
کشتواڑ کے ضلع کمشنر نے بتایا کہ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں
بھارت کےزیرانتظام کشمیر کے کشتواڑ خطے میں انٹرنیٹ پر اسلام مخالف تصویروں کی اشاعت کے بعد حالات کشیدہ ہیں اور پولیس نے تین افراد کوگرفتار کر لیا ہے۔
انٹرنیٹ پر اسلام، قرآن اور کعبے کی توہین آمیز تصاویر شائع ہوتے ہی جنوبی کشمیر کے کشتواڑ ضلعے میں مسلم مظاہرین نے پولیس تھانے پر پتھراؤ کیا جس کے بعد کشتواڑ کے ساتھ ساتھ ملحقہ اضلاع ڈوڈہ اور بھدرواہ میں بھی کشیدگی پھیل گئی۔
اس سے قبل لداخ کے زان اسکار قصبہ میں بودھ آبادی اور مسلم باشندوں کے درمیان تصادم کے بعد کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔
حکام نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بُک پر اسلام مخالف تصاویر شائع کرنے کے الزام میں تین مقامی ہندو شہریوں کو گرفتار کرلیا ہے، تاہم کشت واڑ کی جامع مسجد کے امام نے کشمیر میں ہڑتال کی کال دے دی۔
اس دوران گرفتار کیے گئے ہندو شہریوں کے رشتے داروں نے بھی مظاہرہ کیا ہے ۔ دونوں گروپوں کے درمیان چھاترو تحصیل میں تصادم ہوا لیکن پولیس نے انہیں منتشر کردیا۔
کشتواڑ کے ضلع کمشنر نے بی بی سی کو بتایا کہ انتظامیہ نے حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کو خصوصی ہدایات دی ہیں۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ ضلع میں کرفیو کا اعلان تو نہیں کیا گیا، لیکن شاہراہوں اور بازاروں میں آمدورفت کو محدود کردیا گیا ہے۔
کشتواڑ کے باشندوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے فیس بُک کے اُس صفحہ کو بلاک کرنے میں تاخیر سے کام لیا جس پر قابل اعتراض مواد شائع ہوا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق فیس بک پر ایک پاکستان مخالف صفحہ بنایا گیا تھا جس پر قرآن اور کعبے کی توہین آمیز تصاویر اپ لوڈ کی گئیں تھیں۔
پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ صفحہ کشوری شرما، کیرتی شرما اور بنسی لال نامی مقامی شہریوں نے شائع کیا ہے، چنانچہ انہیں گرفتار کرلیا گیا۔
ان میں سے بنسی لال اور کشوری شرما محکمۂ تعلیم میں اساتذہ کی حیثیت سے تعینات تھے۔ ضلع کمشنر نے دونوں کو نوکریوں سے برخاست کردیا ہے۔
ضلع انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ تینوں ملزموں کے خلاف چارج شیٹ مکمل ہونے کے بعد انہیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دو سال کے لیے قید کیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کشتواڑ میں اکثریت مسلمانوں کی ہے لیکن ہندوؤں کی بھی اچھی خاصی تعداد اس پہاڑی ضلع میں آباد ہے۔






























