BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 October, 2003, 17:17 GMT 22:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف حکومت کے چار سال
مشرف حکومت کے چار سال
مشرف حکومت کے چار سال

دس اکتوبر کو پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد کو ایک سال مکمل ہوتا ہے۔ ابھی تک قومی اسمبلی میں ایل ایف او کے موضوع پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان تعطل جاری ہے اور اسمبلی میں قانون سازی کا کوئی کام ہورہا ہے اور نہ ہی حزب اختلاف کوئی اہم کردار ادا کر پا رہی ہے۔

بارہ اکتوبر کو جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے چار سال بھی پورے ہوتے ہیں اور اس بات کا امکان نہیں دکھائی دے رہا کہ وہ اقتدار چھوڑنے کے لئے تیار ہوں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے دور میں ’اصلی‘ جمہوریت کا نظام قائم ہوا، معیشت میں بہتری آئی اور دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا۔ ان کے ناقدین ان تمام دعووں کو اک مطلق العنان حکمران کی بڑ قرار دیتے ہیں۔

آپ کی نظر میں کیا پاکستان میں جمہوریت مستحکم ہوتی نظر آرہی ہے؟ کیا سیاست میں فوج کی مداخلت جاری رہے گی؟ کیا یہ مداخلت ملک کے لئے سود مند ہے؟ جنرل مشرف کے چارسالہ دورِ اقتدار پر آپ کے کیا تاثرات ہیں؟

--------------یہ فورم اب بندہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------------

چار اچھے سال

 یہ چار سال بہت اچھے تھے

احمد خان

احمد خان، جام پور، پاکستان

یہ چار سال بہت اچھے تھے۔ میں بہت خوش ہوں اور مشرف ایک زبردست آدمی ہیں۔

رانا محمد اسلم، دوہا، قطر

وہ (مشرف) برے آدمی ہیں۔ وہ ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔

شیر محمد آرائیں، کراچی، پاکستان

یہ سب سے زیادہ بدعنوان اور ناکام حکومت ہے۔ جب سربراہ ہی قانون سے بالا تر ہو تو ملک میں قانون کی حکمرانی کیسے ہو سکتی ہے۔

محمد امین عاطف، ابوظہبی

جنرل مشرف اس وقت اقتدار میں آئے جب انہیں معلوم ہوا کہ انہیں ان کے عہدے سے ہٹایا جارہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے لئے کچھ نہیں کیا ہے۔ وہ اس وقت کیا کررہے تھے جب پاکستان بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کے ہاتھ میں تھا؟

محمد کامران، پاکستان

جنرل مشرف حکومت کے چار سال بہتر رہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ اور اسٹیل ملوں کی ترقی سے ہم ملک کی حالت سمجھ سکتے ہیں۔ ہم مشرف حکومت چاہتے ہیں، نہ کہ جمالی حکومت۔ ہر غریب آدمی مشرف حکومت کی حمایت چاہتا ہے۔

عزیہ حیات، کوئٹہ

جنرل مشرف کا دور ہر طرح سے بےکار رہا ہے، بالخصوص غربت، لاقانونیت اور حزب اختلاف کے ساتھ مسائل کی وجہ سے۔

صداقت سہراب عباسی، پاکستان

میں سمجھتا ہوں کہ جنرل مشرف کو استعفی دیدینا چاہئے کیونکہ انہوں نے غربت اور بےروزگاری کے خاتمے میں ناکام رہے ہیں۔ مہنگائی روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔

گریجوایٹ اسمبلی

 جب پارلیمان کو انہوں نے بدتمیز قرار دیا تو وہ بھول گئے کہ یہ ان کی اپنی بنائی ہوئی’گریجوایٹ اسمبلی‘ ہے

مسعود احمد

مسعود احمد، ٹنڈو جام، پاکستان

صدر مشرف نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ انہیں اقتدار کی کوئی لالچ نہیں اور انہیں تو صرف حالات و واقعات نے صدر بنا دیا ہے اور اب وہ کہتے ہیں کہ میں ملک کےلئے اہم ہوں اور مجھے میرے ایل ایف او سمیت قبول کیا جائے۔ جب پارلیمان کے ایل ایف او کے خلاف احتجاج پر انہوں نے اسے بدتمیز قرار دیا تو وہ بھول گئے کہ یہ ان کی اپنی بنائی ہوئی ’گریجوایٹ اسمبلی‘ ہے جس میں اکثریت ان کی اپنی کمپنی کی ہے اور وزیر اعظم ان کے اپنے چنے ہوئے ہیں۔ ان پر کیٹو کا یہ اقتباس صادق آتا ہے کہ ’غصے میں آدمی اپنا منہ کھول دیتا ہے اور آنکھیں بند کر لیتا ہے۔‘

