غذائی قلت کے باعث بھوک کا خدشہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایک عالمی رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ بھارت، برازیل، مغربی افریقہ اور میکسیکو میں ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں غذائی قلت کے باعث عوام کو مستقبل میں بھوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سائنسدان، جو عالمی تحقیقاتی گروپ سی جی آئی اے آر کے لیے رپورٹ تیار کررہے تھے، ان سے کہا گیا تھا کہ وہ ایسے علاقوں کی نشاندہی کریں جہاں درجۂ حرارت میں تبدیلی، زرعی پیداوار پر بہت زیادہ اثرانداز ہوسکتی ہے۔
اس دوران وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ چند ممالک کو زراعت کی بحالی کے لیے نئے سِرے سے کھیتی باڑی کرنا پڑے گی اور نئی اقسام کی فصلیں کاشت کرنے پر غور کرنا ہوگا۔
اس تحقیق میں غذائی اجناس کی موجودہ پیداوار، درجۂ حرارت اور مشکلات کا مقابلہ کرنے جیسے عوامل کا تقابلی جائزہ لیا گیا اور مستقبل میں ماحولیاتی تبدیلی سے پڑنے والے ممکنہ اثرات پر غور کیا گیا۔

چند ایسے علاقوں کی نشاندہی پر کسی خاص حیرت کا اظہار نہیں کیا گیا جہاں غذائی قلت کی پیشگوئی کی گئی ہے جن میں مغربی افریقہ اور بھارت شامل ہیں۔
تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے علاقے جہاں غذائی پیداوار میں کافی استحکام ہے، وہ بھی غذائی قلت کا سامنا کرسکتے ہیں، مثال کے طور پر لاطینی امریکہ کے کچھ حصے جہاں پھلی کی پیداوار پر انحصار کیا جاتا ہے، وہاں درجۂ حرارت کی زیادتی کے باعث مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اِن مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے عالمی کوششوں میں اضافہ کیا جائے، جس سے اِن چیلنجوں پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اسی ہفتہ میں خوارک اور اناج سے متعلق امدادی تنظیم آکسفیم نے بھی ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار تیس تک کسی بھی اہم فصل کی لاگت میں اوسطاً ایک سو اسّی فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے اور اِس اضافے میں نصف سے زائد کی وجہ ماحولیاتی تبدیلی ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







