کنگ فشر مالی بحران جاری، مزید پروازیں منسوخ

،تصویر کا ذریعہsite
بھارت کی نجی ایئر لائن کنگ فشر کی بدھ کے روز مزید تقریبا بتیس پروازیں منسوخ ہوئی ہیں جبکہ حکومت نے ایک بار پھر کہا ہے کہ کمپنی خود اس کا حل تلاش کرے اور اس کی مدد نہیں کی جائیگي۔
پروازیں منسوخ ہونے سے جہاں مسافر پریشان ہیں وہیں ایئر پورٹ کے نظام الاوقات میں بھی خلل پڑا ہے۔ بدھ کے روز بیشتر پراوزیں ممبئی اور دلی جیسے بڑے شہروں سے منسوخ ہوئي ہیں۔
کنگ فشر ایئر لائن کو سخت مالی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اس کی مالی مدد کی جائے۔
لیکن حکومت نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ کسی بھی نجی کمپنی کی مالی مد کے حق میں نہیں ہے اور کمپنی کو چاہیے کہ وہ خود بینکوں سے اس بارے میں بات کرے۔
شہری ہوا بازی کے وزیر اجیت سنگھ نے کہا ’ہم نے بہت پہلے ہی یہ بات واضح کردی ہے۔ جہاں تک ایئر انڈیا کا سوال ہے تو وجیہ مالیہ کو پتہ ہے کہ وہ حکومت کی ہے اور جو مدد ہم اسے دیتے ہیں وہ کسی نجی کمپنی کو نہیں دی جا سکتی۔‘
اس دوران ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں نشر کی جا رہی ہیں کہ سرکاری بینک سٹیٹ بینک آف انڈیا کنگ فشر کو تقریبا ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے کا قرض دینے پر آمادہ ہوگئی ہے۔
وجیہ مالیہ کی کمپنی اس وقت شدید مالی مشکلات سے دو چار ہے اور ماہرین کے مطابق اگر اسے مالی مدد ملتی ہے تو و دوبارہ بحال ہو سکتی ورنہ دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق محمکہ شہری ہوائی بازی کے ڈائریکٹر جنرل ای کے بھارت بھوشن اس صورت حال کے متعلق شہری ہوا بازی کے وزیر سے ملاقات کر کے اس کے آپریشن پر بات کرنے والے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ایئر لائن کو ضابطے کے مطابق اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اس سے فلائٹس کے نظام میں مزید بد نظمی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب کنگ فشر نے اعلان کیا ہے کہ پروازوں سے متعلق وہ ایک نیا نظام الاوقات جاری کرے گا اور امکان ہے کہ اس کے چونسٹھ ایئر کرافٹ میں سے اٹھائیس ہی اپنا آپریشن جاری رکھ سکیں گے۔
بھارتی شہری ہوا بازی کے شعبے میں کئی نجی کمپنیوں کی ایئر لائنز ہیں اور کنگ فشر ان میں سے سب سے بہترین ایئر لائن مانی جاتی تھی۔ اس ایئر لائن کو اس کی بہتر خدمات کے لیے ایوارڈ بھی ملے ہیں۔ لیکن اسے کافی دنوں سے سخت مالی مشکلات کا سامنا رہا ہے اور اب حالت یہ ہے کہ وہ بندش کے دہانے پر کھڑی ہے۔







