
کینیڈا میں مقیم بھارتی نژاد فلم ساز دیپا مہتا نے کہا ہے کہ بھارتی سنسر بورڈ نے سلمان رشدی کے ناول ’مڈ نائٹس چلڈرن‘ پر مبنی ان کی فلم کو بغیر کسی کاٹ چھانٹ کے پاس کر دیا ہے۔
مہتا نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’بھارت سے ہم سالم لوٹ آئے۔ یہ خبر زبردست ہے۔۔۔ مڈ نائٹس چلڈرن کی بھارتی سنسر بورڈ نے ایک بھی تصویر نہیں کاٹی۔ سلمان رشدی اور ہم بہت خوش ہیں‘۔
یہ فلم آئندہ سال کے شروع میں بھارت میں ریلیز ہو رہی ہے جبکہ اس کی رونمائی جنوبی بھارتی ریاست کیرالہ کے بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں بھی کی گئی تھی۔
اس فلم کے حوالے سے ایسے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ اسے بھارت میں ریلیز نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ اس میں بھارت کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی پر نکتہ چینی کی گئی ہے۔
لیکن بعد میں بڑے بھارتی سینما گھروں کے سلسلے میں سے ایک پی وی آر پکچرز نے بھارت میں اس کی ریلیز کا حق خرید لیا۔
واضح رہے کہ مہتا اور سلمان رشدی دونوں بھارت میں متنازع شخصیات میں شامل ہیں۔

مڈ نائٹس چلڈرن چھ سو صفحات پر مشتمل سلمان رشدی کا ناول ہے۔
مصنف کی انیس سو اٹھاسی میں شائع ہونے والی کتاب ’دی سیٹنک ورسز‘ پر بھارت میں پابندی عائد ہے۔ اس سال جنوری میں موت کی دھمکی کی خبروں کے بعد وہ جےپور لٹریچر فیسٹیول میں شامل نہ ہو سکے تھے۔
انھیں ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب سے بھی باز رہنا پڑا کیونکہ مظاہرین نے دھمکی دی تھی کہ اگر یہ خطاب ہوا تو وہ اس جگہ مظاہرہ کریں گے۔
اسی طرح دیپا مہتا کو شمالی بھارت کے شہر وارانسی یا بنارس میں ان کی فلم ’واٹر‘ کے لیے شوٹنگ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
اس کے بعد انھوں نے اس فلم کی شوٹنگ سری لنکا میں کی جہاں ’مڈ نائٹس چلڈرن‘ کی بھی شوٹنگ کی گئی ہے۔






