نصیر چوہدری، امریکہ

میرا خیال ہے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔ اتنے محتصر وقت میں کسی کےلئے بھی اس ملک کو بدلنا مشکل ہوگا۔ وہ صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔

محمد صاحبزادہ، مردان، پاکستان

مشرف یہودیوں اور عیسائیوں کے غلام ہیں اور انہیں اپنے انجام کا کوئی احساس نہیں۔ ان کا انجام دوسروں کےلئے سبق آموز ہوگا۔

عمران آزاد، لاہور، پاکستان

میرے خیال میں مشرف ان چار برسوں میں مکمل طور پر ناکام ہوئے ہیں۔ انہیں حکومت چھوڑ کر پارلیمان کو ملک چلانے دینا چاہئے۔

غلط فیصلے کی بڑی قیمت

 تعلیم کی کمی کے باعث ہمارے عوام ہر بار ایک غلط فیصلے کی بڑی قیمت چکاتے ہیں

احمد نواز

اختر نیازی، لاہور، پاکستان

جنرل پاکستان سے باہر بیٹھے ہوئے لوٹنے والوں سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ وہ بہت برے منجدھار سے نیّا بچا لائے ہیں۔ ان کی واحد غلطی انتخابات کا انعقاد ہے۔ ہمیں لٹیروں کی کوئی ضرورت نہیں۔ محتضراً یہ کہ انہوں نے ملک کو مستحکم بنایا ہے جب کہ ہم حدیبیہ شریف کے نواز شریف کے شاہی دورِ حکومت میں دیوالیہ ہونے والے تھے۔

احمد نواز، دوبئی، متحدہ عرب امارات

اگر اللہ کبھی پاکستان کو رہنما دے تو پرویز مشرف جیسا۔ وہ جس طرح ملک کی تقدیر بدل رہے ہیں ویسے شاید ہی کوئی سیاستدان کرے۔ جو بھی آئے انہوں نے لوگوں سے کئے ہوئے وعدے پورے کرنے کے بجائے صرف اپنی جیب بھرنے پر توجہ دی۔ پاکستان کے لئے جمہوریت ایک ناقص عمل ہے۔ انتخابات وہی لوگ جیتتے ہیں جن کا اثر و رسوخ ہو۔ تعلیم کی کمی کے باعث ہمارے عوام ہر بار ایک غلط فیصلے کی بڑی قیمت چکاتے ہیں۔ مشرف جس طرح سے بھی برسرِ اقتدار آئے یہ اللہ کی غنیمت ہے ورنہ پاکستان آج دیوالیہ ہوچکا ہوتا۔

امان اللہ خان، متحدہ عرب امارات

وہ (مشرف) اچھے آدمی نہیں ہیں اور ان کی حکومت ہمارے لئے اچھی نہیں ہے۔

مجاہد علی خان، کراچی، پاکستان

وہ مختلف قسم کے صدر ہیں جو قانون کا احترام کرتے ہیں اور انشاءاللہ وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ایک عظیم مملکت میں بدل دیں گے۔

اب خود ہی بلا رہے ہیں

 مشرف نے شریف دور میں بھارتی وزیرِاعظم کو سلوٹ مارنے سے انکار کر دیا تھا مگر اب خود ہی بھارت کو اپنی طرف بلا رہے ہیں۔

سیدہ ثناء بخاری

سید ثناء بخاری، راولپنڈی، پاکستان

پرویز مشرف نے نواز شریف دور میں بھارت کے وزیرِاعظم کو سلوٹ مارنے سے انکار کر دیا تھا مگر اب خود ہی بھارت کو اپنی طرف بلا رہے ہیں۔

محمود فیاض، سعودی عرب

مشرف صاحب ایک اچھے انسان، محبِّ وطن پاکستانی اور بہادر فوجی ہیں لیکن ان کا اقتدار میں آنے کا طریقہ غلط تھا اور اس طرح سے انہوں نے ایک اور غلط مثال قائم کی ہے آنے والوں کیلئے۔ جمہوریت صرف اور صرف ایک صاف و شفاف انتخابات کروانے سے قائم ہو سکتی ہے۔ موجودہ صورتِ حال تو یہ ہے کہ اسمبلیاں مشرف صاحب کی ٹھوکر پر ہیں اور فوج کو انہوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے۔ نہ وہ صدارت چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی آرمی اور اس کیلئے وہ کچھ بھی تیار کرنے کو نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ پاکستانی عوام کی خواہشات کے برعکس امریکہ کی ناجائز شریعت بھی مان رہے ہیں۔ آحری بات یہ ہے کہ فردِ واحد کی عقل ہر فیصلہ صحیح نہیں کر سکتی اور مشرف صاحب اس معاملے میں حد سے زیادہ اعتماد کا شکار نظر آتے ہیں۔

منظور احمد، کراچی

ہمیں جمہوریت کی ضرورت نہیں ہے یا شاید جمہوریت ہمیں راس نہیں آتی۔ بھٹو، بے نظیر اور نواز شریف جیسے رہنماؤں نے اس ملک کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ اسے لوٹا اور اپنے عزیز و اقارب کو طاقتور اور امیر بنایا۔ کم از کم مشرف کا ماضی بے داغ ہے اور ان پر کوئی بدعنوانی کا الزام نہیں ہے۔ وہ مخلص اور صاف گو ہیں۔ میرا خیال ہے کہ انہیں موقعہ دینا چاہئے تاکہ جو پالیسیاں ان کے دور میں بنی ہیں ان کا ثمر ہمیں نظر آئے۔ میری رائے میں انہیں انتہا پسند مسلمانوں سے ڈرنا نہیں چاہئے اور اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہئے۔ ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ ’ایل ایف او‘ رہتا ہے یا نہیں اور نہ ہی اس سے دلچسپی ہے کہ آیا یہ حقیقی جمہوریت ہے یا نہیں۔ جب تک ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں مشرف کو اقتدار میں رہنا چاہئے۔ اور پھر ویسے بھی کیا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ ہے؟

دوسرا راستہ

 کیا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ ہے؟

منظور احمد

عبدالقیوم فریدی، مسی ساگا، کینیڈا

مشرف پوری اسلامی تاریخ کے بدترین رہنما ہیں۔ ان کے دورِ اقتدار میں لفظ ’پاکستانی‘ ایک گالی بن گیا ہے۔

احمد خان، سڈنی،

میرا خیال ہے کہ پاکستان خوش قسمت ہے کہ اسے اس عالمی بحران کے موقعے پر اتنا زبردست رہنما ملا ہے۔ درحقیقت وہ (مشرف) پاکستان کی تاریخ کے بہترین رہنماؤں میں سے ہیں۔

سجاداللہ بیگ، گلگت، پاکستان

اپنے دورِ اقتدار کے پچھلے چار برس کے دوران انہوں (مشرف) نے ثابت کیا ہے کہ وہ ملک کے ساتھ پہلے کے کسی بھی حکمران سے زیادہ مخلص ہیں اس لئے ایک مخلص شحض کی حکومت بہتر ہے۔

کھانے پکانے کا تیل

 مشرف پاکستان کےلئے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے، ہاں ایف سولہ کے بدلے کھانے پکانے کا تیل ضرور حاصل کر سکتے ہیں

محمد مبین

محمد مبین، ڈیٹرائیٹ، امریکہ

جنرل پرویز مشرف پاکستان کے دیگر فوجی حکمرانوں کی طرح ملک کے لئے بے حد نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے خصوصاً اپنے گوری چمڑی والے غیر ملکی آقاؤں کے ہاتھوں قومی غیرت اور ملکی مفادات کا سودا کیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو امریکی صدر کا اچھا دوست سمجھتے ہیں لیکن پاکستان کےلئے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے، ہاں ایف سولہ کے بدلے کھانے پکانے کا تیل ضرور حاصل کر سکتے ہیں۔

سلیم عدیل، کراچی، پاکستان

۔۔۔لیکن ہمارے پاس اور راستہ ہی کیا ہے۔ سیاستدان بدعنوان اور نااہل ہیں۔

سلطان شیخ، ٹیکساس، امریکہ

وہ (مشرف) بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان پہلی دفعہ درست سمت کی طرف گامزن ہے۔

علینہ علی، ہملٹن، برطانیہ

ہم اتنے کمزور کبھی نہ تھے جتنے اب ہیں۔ ہم تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔ خدا مسلمانوں کی مدد کرے۔ مشرف کے دور میں ثابت ہوگیا ہے کہ ہم امریکہ کے غلام ہیں۔ ہر کام ان ہی کی مرضی کا ہوگا اور کسی بھی پاکستانی کی کہیں بھی کوئی حیثیت نہیں۔ جب جس کا دل چاہے اسے پکڑ لے۔

درست سمت

 پاکستان پہلی دفعہ درست سمت کی طرف گامزن ہے

سلطان شیخ

خالد عزیز، عمّان

جنرل مشرف کے چار سالوں میں تعلیم اور معیشت کو استحکام حاصل ہوا ہے۔ وہ غریب لوگوں کا خیال رکھتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں۔ وہ ایک جنرل ہیں اس لئے انہیں بہتر پتہ ہے کہ ملک کی حفاظت کیسے کرنی ہے۔ انہیں انگریزی اچھی آتی ہے اس لئے وہ بہترین ہیں۔

سید زیدی، اونٹاریو، کینیڈا

مشرف بہت اچھا کر رہے ہیں۔ انہیں ملک سے مذہبی سیاست اور تشدد کا خاتمہ کر دینا چاہئے۔ امریکہ انہیں ایسے ہی استعمال کر رہا ہے جیسے اس نے جنرل ضیاء کو کیا تھا۔ مجھے ڈر ہے کہ اپنے مفادات حاصل کرنے کے بعد وہ انہیں مشرف کی طرح ٹھکانے نہ لگا دے۔

سعید حسین شاہ، سعودی عرب

جنرل مشرف پاکستان کے لئے سب سے بہتر رہنما ہیں۔

غلام مصطفیٰ، اسلام آباد

جنرل مشرف کے چار سالہ دورِ اقتدار میں پاکستان کے لئے بہت مسائل پیدا ہوئے۔ بہت سے اقتصادی مسائل پیدا ہوئے اور لوگوں کی حالتِ زندگی بہتر نہیں ہوئی۔ حزب اختلاف کے خلاف ’ریاستی دہشت گردی‘ ہورہی ہے اور زمینی سطح پر جمہوریت نہیں ہے۔

ریاستی دہشت گردی

 حزب اختلاف کے خلاف ’ریاستی دہشت گردی‘ ہورہی ہے اور زمینی سطح پر جمہوریت نہیں ہے

باسط خان

باسط خان، پاکستان

میری عمر پچاس سال ہے اور میری زندگی میں جنرل مشرف کے چار سال سب سے بہتر رہے ہیں۔ میں ان کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے ہمیں نواز شریف اور بینظیر بھٹو جیسے بدعنوان سیاست دانوں سے محفوظ رکھا ہے۔

احتشام الحق شان، سمندری، پاکستان

وہ ایک اچھے رہنما ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ اقتدار میں لمبے عرصے تک رہیں گے۔ ہم ان کی حکومت کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے متعدد ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کیا ہے۔

فضل، اسلام آباد

جنرل مشرف کی چار سالہ دورِ حکومت پاکستانی تاریخ میں بدقسمتی کے دور کی حیثیت سے یاد کیا جائے گا۔ وزیراعظم اور پارلیمان کو کوئی اختیار نہیں ہے اور طاقت اب بھی جنرل مشرف کے ہاتھ میں ہے۔

عبدالواجد انصاری، پاکستان

جنرل مشرف سوفیصدی طور پر اقتدار کی لالچ میں ہیں۔ وہ قوم کے خادم ہیں لیکن قوم پر حکمرانی کررہے ہیں۔ ان کا دورِ اقتدار ملک کی تاریخ میں سب سے برا ہے۔

عاصم الدین، انگلینڈ

میں سمجھتا ہوں کہ جب فوج اقتدار میں ہوتی ہے تو پاکستان کے لئے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ فوج کو اپنا پیشہ ور کام کرنا چاہئے۔

عبداللہ، کراچی

ایک آمر کے بارے میں کوئی کیا رائے دے سکتا ہے۔

پاکستان کو لوٹنے والے

 پاکستان کو لوٹنے والے لوگ صدر مشرف کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

عطا اللہ خان

عطا اللہ خان، شارجہ

عین ممکن ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف فطرتاً ایک اچھے انسان ہوں لیکن وہ ان سیاستدانوں پر انحصار کر رہے ہیں جو نواز شریف اور بے نظیر کی حکومتوں میں شامل تھے۔ ملک کے غریب عوام کی زندگی میں کوئی مثبت فرق نہیں آیا اور ملک کو لوٹنے والے لوگ صدر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یہ بات بھی عیاں ہے کہ ملکی سیاست میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ نواز شریف اور بے نظیر بذاتِ خود سیاست کا حصہ تو نہیں ہیں لیکن جنرل مشرف کو وہی لوگ مضبوط بنا رہے ہیں جو سابق سربراہاں کے ساتھ رہے ہیں۔ نہ ہی ہمیں ملکی ترقی کی کوئی امید نظر آتی ہے۔

مظہر حسین تازہ گرامی، دبئی

میں صدر مشرف اور ان کی چار سالہ حکومت سے پوری طرح مطمئن ہوں۔ پاکستان کے عوام اگر صدر مشرف کو دس برس تک اقتدار میں رہنے کا موقع دیں تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان دنیا کی ایک عظیم ملک بن جائے گا۔

