میں کافی تنازعہ رہا ہے اور بھارت میں اس کتاب پر پابندی عائد ہے۔ گزشتہ سال وہ انہی تنازعات کی وجہ سے ہی جے پور کے ادبی میلے میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔
بھارتی فلم ہدایت کارہ دیپا مہتا نے سلمان رشدی کی کتاب ’مڈ نائٹس چلڈرن‘ پر مبنی فلم کو ڈائریکٹ کیا ہے۔






























