
دیپا مہتا اور سلمان رشدی دونوں ہی بھارت میں متنازع شخصیات ہیں
بكر ایوارڈ یافتہ متنازع مصنف سلمان رشدی کے ناول ’مڈ نائٹس چلڈرن‘ پر بننے والی فلم کو آخرِ کار بھارت میں تقسیم کار مل گیا ہے۔
’پي وي آر پكچرز‘ کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھارت میں فلم کی نمائش کے حقوق خرید لیے ہیں اور وہ اسے دسمبر میں ریلیز کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
اس سے پہلے فلم کی ڈائریکٹر دیپا مہتہ نے کہا تھا کہ انہیں بھارت میں فلم کے تقسیم کار کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے۔
پي وي آر پكچرز کے سربراہ کمل گيان چنداني نے ایک نیوز ویب سائٹ کو بتایا،’ریلیز کی تاریخ ابھی طے کی جائے گی لیکن یہ طے ہے کہ اس مارکیٹنگ کی سطح کسی بالی وڈ فلم سے کم نہیں ہوگی‘۔
فلم ساز دیپا مہتا اور سلمان رشدی دونوں ہی بھارت میں متنازع شخصیات ہیں۔
سلمان رشدی کے متنازع ناول ’سٹینک ورسز‘ پر سنہ انیس سو اٹھاسی میں بھارت میں پابندی لگائی گئی تھی جو اب بھی نافذ ہے۔
ان کے خلاف بھارت میں مسلم تنظیمیں مظاہرے بھی کرتی رہی ہیں اور رواں سال جنوری میں جان سے مارنے کی دھمکی ملنے کے بعد، انہوں نے جے پور ادبی میلے میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ ان کی مخالفت اتنی تھی کہ وہ ویڈیو لنک کے ذریعے بھی وہاں موجود لوگوں سے خطاب نہیں کر پائے تھے۔
دیپا مہتا نے اس سے پہلے خواتین کی ہم جنس پرستی پر مبنی فلم ’واٹر‘ بنائي تھی جس کی شوٹنگ ہندوؤں کے مقدم شہر بنارس میں ہونی تھی لیکن ہندو تنظیموں نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔
بعد میں انہوں نے فلم کی شوٹنگ سری لنکا میں کی۔ سلمان رشدی کی کتاب پر مبنی فلم بھی انہوں نے سری لنکا میں ہی شوٹ کی ہے۔






























