خوراک کے ’نوبیل پرائز‘ کا اعلان

،تصویر کا ذریعہ
سپین کے شمالی علاقے باسگ کے شہر سین سبشین میں ایک ایسی یونیورسٹی موجود ہے جو صرف اور صرف کھانے کی تعلیم دیتی ہے اور اب اس نے ایسے عالمی ایوارڈ کا اعلان کیا ہے جسے کھانے کا ’نوبیل پرائز‘ بھی کہا جا رہا ہے۔
باسک کلنری ورلڈ پرائز ایک ایسے شیف کو ملے گا جو ایسا کھانا ایجاد کرے جس کے معاشرے پر مثبت اثرات ہوں۔اس ایوارڈ کا اعلان گیارہ جولائی کو کیا جائےگا۔ایوارڈ جیتنے والے کو ایک لاکھ یورو کا انعام ملےگا۔

،تصویر کا ذریعہ
ہیسٹن بلومینتھل ججوں کے اس پینل کا حصہ ہیں جو ایسے شیف کا چناؤ کرے گا جس نے کھانے کے ذریعے معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کیا ہو۔
بلومینتھل کہتے ہیں: ’ہم کچن میں ہونے والے ایسے کام کی تعریف کرنا چاہتے ہیں جس کے اثرات کو کچن سے باہر بھی دیکھا جا سکے۔ یہ ایوارڈ صرف پکوان کے بارے میں ہے اور اچھے پکوان کے بارے میں۔‘
اس پینل پر برطانیہ کی نمائندگی البرٹو کرشی کر رہے ہیں جن کے اپنے کئی ریسٹورانٹ ہیں اور وہ خود چار جیلوں میں قیدیوں کو باہنر کرنے کےمنصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ وہ جیلوں میں قیدیوں کو کھانا پکانے کی تربیت دیتے ہیں تاکہ جیل سے نکل کر وہ روزگار حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں۔

،تصویر کا ذریعہ
میکسیکو سے تعلق رکھنے والی ایلیسیاگرونیلا کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے جن میں سے ایک شیف کو انعام دیا جائے گا۔ ایلیسیا گرونیلا ایک ایسے منصوبے پر کام کرتی ہیں جس کا مقصد ایسے کھانوں کو ناپید ہونے سے بچانا ہے جو ’مقامی مسالوں‘ سے تیار کیے جاتے ہیں۔
فرانسیسی شیف ڈینیل بولو کو نیویارک میں عمر رسیدہ لوگوں کے لیے صحت مند کھانا تیار کرنے کے منصوبے کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ بچوں میں موٹاپے کو کم کرنے کے منصوبے پر کام کرنے والی این کوپر کو بھی شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔
سپین سے تعلق رکھنے والے جوزے آنرش ایسے شیف ہیں جو قدرتی آفات کی صورت میں ’اپنی مدد آپ‘ کے نظریے پر کھانا پکانے کےمنصوبوں پر کام کر چکے ہیں۔ ان کا نام بھی فائنل لسٹ میں شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
باسک کلنری سنٹر کے سربراہ ماری ایزیگا کہتے ہیں کہ ابتد میں اس طرح کے شکوک کا اظہار کیاگیا تھا کہ کیا ایسا تعلیمی ادارہ چل بھی سکتا ہے جس میں صرف ایک ہی شعبہ ہو جسے آپ شعبۂ ’پکوانیات‘ کہہ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
انھوں نے کہا کہ اگر انجنیئرنگ، سائنس اور آرٹس کی یونیورسٹیاں ہو سکتی ہیں تو فوڈ یونیورسٹی کیوں نہیں ہو سکتی۔
ماری ایزیگا کہتے ہیں کہ ان کی یونیورسٹی ایک فوڈ لیبارٹری ہے اور کچن اس کے لیکچرہال ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
اس یونیورسٹی کا پہلا چار سالہ ڈگری کورس گذشتہ موسم سرما میں مکمل ہوا۔
ماری اویزگا کہتے ہیں کہ ان کی یونیورسٹی میں شیف کی تربیت کے علاوہ ریسٹورانٹ چلانے کی تربیت جیسے کورسز بھی کرائے جاتے ہیں اور فارغ التحصیل طالبعلم شیف بننے کے علاوہ دوسرے شعبوں میں بھی جا سکتے ان میں میں شاید کئی نیویارک یا شنگھائی میں ریسٹورنٹ چلا رہے ہوں گے۔
ماری اویزگا کہتے ہیں:’ کوئی بھی توقع نہیں کرتا کہ شیف کا کچن سے باہر بھی کوئی رول ہو سکتا ہے۔اب ہم سمجھتے ہیں کہ کھانا ایک ایسا ’ہتھیار‘ ہے جس کے ذریعے معاشی تخلیق نو ہو سکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ







