
مڈنائٹس چلڈرن کو عالمی پیمانے پر چھبیس اکتوبر کو ریلیز کیا گیا ہے۔
بھارت اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والی معروف فلم ساز دیپا مہتا کی فلم ’مڈنائٹس چلڈرن‘ چھبیس اکتوبر بروز جمعہ ریلیز ہو گئی ہے۔
یہ فلم معروف ناول نگار سلمان رشدی کی کتاب ’مڈنائٹس چلڈرن‘ پر مبنی ہے لیکن اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا سکرین پلے بھی سلمان رشدی نے خود ہی لکھا ہے۔
واضح رہے کہ اس کتاب کو انیس سو اکیاسی میں بکر انعام سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
فلم ساز دیپا مہتا اور سلمان رشدی دونوں ہی بھارت میں متنازع شخصیات ہیں۔ سلمان رشدی کے متنازع ناول ’سٹینک ورسز‘ پر سنہ انیس سو اٹھاسی میں بھارت میں پابندی لگائی گئی تھی جو اب بھی نافذ ہے۔
یہ فلم بھارت میں اس سال کے آخر تک یا پھر دوہزار تیرہ کے شروع میں ریلیز ہوگی۔ آخر ایسا کیوں کیا گیا ہے اس کا جواب دیپا مہتا نے کچھ دن قبل یہ کہتے ہوئے دیا تھا کہ وہاں اس کے خلاف مظاہرے ہو سکتے ہیں لیکن انہیں فلم کے لیے ڈسٹریبیوٹر مل گیا ہے۔
بی بی سی سے رشدی کے بارے میں اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے دیپا مہتا نے کہا: ’سلمان ایک عمدہ مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ غضب کے سکرین پلے رائٹر بھی ہیں۔ ان کا نظریہ بڑا وسیع ہے اور ان میں ہیومر بھی کمال کا ہے۔‘

اس کا سکرین پلے بھی سلمان رشدی نے ہی لکھا ہے۔
کیا سلمان رشدی کے ساتھ فلم بنانے کے دوران انہیں اختلافات کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا تھا۔ اسکا جواب دیتے ہوئےدیپا نے کہا: ’ہاں، تھوڑے بہت اختلافات تو تھے، لیکن زیادہ تر امور پر ہم متفق تھے۔‘
دیپا نے یہ بھی بتایا کہ اس فلم کی شوٹنگ بہت مشکل تھی اور اس کا اندازہ انہیں پہلے ہی ہو گیا تھا اس لیے انھوں نے اپنی جسمانی فٹنس پر کافی توجہ دی۔
دیپا کہتی ہیں: ’یہ بہت ضروری تھا کہ شوٹنگ کے دوران میں مکمل طور پر صحت مند رہوں۔ اس لیے میں نے سگریٹ چھوڑ دی اورجم جانا شروع کر دیا۔ اب تو میں دارا سنگھ کی طرح محسوس کرتی ہوں۔‘
واضح رہے کہ ’مڈناٹس چلڈرن‘ اسی سال ٹورانٹو فلم فیسٹول میں بھی دکھائی گئی تھی۔
اس میں شبانہ اعظمی، انوپم کھیر، سیما بسواس، اور شہنا گوسوامی جیسے منجھے ہوئے اداکار ہیں۔
رشدی کا یہ ناول اور فلم برطانیہ سے بھارت کی آزادی حاصل کرنے اور تقسیم ہند کے واقعات پر مبنی ہے۔ یہ ان چند بچوں کی کہانی ہے جو پندرہ اگست انیس سو سینتالیس کو نصف شب میں پیدا ہوئے تھے۔






























