’پھر واجپئی استعفیٰ لکھنے لگے‘

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
بی جے پی کے سابق رہنما جسونت سنگھ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی 2002 کے فسادات سے اتنا برہم تھے کہ وہ مستعفی ہونا چاہتے تھے۔
بانیء پاکستان محمد علی جناح کی ستائش کی پاداش میں پارٹی سے نکالے جانے کے بعد اپنے سابق رفیق اور بی جے پی کے سینیئر رہنما ایل کے اڈوانی پر اپنے حملے میں شدت پیدا کرتے ہو ئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ مسٹر واجپئی گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے تھے لیکن مسٹر اڈوانی نے انہیں روک دیا تھا۔
سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ مسٹر واجپئی فسادات سے اتنا پریشان ہوئے کہ انہوں نے کاغذ اٹھایا اور اس پر ہاتھ سے ہی اپنا استعفیٰ تحریر کرنے لگے ۔’میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ انہوں نے میری طرف سخت نظروں سے دیکھا اورپوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہو ۔ بہت مشکل سے ہم نے انہیں استعفی دینے سے روکا۔‘
مسٹر سنگھ نے کہا کہ جب واجپئی نے مودی کے خلاف کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا تو اڈوانی نے انہیں یہ کہہ روک دیا کہ ’پارٹی کے اندر اس پر بوال (ہنگامہ )کھڑا ہو جائے گا۔‘
بی جے پی نے ان کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے واجپئی فسادات سے یقیناً فکرمند تھے لیکن انہوں نے کبھی استعفی دینے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔
واجپئی کے استعفی کے بارے میں جسونت سنگھ کا بیان کتنا صحیح ہے اس کے بارے میں دیگر ذرائع سے تصدیق ہوئے بغیر کچھ کہنا مشکل ہے ۔ لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ گجرات فسادات کے فورآ بعد بی جے پی کا ایک اہم اجلاس گوا میں ہوا تھا ۔ پارٹی کے اندر اور باہر بہت سے لو گ یہ توقع کر رہے تھے کہ اس اجلاس میں مودی کی سرزنش کی جا سکتی ہے اور انہیں وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا بھی جا سکتا ہے۔
لیکن واجپئی نے نہ صرف گجرات حکومت کا دفاع کیا تھا بلکہ گودھرا میں ٹرین جلائے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فسادات کے لیے یہ کہ کر اجتماعی طور پر مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دیا تھا کہ ’پہلے آگ کس نے لگائی۔‘
جسونت سنگھ نے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ پارٹی سے نکالے جانے کے سوال پر ان کا دفاع نہ کر کے اڈوانی نے خود کو اخلاقی طور پر پست کر لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







