گائے کا گوشت کھانا ایک سنگین جرم

،تصویر کا ذریعہtncattle
بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں گائے کو ذبح کرنے سے متعلق وضع کردہ ایک نئے قانون کے تحت گائے کا گوشت کھانے پر بھی سات برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
نئے قانون کے مطابق ریاست میں گائے کشی ایک سنگین نوعیت کا جرم ہے اور اس میں ملوث تمام افراد کو جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔
نئے قانون کے مطابق گائے، بیل، سانڈ یا اس کی نسل کے کسی دوسرے مویشی کا گوشت کھانا، گوشت رکھنا یا پھر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا قانوناً جرم ہے اور ان تمام معاملوں میں ایک ہی طرح سات برس قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
محض شک کی بنیاد پر بھی پولیس یا جس بھی اتھارٹی کو تلاشی کی اجازت دی گئی ہو تو وہ تلاشی کے لیے کہیں بھی، کسی کے بھی مکان پر چھاپہ مارنے کے مجاز ہو گی۔
اس قانون کے مطابق متعلقہ حکام کو ہر جگہ کا معائنہ کرنے اور مشکوک افراد سے تفتیش کرنے کا بھی حق حاصل ہوگا۔
ریاست مدھیہ پردیش میں گائے کو ذبح کرنے پر پہلے ہی سے پابندی عائد ہے اور اس کے تحت تین برس قید کی سزا کی تجویز تھی۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے اس قانون کو ناکافی قرار دے کر نیا قانون وضع کیا ہے۔
ریاستی حکومت نے’گاؤ ونش ودھ پریشید (سنسودھن) بل دو ہزار دس‘ کو منظوری کے لیے صدر کے پاس بھیجا تھا، اسے ریاستی حکومت نے گزشتہ جولائی میں وضع کیا تھا۔
اس قانون کو صدر جمہوریہ پرتببھا پاٹل کی طرف سے بھی گزشتہ ماہ منظوری مل چکی ہے اور ریاستی حکومت کو ملتے ہی اس کا نفاذ ہو جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نئے قانون کے مطابق اب ایسے ملازمین اور ڈرائیور کو بھی چھ سے تین ماہ کی قید کی سزا دی جا سکے گي جو گائے کو ذبح کرنے کرنے والے افراد کے ساتھ کام کرتے ہیں یا گائے کو لانے میں ملوث ہیں۔
مرکزی حکومت نے اس قانون میں محض شک کی بنیاد پر چھاپہ مارنے کی کارروائي کرنے میں ترمیم کی سفارش کی تھی اور کہا تھا کہ اگر گائے کو ذبح کرنے کا کوئی واقعہ پیش آجائے تو اس صورت میں چھاپہ مارنے کی اجازت دی جانی چاہیے لیکن محض شک کی بنیاد پر یہ درست نہیں ہوگا۔تاہم ریاستی حکومت نے اس سفارش کو منظور نہیں کیا ہے۔







