
پولیس اہلکار کو ایک خفیہ مقام پر رکھا گیا تھا
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے شمالی قصبہ بارہ مولہ میں جمعرات کو فوج اور پولیس کے مشترکہ دستوں نے ایک گاؤں کا محاصرہ کرکے اُس پولیس اہلکار کو چھُڑا لی ہے جسے مظاہرین نے ’اغوا‘ کر لیا تھا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو اُس وقت پیش آیا جب ایک ساتھی کی گرفتاری کے خلاف کچھ نوجوان مظاہرہ کر رہے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق غلام نبی نجار عرف نبہ چھان نامی ایک نوجوان کو پولیس نے ایک چھاپہ کے دوران گرفتار کرلیا۔
پولیس کے اعلیٰ افسر نے بتایا: ’غلام نبی کو ویڈیو شواہد کی بنا پر گرفتار کیا گیا۔ وہ منگل کو امریکی فلم ساز کی متنازعہ فلم کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد میں ملوث تھا۔‘
مذکورہ نوجوان کی گرفتاری کے خلاف جمعرات کو بارہ مولہ کے نوجوان مظاہرے کر رہے تھے۔ اسی دوران جموں کشمیر پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل بھیڑ کے قریب گیا تو مظاہرین نے اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے لیا۔
پولیس اہلکار کو ایک خفیہ مقام پر رکھاگیا اور نوجوانوں نے مقامی پولیس تھانہ کو فون پرمطلع کیا کہ پولیس اہلکار کو تب ہی رہا کیا جائے گا جب غلام نبی کو قید سے آزاد کیا جائےگا۔
پولیس کے مطابق اعلیٰ افسروں کی ایک ٹیم نے پہلے خفیہ اطلاعات کی بنا پر ’اغواکاروں‘ کے بارے میں معلومات جمع کیں اور ساتھ ہی فوج کو بھی مطلع کیاگیا۔ بعدازاں بارہ مولہ کی ایک بستی سے پولیس اہلکار کو برآمد کیاگیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حرکت کرنے والوں میں اکثر کم سن لڑکے تھے۔ قابل ذکر ہے اٹھارہ سال سے کم عمر کے نوجوانوں کی بڑی تعداد کی گرفتاری کے خلاف یہاں کے علیحدگی پسند حلقے اور انسانی حقوق کے ادارے حکومت سے ناراض ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بچوں کو گرفتاری کے بعد برتاؤ میں بہتری لانے کے لیے ’جوِنائل ہوم‘ میں رکھا جاتا ہے۔
واضح رہے اُنیس سو نواسی میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی یہاں کےعسکریت پسندوں نے اپنے ساتھیوں کو چھڑانے کے لیے اہم شخصیات کے اغوا کا حربہ بھی اپنایا تھا۔ مفتی محمد سعید ، جو اُسوقت بھارت کے وزیرداخلہ تھے، کی بیٹی روبیہ سعید کو اغوا کیا گیا، جس کی رہائی کے بدلے حکومت نے کئی عسکریت پسندوں کو قید سے آزاد کردیا۔






