خطاب کی قابلیت

 خطاب کی جو قابلیت صدر مشرف کے پاس ہے وہ وزیراعظم جمالی یا واجپئی کے پاس نہیں۔

احمد نوید

احمد نوید، سیالکوٹ، پاکستان

صدر پرویز مشرف ایک باصلاحیت شخصیت ہیں اور بیشتر سیاستدانوں سے بہت بہتر ہیں۔ قوم سے خطاب کی جو قابلیت صدر مشرف کے پاس ہے وہ وزیراعظم جمالی یا واجپئی کے پاس نہیں۔ میرے خیال میں ملک میں جمہوریت ہو یا نہ ہو لیکن ملکی انتظامیہ میں باصلاحیت اور تعلیم یافتہ افراد کی موجودگی زیادہ اہم ہے۔ پاکستان میں کسی دفتر میں ملازمت حاصل کرنے کے خواہشمند کی تعلیم اور تجربہ پر غور کیا جاتا ہے لیکن ملک کے وزیراعظم یا دیگر وزراء کی تعلیمی قابلیت کو توجہ دیے بغیر ہی ان کا انتخاب کر لیا جاتا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ امریکہ کے صدر بش سی۔آئی۔اے میں کئی برس تک کام کر چکے ہیں۔ اگر ہم سب کچھ وزیراعظم جمالی پر چھوڑ دیں گے تو وہ تمام معاملات کامیابی سے نمٹانے میں ناکام رہیں گے۔

اسلام اور پاکستان

 ہمارے خیال میں اسلام، پاکستان سے زیادہ اہم ہے۔

عاصم خان

عاصم خان، لاہور، پاکستان

ابتداء میں ایسا دکھائی دیتا تھا کہ تمام معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم تمام روایتی سیاستدانوں سے تو پہلے ہی اکتا چکے تھے اور یہ سوچتے تھے کہ ان لوٹ مار کرنے والوں سے کیونکر چھٹکارا ہو گا۔ ایسے وتق میں صدر جنرل مشرف ایک ہیرو بن کر ابھرے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی پالیسیوں میں بھی تبدیلیاں آنے لگیں خاص طور پر اس وقت جب امریکی فوج نے افغانستان میں طالبان پر حملہ کر دیا۔ سب لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ طالبان کو ہمی لوگوں نے بنایا کیونکہ اس طرح آئی۔ایس۔آئی اسلام اور پاکستان کو محفوظ رکھنا چاہتی تھی۔ لیکن صدر مشرف نے ہمارے وقار کے بجائے پاکستان کی معیشت پر توجہ مرکوز کر دی۔ جنرل مشرف مجموعی طور پر مثبت نظریات کے حامل ایک اچھے انسان ہیں اور امید ہے کہ وہ ایک اچھے مسلمان بھی ہوں گے۔ ہمارے خیال میں اسلام پہلے اور پاکستان بعد میں اہم ہیں۔

محمد زبیر، فیصل آباد، پاکستان

صدر جنرل پرویز مشرف ایک ناقص الفہم شخص ہیں۔ وہ اپنے ہر اقدام کو درست سمجھتے ہیں۔ وہ کمزور اعصاب کے آدمی ہیں اور دباؤ برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ اپنے موجودہ عہدے کے اہل نہیں ہیں لیکن پھر بھی کوشش کیے جا رہے ہیں۔

کچے سیاستدان

 کچے سیاستدان پاکستان کے نظام میں خرابی کی جڑ ہیں۔

الطاف محمد

الطاف محمد، پاکستان

میں صدر جنرل پرویز مشرف کو ان کے غیر آئینی اقدام کا ذمہ دار نہیں سمجھتا اس لیے ان کی مخالفت بھی نہیں کروں گا۔ ہمارے سیاستدان ملک کا انتظام سنبھالنے کے قابل نہیں ہیں۔ جب بھی ملک میں مارشل لاء یا فوجی حکومت اقتدار میں آتی ہے تو اس کے ذمہ دار ملک کے سیاستدان ہوتے ہیں۔ آج پاکستان میں تمام مذہبی تنظیمیں جنرل مشرف کی مخالفت کیوں کر رہی ہیں، صرف اس لیے کہ وہ ایک فوجی ہیں۔ یہ قطعی ناانصافی ہے۔ پاکستان کےعوام کو کسی کے یونیفارم سے کوئی دلچسپی نہیں۔ لوگ صرف امن و امان، ملکی استحکام، روزگار کی فراہمی اور روز مرہ کی بنیادی ضروریات کے حصول کے طلب گار ہیں۔ پاکستان کو کچے سیاستدانوں کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ سیاستدان ملکی نظام میں خرابی کی جڑ ہیں۔

