لندن میں ’ہوم گرون‘ کی نمائش روک دی گئی

ڈرامے میں 15-25 سال کی عمر کے 112 افراد کو کاسٹ کیا گیا اور اُن کا تعلق مختلف اقلتیوں سے تھا
،تصویر کا کیپشنڈرامے میں 15-25 سال کی عمر کے 112 افراد کو کاسٹ کیا گیا اور اُن کا تعلق مختلف اقلتیوں سے تھا

برطانیہ میں نوجوان افراد میں شدت پسندی کے رجحان کی اسباب جاننے کے بارے میں متنازع ڈرامے کی نمائش روک دی گئی ہے۔

لندن کے سکول میں ’ہوم گرون‘ نامی ڈراما 12 اگست کو پیش کیا جانا تھا لیکن نیشنل یوتھ تھیٹر پروڈکشن نے نمائش روک دی ہے۔

ڈرامے کے تخلیق کاروں کا کہنا ہے کہ بیرونی دباؤ کی وجہ سے ’اُن کی آواز بند‘ کی گئی ہے جبکہ نیشنل یوتھ تھیٹر کا کہنا ہے کہ ڈراما معیار کے مطابق نہیں ہے۔

تھیٹیر نے کہا کہ ’غور و فکر کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہم اپنے لیے جو تمام اہداف مقرر کیے تھے وہ حاصل نہیں کر پا رہے ہیں اور ہماری شائقین کی توقعات کو پورا نہیں ہوں رہیں۔

ڈرامے کی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ انھیں ڈرامے کی منسوخی کے بارے میں پہلے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔

’ہوم گرؤن‘ کی کہانی لندن کے سکول سے لاپتہ ہونے والی طالبات پر مبنی ہے جو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے لیے شام گئیں تھیں۔

ڈرامے میں 15-25 سال کی عمر کے 112 افراد کو کاسٹ کیا گیا اور اُن کا تعلق مختلف اقلتیوں سے تھا۔

ڈرامے میں نوعمر جوانوں میں شدت پسندی اور دولتِ اسلامیہ سے متعلق رجحان کی وجہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی۔

ڈراما بنانے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ نیشنل یوتھ تھیٹیر نے سکرپٹ کی منظوری دے دی تھی اور اُس وقت معیار سے متعلق خدشات کا اظہار نہیں کیا گیا تھا۔