’کرکٹ سے ڈر نہیں لگتا صاحب ۔۔۔‘

،تصویر کا ذریعہK C BOKADIA
بھارت میں دو چیزیں بہت مقبول ہیں، پہلی بالی وڈ اور دوسری کرکٹ۔ یا پھر کہہ سکتے ہیں پہلی کرکٹ اور دوسری بالی وڈ۔
لیکن مشکل حالات تب پیدا ہوتے ہیں جب سینما کا ٹکراؤ کرکٹ سے ہوتا ہے۔
یہ ٹکراؤ جلد دیکھنے کو ملے کیونکہ 14 فروری سے کرکٹ عالمی کپ شروع ہو رہا ہے۔
ورلڈ کپ آن تو فلمیں فلپ؟
ویسے تو سال 2015 کا ورلڈ کپ آسٹریلیا اور نیوزی میں کھیلا جائے گا لیکن اس کا اثر ہندوستان میں ریلیز ہونے والی فلموں پر ہو سکتا ہے۔
اگر اعداد و شمار کو دیکھیں تو جس سال ورلڈ کپ کھیلا گیا ہے اس سال ورلڈ کپ کے دوران ریلیز ہونے والی بالی وڈ کی فلموں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
2007 میں ورلڈ کپ کے دوران ریلیز ہونے والی فلمیں جیسے ’بھیجا فرائی،‘ ’دہلی ہائٹس،‘ ’جسٹ میرِڈ‘ اچھا بزنس نہ کر سکیں۔
وہیں سال 2011 میں بھی ’گیم‘ اور ’یہ فاصلے‘ جیسی فلاپ فلمیں سامنے آئیں۔
سال 2003 میں تو اکشے کمار نے اپنی فلم ’انداز‘ کو عالمی کپ کے آخری دن تک ریلیز سے بچا کر رکھا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن کیا فلموں کا بزنس ورلڈ کپ جیسی چیزوں سے واقعی متاثر ہوتا ہے؟
اس سوال پر فلم کے کاروبار کے ماہر امود مہرا کہتے ہیں: ’متاثر تو اتنا ہوتا ہے کہ کوئی بھی کمپنی اس دوران اپنی فلم ریلیز نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن ہمارے پاس فلم کو ریلیز کرنے کے لیے 52 ہی ہفتے ہوتے ہیں، اور بعض کمپنیاں امید کرتی ہیں کہ شاید کوئی اور بڑی فلم نہ ہونے کی وجہ ان کی فلم اپنی لاگت نکال لے۔‘
کون سی فلمیں داؤ پر؟

،تصویر کا ذریعہAP
سال 2015 میں کرکٹ ورلڈ کپ کے کیلنڈر پر نظر ڈالی جائے تو یہ 14 فروری سے شروع ہو کر 29 مارچ تک جاری رہے گا۔
ایسے میں جو فلمیں اس زد میں آتی ہیں وہ ہیں ارجن رامپال اور رنبیر کپور کی فلم ’رائے‘ اور ملکہ شیراوت کی ’ڈرٹي سیاست۔‘
یہ وہ دو فلمیں ہیں جنھیں عالمی کپ سے ایک دن پہلے 13 فروری کو ریلیز کیا جائے گا اور انھیں ورلڈ کپ کا خمیازہ باکس آفس پر اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
فلم ’رائے‘ کے اداکار ارجن رامپال کہتے ہیں: ’میں تو دعا کر رہا ہوں کہ وہاں (آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ) میں بارش ہو جائے، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ایسے وقت ریلیز کرنے کا نقصان تو ہوگا ہی۔ اوپر سے پاکستان کا میچ بھی دو دن بعد ہی ہے۔ اب فلم کو تو جھٹکا لگے گا ہی۔‘
فلم ڈائریکٹر فرح خان بھی اس کی حمایت کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’بھارت میں دو ہی جذبے ہیں ایک کرکٹ اور دوسرا سینما۔ جب بات ورلڈ کپ کی ہو تو نقصان تو فلموں کو ہی اٹھانا پڑے گا۔‘
لیکن ایسا نہیں کہ بالی وڈ میں سبھی لوگ ورلڈ کپ سے ڈر کر بیٹھے ہیں۔ کچھ لوگوں کو اپنی کامیابی کی امید بھی ہے۔
کرکٹ سے ڈر نہیں لگتا صاحب!

،تصویر کا ذریعہAmitabh Bacchan Facebook Page
13 فروری کو ہی ریلیز ہونے والی فلم ’ڈرٹي سیاست‘ کی اداکارہ ملکہ شیراوت کہتی ہیں: ’بھارت میں اتنے لوگ ہیں کہ فلموں کو ناظرین مل جائیں گے۔ میں کرکٹ میں دلچسپی نہیں رکھتی اور میرے جیسے اور لوگ بھی ہوں گے جو ہماری فلمیں دیکھنے آئیں گے۔‘
ویسے بالی وڈ سے ملکہ اکیلی نہیں ہیں جو ایسا سوچتی ہیں کیونکہ عالمی کپ کے دوران ہی اور بھی کئی فلمیں ریلیز ہو رہی ہیں۔
امیتابھ بچن کی ’پيكو‘ اور رنبیر کپور کی ’بامبے ویلویٹ‘ کچھ ایسی ہی فلمیں ہیں۔
امود مہرا کہتے ہیں ’اگر بھارت کی ٹیم ورلڈ کپ سے جلدی باہر ہو گئی تو شاید ان فلموں کی زبردست چاندی بھی ہو جائے کیونکہ لوگ ہار کا غم بھلانے کو سینما کا ہی رخ کریں گے۔‘
ویسے ملکہ کے دعوے کو اور مضبوط کرنے کے لیے کچھ فلموں کے اعداد و شمار دیے جا سکتے ہیں جنھوں نے ورلڈ کپ کے سیزن میں بھی اچھا بزنس کیا۔
1999 میں آنے والی ڈیوڈ دھون کی فلم ’بیوی نمبر 1‘ اور سال 2011 میں آئی ’تنو ویڈس منو‘ نے اپنی لاگت سے زیادہ کمائی کی تھی۔