سہیل شیخ، لورالائی، پاکستان

بہترین آمریت سے بدترین جمہوریت بھلی۔ سن انیس سو اٹھاسی سے انیس سو ننانوے تک کے واقعات اس بات کے گواہ ہیں۔ اب کم از کم گزشتہ چار برس میں کچھ اور نہیں ہوا تو مستحکم آمریت تو قائم ہے۔ جنرل پرویز مشرف کی طویل المدت پالیسیوں کے نتائج کے لیے کتنا انتظار کرنا ہو گا، اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

نذرالحق، سعودی عرب

بلاشبہ جنرل مشرف کی شخصیت بیشتر پیشہ ور سیاستدانوں سے بہتر ہے۔ ان کے دورِ حکومت میں جو بہت بڑا کام ہو رہا ہے وہ ہے ذرائع ابلاغ کی آزادی۔ میں نے اپنی پچاس سالہ زندگی میں ایسی آزادی نہیں دیکھی۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے اچھے کام ہوئے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پرویز مشرف جتنے بھی اچھے ہو جائیں وہ ایک ادارے کی شکل اختیار نہیں کر سکتے، وہ محض ایک شخصیت ہی رہیں گے اور انہیں ایک دن یہ جگہ اور عہدہ چھوڑنا ہے۔ ان کے بعد یہ خلاء کون پُر کرے گا۔ ایوب خان کے دور میں بہت اچھے کام ہوئے لیکن ان کے جانے کے بعد جو خلاء پیدا ہوا اس سے پورے کیے دھرے پر پانی پِھر گیا۔ اس لیے مشرف نے جہاں دیگر اچھے کام کیے ہیں وہاں اداروں کو بھی مضبوط اور خود مختار کر دیں تو یہ ملک و قوم کی ایک بہت بڑی خدمت ہو گی۔

مُلا حضرات

 پاکستان کی تباہی کا واحد سبب مُلا حضرات ہیں

سیّد نقوی

سیّد نقوی، دبئی

میری رائے میں جنرل مشرف ملک کا نظم و نسق اچھی طرح سنبھال رہے ہیں۔ پاکستان صرف اس صورت میں مضبوط ہو سکتا ہے اگر ملک سے مُلا ازم کا خاتمہ کر دیا جائے کیونکہ ملک و قوم کی تباہی کا واحد سبب مُلا حضرات ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف کو ایسے تمام عناصر کے خاتمے کے لیے سخت ترین اقدامات کرنے چاہئیں۔

عامر محمود، مسیساگا، کینیڈا

میرے خیال میں ملک کی مذہبی اور نظریاتی اساس کو جتنا نقصان جنرل مشرف کے دور میں پہنچا اس کی مثال نہیں ملتی۔ مشرف محض ایک کٹھ پتلی ہیں۔ غربت، لاقانونیت اور ملکی تشخص جتنا جنرل پرویز مشرف کے دور میں پامال ہوا اتنا پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ ان کا وجود پاکستان کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔

بانئ ثانی

 صدر جنرل پرویز مشرف پاکستان کے بانئ ثانی ہیں۔

محمد اسلم

محمد اسلم، بون، جرمنی

اصل حقیقت یہ ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف پاکستان کے بانئ ثانی ہیں۔ جس وقت پاکستان کی بدعنوان حکومتیں اپنے مفادات کی خاطر ملک کو تباہ کرنے پر تُلی ہوئی تھیں تو صدر مشرف نے ملک و قوم کو تباہی سے بچایا۔ انہیں مخالف جماعتوں کی جانب سے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں دیکھنا چاہتا۔

شہزاد احمد، نیدرلینڈز

حیرت کی بات ہے کہ لوگ صدر جنرل پرویز مشرف کو قائد اور ایماندار تصور کرتے ہیں۔ ہماری قوم بہت سادہ لوح ہے اس لیے ہر کسی کو نجات دہندہ سمجھ بیٹھتی ہے۔ جیسی لولی لنگڑی جمہوریت ہمیں جنرل مشرف دے رہے ہیں، وہ اس سے گریز ہی کریں تو ان کا بڑا احسان ہو گا۔ ہم تو ویسے بھی شرم سے نظر نہیں اٹھا سکتے کیونکہ ہمارا وزیراعظم امریکہ میں یہ کہتا ہے کہ ’امریکہ سے کوئی بھی خالی ہاتھ نہیں جاتا‘۔ تُف ہے ایسا سوچنے والوں پر۔

بھٹو اور مشرف

 ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے بعد پرویز مشرف کی حکومت سب سے بہتر ہے

محمد یونس

محمد یونس، کوئٹہ، پاکستان

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے بعد جتنی بھی نئی حکومتیں آئیں ان میں صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت سب سے بہتر ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ کُل عالمِ اسلام میں جنرل مشرف سب سے بہتر سربراہ ہیں۔

