بھارتی بحریہ میں جوہری آبدوز کی شمولیت

بھارت نے روس سے دس برس کے لیے یہ آبدوز کرائے پر لی ہے

،تصویر کا ذریعہ1

،تصویر کا کیپشنبھارت نے روس سے دس برس کے لیے یہ آبدوز کرائے پر لی ہے

بھارت ایک بار پھر دنیا کے ان چند ممالک کی فہرست میں شامل ہوگيا ہے جن کی بحریہ میں جوہری ہتھیاروں سے لیس آبدوز بھی موجود ہے۔

تقریباً ایک ارب ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی یہ آبدوز بھارت نے روس سے آئندہ دس برسوں کے لیے پٹے پر لی ہے۔

جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت والی روسی ساخت کی اس آبدوز کو بدھ کے روز خلیج بنگال میں بھارت کے مشرقی ساحل پر ایک تقریب کے دوران وزیر دفاع اے کے اینٹنی نے باقاعدہ بحریہ میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ’اس سے بھارتی بحریہ کو بڑی قوت ملےگي۔ آئي این ایس چکرا بھارتی سکیورٹی اور ملک خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنائےگي‘۔

اس آبدوز کے لیے بھارت اور روس کے درمیان دو ہزار چار میں ایک معاہدہ طے پایا تھا اور یہ دو ہزار نو میں بھارت کو ملنی تھا لیکن بعض وجوہات کے سبب اس میں تاخیر ہوئي۔

بھارت کے پاس سنہ انیس سو اکانوے سے جوہری آبدوز نہیں تھی لیکن اس سے پہلے وہ روسی ساخت کی ایک جوہری آبدوز استعمال کرتا رہا ہے۔

بحریہ میں اس جوہری آبدوز کی شمولیت سے بھارت چين، روس، امریکہ، برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک کی فہرست میں ایک بار پھر شامل ہوگيا ہے جن کے پاس جوہری آبدوزیں ہیں۔

بھارت نے روسی ساخت کی آٹھ ہزار ایک سو چالیس ٹن کی اکولا آبدوز کا نام چکرا رکھا ہے جبکہ روس میں اسے کے 52 نیرپا کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ آبدوز روس سے چالیس روز قبل بھارت کے لیے روانہ ہوئي تھی۔ اطلاعات کے مطابق جوہری عدم پھیلاؤ کے مد نظر بھارت چکرا آبدوز کو جوہری ہتھیاروں سے لیس نہیں کرےگا اور اس پر کروز میزائل نصب کیے جائیں گے۔

بھارت خود بھی روس کی مدد سے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت والی ایک آبدوز بنانے میں مصروف ہے جس کا نام آرہانت ہے اور کہا جا رہا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک وہ تیار ہوجائیگي۔ روس اس کے عملے کی تریبت میں بھی بھارت کی مدد کریگا۔