دیوداس کی پاروتی، آندھی کی آرتی دیوی انتقال کر گئیں

بھارتی فلمی صنعت بالی وڈ کی بنگالی اور ہندی فلموں کی مشہور اداکارہ سچترا سین 82 سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔
سچترا سین گزشتہ کچھ دنوں سے کافی بیمار تھیں۔ وہ بالی وڈ اداکارہ مون مون سین کی والدہ ہیں۔
انہیں 24 دسمبر کو کولکاتہ کے ایک ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ان کے پھیپھڑوں میں پانی بھر گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح انہوں نے آخری سانس لی۔ تاہم ہسپتال کی طرف سے اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
سچترا ذیابیطس کی مریضہ بھی تھیں۔
انہوں نے 1952 میں بنگالی فلم سے اپنا کریئر شروع کیا اور کئی مشہور فلمیں کیں۔ انہوں نے ہندی فلموں میں بھی کام کیا لیکن ان کی اصل شناخت بنگالی فلموں سے ہی بنی۔
بمل رائے کی مشہور فلم ’دیوداس‘ میں انہوں نے پارو کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم میں دلیپ کمار، موتی لال اور وجنتی مالا بھی تھیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے 1966 کی فلم ’بمبئی کا بابو‘ میں سدا بہار اداکار دیو آنند کے ساتھ کام کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلمی سفر

،تصویر کا ذریعہIndiaToday
سچترا سین کو 1975 میں ریلیز ہوئی فلم ’آندھی‘ سے سب سے زیادہ جانا جاتا ہے۔ گلزار کی ہدایت میں بنی اس فلم میں وہ سنجیو کمار کے ساتھ نظر آئی تھیں۔ اس فلم کے گانے بہت مشہور ہوئے تھے۔
فلم کامیاب بھی رہی اور متنازع بھی کیونکہ مبینہ طور پر سچترا کا کردار اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے ملتا جلتا تھا۔
سال 1978 میں ریلیز ہوئی بنگالی فلم ’پرني پاشا‘ کے بعد انہوں نے فلموں سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس کے بعد وہ عوامی زندگی سے دور ہو گئی تھیں۔
وہ کولکتہ میں واقع اپنے گھر میں ہی زیادہ تر وقت گزار رہی تھیں۔
میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق سال 2005 میں انہوں نے دادا صاحب پھالکے ایوارڈ لینے سے بھی انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ کسی کو نظر نہیں آنا چاہتی تھیں۔