اورنگ زیب، جاپان

جنرل مشرف بھی اتنے ہی برے ہیں جتنے ان سے پہلے آنے والے سربراہان تھے۔ انہوں نے لوگوں کی بہبود کے لیے کوئی خاص کام نہیں کیا۔ اس کے برعکس فوج کو بدعنوان بنانے میں مدد کی اور ملکی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ وہ جس قدر زیادہ اقتدار میں رہیں گے، لوگ اتنا ہی فوج سے متنفر ہوتے جائیں گے۔

ریحان صدیقی، دبئی

قائدِاعظم اور لیاقت علی خان کے بعد جنرل پرویز مشرف واحد مخلص انسان ہیں جو واقعی ملک کی ترقی کا خواہاں ہے۔ ہمارے سیاستدان صرف اپنی جیبیں بھرنے کے لیے ان کے خلاف ہیں۔ میری تمام سیاستدانوں سے گزارش ہے کہ ہم پر اور اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کریں اور مشرف صاحب کو اپنا کام کرنے دیں۔ ملکی خزانہ صدر مشرف کی مخلصی کا ثبوت ہے۔

قومی غیرت

کیا کوئی ہے جو ان چار سالوں میں کرسی کے بدلے نیلام ہونے والی میری قومی غیرت مجھے واپس لا دے؟

قیصر مجید

قیصر مجید، گوجرانوالہ، پاکستان

صدر جنرل پرویز مشرف جب اقتدار میں آئے تو وہ ملکی افواج کے سپہ سالار تھے مگر ان چار برسوں میں وہ ایک آمر بن کے ابھرے ہیں جنہیں نہ تو ملکی وقار کا کوئی خیال ہے اور نہ ہی ملکی سلامتی کے تقاضوں پر نظر ہے۔ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد انہوں نے قومی وقار کا جو سودہ کیا تھا تو پوری قوم کو یہ دلاسہ دیا تھا کہ اس طرح ہمارے ایٹمی اثاثے محفوظ ہو جائیں گے، کشمیر پر ہمارا موقف مانا جائے گا، ملکی معیشت سدھر جائے گی اور ملکی سرحدیں بھی محفوظ ہو جائیں گی۔ مگر افسوس کہ چار برس کا عرصہ گزر جانے کے بعد حالات یہ ہیں کہ ہماری مشرقی سرحدوں کے ساتھ ساتھ مغربی سرحدیں بھی غیر محفوظ ہو گئی ہیں۔ کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے کر ہم نے خود پابندی لگا کر بھارتی موقف کی تقویت دی ہے۔ ملک میں امن و امان اور معاشی صورت حال ناگفتہ بہ ہو چکی ہے۔ جن لوگوں کو ملک کے بدترین دشمن کہا گیا، جن پر ملکی دولت لوٹنے کے الزامات لگائے گئے، جن پر ملکی افواج کی قیادت سمیت درجنوں لوگوں کے اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا گیا لیکن جب اوپر سے حکم آیا تو ملکی قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئےانہیں پورے خاندان سمیت جدہ بھیج دیا گیا۔ پاکستان کے محافظوں کے ہاتھ طالبان اور بےگناہ و معصوم لوگوں کے خون سے رنگے ہیں۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ کیا کوئی ہے جو ان چار سالوں میں کرسی کے بدلے نیلام ہونے والی میری قومی غیرت مجھے واپس لا دے؟

زاہد حسین، کینیڈا

اگر ملک جنرل مشرف کے دور میں ترقی کررہا ہے اور ان کے فیصلے ملک کے مفاد میں ہیں تو وہ تمام بدعنوان سیاست دانوں سے بہتر ہیں۔ اب تک انہوں نے پاکستان کی بہتری کے لئے اچھا کام کیا ہے اور ہم ان کے بہتر مستقبل کے لئے دعائیں دیتے ہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جمہوریت اور ہمارے سیاست دانوں نے ہمیں صرف غربت اور بدعنوانیاں دی ہیں۔

عبداللہ، راولپنڈی

غیرجمہوری رویہ

 جنرل مشرف کے غیرجمہوری رویے کے سامنے ملک میں جمہوریت کیسے قائم ہوسکتی ہے؟

عبداللہ، راولپنڈی

جنرل مشرف کے غیرجمہوری رویے کے سامنے ملک میں جمہوریت کیسے قائم ہوسکتی ہے؟ پاکستان میں اداروں کی ترقی میں فوج کی مداخلت جاری رہے گی۔ فوج کی مداخلت داخلی طور عوام کو اور بیرونی طور پر جمہوری ملکوں کو قبول نہیں ہے۔ اگرچہ جنرل مشرف نے معیشت کی کارکردگی بہتر بنائی ہے، لیکن بینکاری، زرعی اصلاحات، تعلیم، عدلیہ اور دیگر شعبوں میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ قدامت پرست مسلمانوں کے خلاف امریکہ کو خوش کرنے کے لئے سخت کارروائی بدقسمتی کی بات ہے۔

