چلی آتش فشان کی راکھ سے آسٹریلیا متاثر

،تصویر کا ذریعہAFP
چلی کے آتش فشاں پہاڑ سے اٹھنے والے راکھ کے بادل ملک کے جنوبی حصے میں پھیل گئے ہیں اور اس وجہ سے آسٹریلیا کے دو بڑے ہوائی اڈے متاثر ہوئے ہیں اور اڑتالیس گھنٹوں کے لیے پروازیں متاثر ہورہی ہیں۔
قنٹاس اور ورجن نے میلبرن اور سڈنی کے ہوائی اڈوں سے اپنی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ ایڈیلیڈ کا ہوائی اڈہ بند کردیا گيا ہے جبکہ کینبرا کی پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔
گزشتہ ہفتے بھی پروازوں کے بندش سے ہزاروں مسافر پھنس گئے تھے اور اس مرتبہ راکھ کے بادل اتنے نیچے ہیں کہ ان کے نیچے پرواز کرنا مشکل ہے۔
گزشتہ ہفتے ورجن آسٹریلیا سمیت کچھ فضائی کمپنیوں نے بادلوں کے نیچے پروازیں کی تھیں لیکن اس بار انہیں پرواز نہ کرنے کا مشورہ دیا گيا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
راکھ کے یہ بادل بیس سے چالیس ہزار کی فٹ کی اونچائی کے درمیان اڑ رہے ہیں۔قنٹاس ایئر لائن کا کہنا ہے کہ چونکہ راکھ کے بادلوں کے نیجے پرواز کرنا خطرہ سے خالی نہیں اور اس کی پالیسی کے منافی ہے اس لیے وہ پروازیں روک رہی ہے۔
ایئر لائن کے ترجمان اولویہ ورتھ کے بیان کے مطابق ’ بدھ کے روز دو سو زیادہ پروازیں ہم منسوخ کررہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں ہم آپریٹ کرنے کے لائق نہیں ہیں‘۔
آسٹریلیا کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ایڈیلیڈ ائر پورٹ اگلے چوبیس گھنٹے تک متاثر رہے گا لیکن کینبرا اور سڈنی اڑتالیس گھنٹے تک متاثر رہ سکتے ہیں۔ بدھ کے روز سے میلبرن کا ائر پورٹ بھی چھتیس سے اڑتالیس گھنٹوں تک بند رہ سکتا ہے۔
اے بی سی نیوز کے مطابق سڈنی کی جانب آنے والی انٹرنیشنل فلائٹس کو بریسبین کے ہوائی اڈے کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ ورجن کی پروازیں منسوخ ہونے کا مطلب یہ ہے تقریباً ایک سو ستّر پروازیں نہیں اڑیں گي جس سے تقریبا ایک لاکھ مسافر متاثر ہونگے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محکمہ شہری ہوا بازی میں حفاظتی امور کے ترجمان پیٹرگبسن کا کنا ہے کہ اس صورت حال سے ملک بھر میں لاکھوں مسافر متاثر ہونے والے ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی راکھ کے بادلوں کے سبب آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں تقریبا سات سو پروازیں اور ایک لاکھ مسا فر متاثر ہوئے تھے۔







