آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیر: انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی گھر پر نظربندی ختم کر دی گئی
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا کی حکومت نے اپنے زیرانتظام کشمیر کی سیاسی رہنما محبوبہ مفتی کی 14 ماہ کی نظربندی ختم کرتے ہوئے اس حوالے سے پہلے جاری کردہ تمام احکامات واپس لے لیے ہیں۔
محبوبہ مفتی مسلح شورش کے بعد ہند نواز سیاست کو مقبول بنانے والی پہلی خاتون سیاست دان ہیں۔
پچھلے سال اگست میں حکومت ہند نے کشمیر کو حاصل نیم خودمختاری ختم کرکے لداخ کو ریاست سے الگ کرکے جموں کشمیر کو براہ راست مرکزی انتظام والا خطہ یعنی یونین ٹیریٹری قرار دیا تھا۔
سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور دیگر سابق وزرا اور اراکین اسمبلی کے ساتھ ساتھ محبوبہ مفتی کو بھی گذشتہ برس کے اگست میں نظربند کیا گیا ،جس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ انڈین وفاق کے اندر رہتے ہوئے خصوصی اختیارات کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعتوں کا دائرہ کار نہایت تنگ ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ظاہر ہے اس فیصلے کی مخالفت ہندنواز سیاست دان ہی کرتے، لہٰذا فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور اس سوچ کے دیگر رہنماؤں کو جیلوں یا گھروں میں نظربند کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طویل نظر بندی کے بعد معروف رہنماؤں میں سے محبوبہ مفتی کو سب سے آخر میں رہا کیا گیا ہے۔
حکومت کے محکمہ داخلہ کے حکمنامے کے مطابق محبوبہ پر عائد بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تازہ معیاد کے خاتمے سے پہلے ہی اُنہیں رہا کیا جارہا ہے۔
61 سالہ محبوبہ مفتی انڈیا کے سابق وزیرداخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی ہیں۔
مفتی سعید نے 1989 میں اُس وقت کے انڈین وزیراعظم ویریندر پرتاپ سنگھ کی کابینہ میں وزیرداخلہ کا قلمدان سنبھالا تو چند ماہ بعد ہی کشمیر میں ’پاکستانی حمایت یافتہ‘ مسلح شورش شروع ہوگئی۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نامی عسکری گروپ نے محبوبہ کی چھوٹی بہن ڈاکٹر روبیہ سعید کو اغوا کرلیا اور کئی ہفتوں تک حکومت ہند اور عسکریت پسندوں کے درمیان مذاکرات کے بعد روبیہ کے بدلے کئی عسکریت پسندوں کو رہا کیا گیا۔
بھارت میں جنتا دل کا اقتدار ختم ہونے کے بعد جب کانگریس دوبارہ برسراقتدار آ گئی تو مفتی سعید دوبارہ کانگریس میں شامل ہوگئے۔
اُسی زمانے میں محبوبہ مفتی نے سیاست میں قدم رکھا اور 1996 میں اپنے آبائی قصبے بیج بیہاڈہ سے انتخاب لڑ کر اسمبلی میں داخل ہوئیں۔ صرف تین سال کے عرصے میں محبوبہ اور مفتی سعید دونوں کانگریس سے الگ ہوگئے اور اپنی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی قائم کی۔
اس جماعت کے قیام کے صرف چھ سال بعد مفتی سعید جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ بن گئے۔
2008 میں فاروق عبداللہ کے فرزند عمرعبداللہ کشمیر کے وزیراعلیٰ بن گئے لیکن 2014 میں بھارت کا سیاسی نقشہ اُلٹ گیا اور وہاں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت بن گئی جبکہ کشمیر میں مفتی سعید کی پارٹی کو اکثریت حاصل ہوگئی، لیکن جموں صوبے میں بی جے پی کو سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوئی تھیں، لہٰذا مفتی سعید نے 'نیم علیحدگی پسندانہ' ایجنڈے پر دو مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کے باوجود بی جے پی کے ساتھ شراکت اقتدار کا معاہدہ کرلیا۔
تاہم ایک سال بعد مفتی سعید انتقال کرگئے اور کئی ماہ کی لے دے کے بعد محبوبہ نے بی جے پی کی حمایت یافتہ اتحادی حکومت کی زمام کار سنبھال لی۔
مختلف امور پر اختلافات کی بنیاد پر بی جے پی نے محبوبہ کی حکومت سے حمایت واپس لے لی اور جون 2018 میں یہاں گورنر راج نافذ کیا گیا اور چند ماہ بعد قانون ساز اسمبلی تحلیل کردی گئی۔ تب سے سیاسی خلا ہے اور اس بیچ پچھلے سال اگست میں کشمیر کو حاصل نیم خودمختاری بھی ختم ہوگئی جس کی وجہ سے مقامی سیاست دانوں کا ایجنڈا گویا کوڑے دان کی نذر ہوگیا۔
پچھلے ایک سال کے دوران محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی اپنی ہی ماں کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے نئی دہلی کے خلاف سخت ناراضگی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔ کئی ماہ کے سیاسی تعطل کے بعد جب اس سال کے وسط میں بھارت اور چین کے درمیان لداخ کی سرحد پر کشیدگی بڑھی تو فاروق عبداللہ نے کئی بار چین کا ذکر کرکے یہ باور کرایا کہ کشمیریوں کی اکثریت چین کی منتظر ہے اور چین کی بدولت کشمیریوں کو کھوئے ہوئے اختیارات واپس مل سکتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا رہائی کے بعد محبوبہ مفتی فاروق عبداللہ سے زیادہ سخت رویہ اختیار کریں گی؟
اس بارے میں پی ڈی پی کے ترجمان طاہر سعید کہتے ہیں: ’طویل نظربندی کے بعد محبوبہ جی رہا ہورہی ہیں۔ اُنھیں اپنے پارٹی کارکنوں سے بھی ملنے کا موقع نہیں ملا۔ وہ نہایت سلجھی ہوئی سیاست دان اور رہنما ہیں، وہ پارٹی کو دوبارہ منظم کریں گی۔`
واضح رہے محبوبہ کی نظربندی کے فوراً بعد اُن کی پارٹی کے درجن بھر رہنما اور سابق وزرا باغی ہوگئے اور انھوں نے سابق وزیر اور معروف تاجر الطاف بخاری کی قیادت میں ’اپنی پارٹی‘ کی بنیاد رکھی۔
محبوبہ مفتی کی رہائی کے بعد اُن کے قریبی حلقوں میں یہ سوال گشت کررہا ہے کہ تقریباً سبھی ہیوی ویٹ پارٹی رہنماؤں کی بغاوت کے بیچ محبوبہ فقط اپنی ذات کے بل پر اپنی پارٹی کو پھر ایک بار کشمیر میں متحرک کرپائیں گی۔