شاجی محمد اسرائیل، دبئی

جنرل مشرف کی طرح ایک ایماندار آمر پاکستان کے کسی بھی جمہوری وزیراعظم سے بہتر ہے۔ انہوں نے پاکستان کو مشکلات سے باہر نکالا ہے۔

وسیم ارشد، کینیڈا

میں سمجھتا ہوں کہ جنرل مشرف کے چار سال اطمینان بخش رہے ہیں۔ میں انہیں ایک ایماندار قائد سمجھتا ہوں جن کے اندر دور حاضر کے دیگر سیاست دانوں کے مقابلے میں قائدانہ صلاحیت موجود ہے۔ لیکن میں اس بات پر فکرمند ہوں کہ اقتدار میں قائم رہنے کے لئے جنرل مشرف نے ان لوگوں کو حکومت میں شامل کیا ہے جو ملک اور قوم کی جانب مخلص نہیں ہیں۔

دیوی داس لدھانی، حیدرآباد

وہ کچھ بھی اچھا نہیں کررہے ہیں۔ دیگر سیاست دانوں کی طرح وہ پنجاب کے لئے بہت کچھ کررہے ہیں لیکن ہمارے سندھ کے لئے کچھ بھی نہیں۔ وہ ایک انصاف پسند حکمران نہیں ہیں۔

نامعلوم

جب وہ اقتدار میں آئے تو وہ مشرف تھے، پھر وہ ’بشرف‘ ہوگئے۔ انہیں جنرل ضیاء دوئم سمجھا جانا چاہئے۔

نصیرالحق، کینیڈا

جنرل مشرف کی ثابت قدمی

 گزشتہ چند برسوں کے چیلنج کا جنرل مشرف نے کافی ثابت قدمی سے سامنا کیا ہے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا انہوں نے بہترین طریقے سے مقابلہ کیا۔

نصیرالحق، کینیڈا

گزشتہ چند برسوں کے چیلنج کا جنرل مشرف نے کافی ثابت قدمی سے سامنا کیا ہے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا انہوں نے بہترین طریقے سے مقابلہ کیا۔ اس دوران معیشت کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ملک کے بنیادی مسائل پر کھل کر بحث ہوئی اور انہیں حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن چونکہ سیاست دانوں کے پاس ملک کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے، اس لئے وہ عوام کی توجہ دیگر معاملات کی طرف مرکوز کررہے ہیں۔

عام بخش، ہانگ کانگ

جنرل مشرف پاکستان کے لئے بہتر اور ایماندار صدر ہیں۔

احمر خان، پاکستان

میں سمجھتا ہوں کہ جنرل پرویز مشرف پاکستان کے دوسرے سیاست دانوں سے بہتر ہیں۔ اگر انہیں عظیم نہیں تو بہتر قائد ضرور کہا جاسکتا ہے۔

شعیب کامران، اسٹاک ہوم

میرے خیال میں گزشتہ بیس برسوں میں جنرل مشرف کا دور سب سے بہتر رہا ہے۔ ہماری معیشت بہتر ہوئی ہے۔ ہمارے شہری یہ بھول جاتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے کیا کیا تھا۔ پاکستان میں جمہوریت اس وقت تک کامیاب نہیں رہے گی جب تک شرح خواندگی بہتر نہیں ہوجاتی۔ فوج اور جمہوریت کا ملاجلا کردار بہتر ہے۔

فوجی لوٹ رہے ہیں

 غریب عوام کے لئے کوئی انصاف نہیں ہے۔ فوجی ملک کو لوٹ رہے ہیں

اخلاق احمد

اخلاق احمد، متحدہ عرب امارات

پاکستان میں تاریخ میں تیسرے درجے کے رہنما ہیں۔ ملک میں اظہار خیال کی آزادی اور حقوق انسانی کا تحفظ نہیں ہے۔ غریب عوام کے لئے کوئی انصاف نہیں ہے۔ فوجی ملک کو لوٹ رہے ہیں۔

جاوید سرور، سعودی عرب

میں سعودی عرب میں کام کرنے والا ایک عام پاکستانی ہوں۔ ایمانداری سے دیکھا جائے تو جنرل مشرف کا دور بہتر رہا ہے۔ سیاست دانوں نے تو ہمیشہ ملک کو لوٹا ہے۔ غیرملکی عدالتوں نے بھی ہمارے سیاست دانوں پر بدعنوانیاں ثابت کی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد